انقرہ (تھرسڈے ٹائمز) — بلومبرگ کے مطابق، ترکی سعودی عرب اور جوہری صلاحیت رکھنے والے پاکستان کے درمیان قائم دفاعی اتحاد میں شمولیت کا خواہاں ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔ امریکی جریدہ بلومبرگ کیمطابق انقرہ اس اتحاد میں شامل ہونے کے لیے سنجیدہ اور تفصیلی بات چیت کر رہا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان یہ دفاعی معاہدہ گزشتہ برس ستمبر میں طے پایا تھا، جس میں یہ شق شامل ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق نیٹو کے آرٹیکل فائیو سے مشابہ ہے، جس کے تحت ایک رکن پر حملہ تمام اراکین پر حملہ سمجھا جاتا ہے۔ ترکی نیٹو میں امریکہ کے بعد سب سے بڑی فوجی قوت رکھتا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق، ترکی کی شمولیت سے متعلق مذاکرات اب انتہائی پیش رفتہ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور معاہدہ طے پانے کا امکان “بہت زیادہ” ہے۔ ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تینوں ممالک کے درمیان فریم ورک، ذمہ داریوں اور دفاعی تعاون کے عملی پہلوؤں پر کافی حد تک اتفاق ہو چکا ہے۔
تجزیہ کاروں نے بلومبرگ کو بتایا کہ اگر ترکی اس اتحاد میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ ایک نئی علاقائی سکیورٹی صف بندی کو جنم دے گا، جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور ممکنہ طور پر افریقہ تک پھیل سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب کئی ممالک روایتی اتحادی ڈھانچوں پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں اور متبادل دفاعی شراکت داریوں کی تلاش میں ہیں۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، ترکی کی شمولیت نہ صرف اتحاد کی عسکری صلاحیت میں اضافہ کرے گی بلکہ اسے جغرافیائی وسعت بھی دے گی، جس سے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ ایک مضبوط، کثیر الخطی دفاعی بلاک کی تشکیل ممکن ہو سکے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ اتحاد کا مقصد محض علامتی نہیں بلکہ عملی اجتماعی دفاعی ردعمل ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن کے خلاف کارروائی کو تینوں ممالک کے خلاف کارروائی تصور کیا جائے گا۔





