نئی دہلی (دی تھرسڈے ٹائمز) — بھارتی اسٹاک مارکیٹ جمعرات کو مسلسل چوتھے روز مندی کا شکار رہی، جہاں عالمی سطح پر کمزور معاشی اشاروں، تجارتی غیر یقینی صورتحال اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے مسلسل انخلا نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق، دھاتوں، آئی ٹی اور آئل اینڈ گیس سیکٹر کے شیئرز میں نمایاں فروخت کے باعث بینچ مارک انڈیکسز دباؤ میں رہے، جبکہ غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمایہ نکالنے کا سلسلہ بھی برقرار رہا۔
اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک نئے پابندیوں کے بل کی حمایت نے سرمایہ کاروں میں مزید تشویش پیدا کر دی ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس مجوزہ بل کے تحت روسی تیل خریدنے والے ممالک پر پانچ سو فیصد تک ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں بڑی ہلچل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف روس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وہ ممالک بھی متاثر ہوں گے جو روسی تیل پر انحصار کرتے ہیں، جس میں بھارت بھی شامل ہے۔ بھارت کی توانائی درآمدات میں روسی تیل کا حصہ حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر بڑھا ہے، اور کسی بھی سخت امریکی اقدام سے بھارتی معیشت اور مارکیٹ پر دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، جب تک عالمی سطح پر تجارتی اور جغرافیائی سیاسی صورتحال میں واضح بہتری نہیں آتی، بھارتی مارکیٹ میں دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے، اور سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔





