اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — گزشتہ برس ستمبر میں جب سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا تو یہ محض ایک رسمی عسکری پیش رفت نہیں تھی، بلکہ ایک واضح اشارہ تھا کہ خطے اور اس سے باہر طاقت کا توازن خاموشی سے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ اب بنگلہ دیش، عراق، انڈونیشیا اور لیبیا کی نیشنل آرمی کی جانب سے پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر جنگی طیارے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اسی بدلتی ہوئی عالمی حقیقت کی عکاس ہے۔
برطانوی جریدے دی ٹیلیگراف کے مطابق، پاکستان کے مقامی طور پر تیار کردہ جے ایف-17 تھنڈر کے لیے متعدد ممالک کے ساتھ معاہدے طے پا چکے ہیں، جبکہ کچھ حتمی مراحل میں ہیں۔ کم لاگت، تیز رفتار اور عملی جنگی صلاحیتوں کا امتزاج رکھنے والا یہ طیارہ اس وقت عالمی دفاعی منڈی میں غیر معمولی توجہ حاصل کر رہا ہے—اور اس کی بنیادی وجہ محض تکنیکی خصوصیات نہیں بلکہ حالیہ جنگی تجربہ ہے۔
مئی میں بھارت کے ساتھ چار روزہ محدود مگر شدید تنازعے کے دوران جے ایف-17 کو عملی طور پر آزمایا گیا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس دوران اس کے طیاروں نے فرانسیسی ساختہ رافیل جنگی جہازوں سمیت بھارتی فضائیہ کے متعدد طیارے مار گرائے۔ اگرچہ بھارت نے نقصانات تسلیم کیے، مگر تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ اس ابہام کے باوجود، عالمی دفاعی مبصرین اس حقیقت پر متفق نظر آتے ہیں کہ جے ایف-17 نے اپنی ساکھ محض کاغذی اعداد و شمار پر نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں قائم کی۔
اسلام آباد کے قریب پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں تیار ہونے والا یہ ہلکا پھلکا، کثیرالمقاصد جنگی طیارہ چار اعشاریہ پانچ جنریشن کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا بلاک ٹو ویرینٹ جدید اے ای ایس اے ریڈار، بیونڈ ویژول رینج میزائلوں اور جدید الیکٹرانک وارفیئر نظام سے لیس ہے۔ چینی ساختہ پی ایل-10 ای میزائلوں کے ساتھ یہ طیارہ کم اور درمیانی بلندی پر غیر معمولی پھرتی، درست نشانہ اور بقا کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم جے ایف-17 کی اصل طاقت اس کی قیمت ہے۔ جہاں رافیل، یورو فائٹر ٹائفون اور امریکی ایف-35 جیسے طیارے نوے سے ایک سو ملین ڈالر فی یونٹ تک پہنچ چکے ہیں، وہیں جے ایف-17 کی قیمت پچیس سے تیس ملین ڈالر کے درمیان رہتی ہے۔ یہی فرق اسے اُن ممالک کے لیے پرکشش بناتا ہے جو جدید فضائی صلاحیت تو چاہتے ہیں مگر دفاعی بجٹ کی حدود سے باہر نہیں جانا چاہتے۔
یہی وجہ ہے کہ جے ایف-17 پہلے ہی میانمار، نائجیریا اور آذربائیجان جیسے ممالک کی فضائی افواج میں شامل ہو چکا ہے۔ اب بنگلہ دیش کے ساتھ معاہدہ قریب ہے، انڈونیشیا چالیس سے زائد طیاروں کی ممکنہ خریداری پر غور کر رہا ہے، جبکہ عراق نے بھی باضابطہ دلچسپی ظاہر کی ہے۔ لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ اربوں ڈالر کا معاہدہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کو مزید تقویت دیتا ہے۔
یہ پیش رفت محض دفاعی برآمدات تک محدود نہیں۔ پاکستان ایک ایسے وقت میں یہ کامیابی حاصل کر رہا ہے جب وہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت شدید معاشی دباؤ میں ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، اگر پاکستان ایک مستحکم دفاعی برآمدی صنعت قائم کر لیتا ہے تو اس سے نہ صرف قیمتی زرِ مبادلہ حاصل ہو گا بلکہ عالمی سطح پر اس کا اسٹریٹجک وزن بھی بڑھے گا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا یہ بیان کہ پاکستان کی دفاعی صنعت کی کامیابی ملک کی معاشی سمت بدل سکتی ہے، محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک ابھرتے ہوئے امکان کی طرف اشارہ ہے۔ ایک ایسا امکان جس میں پاکستان محض خریدار نہیں بلکہ فراہم کنندہ کے طور پر عالمی دفاعی منظرنامے میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔
جے ایف-17 کی کہانی دراصل پاکستان کی اس خاموش مگر گہری تبدیلی کی علامت ہے جس میں عسکری صلاحیت، سفارت کاری اور معیشت ایک ہی محور پر آ کر جُڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ سوال اب یہ نہیں کہ دنیا پاکستان کے اس طیارے کو کیوں دیکھ رہی ہے سوال یہ ہے کہ پاکستان اس موقع کو کس حد تک ایک دیرپا قومی حکمتِ عملی میں ڈھال پاتا ہے۔







