غزہ پیس پلان: پاکستان کو مجوزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت، پاکستان پر بڑھتے عالمی اعتماد کی عکاس

غزہ میں جنگ کے خاتمے، انسانی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے امریکی صدر کے مجوزہ غزہ پیس پلان کے تحت پاکستان کو امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت موصول ہونا پاکستان پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد، اس کے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور بین الاقوامی معاملات میں اس کے مؤثر کردار کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — غزہ فلسطین میں جاری جنگ کے خاتمے، انتظامی و انسانی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے غزہ پیس پلان اور اس کے تحت مجوزہ پیس بورڈ / بورڈ آف پیس جیسے سفارتی و انتظامی اقدامات اس وقت عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان تجاویز کو جنگ بندی کے بعد کے مرحلے میں غزہ کے استحکام اور انسانی بحران سے نمٹنے کی ایک ممکنہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں صدر ٹرمپ کی جانب سے متعدد ممالک کے سربراہان کو دعوت نامے ارسال کیے گئے ہیں تاکہ وہ مجوزہ پیس بورڈ کا حصہ بنیں اور جنگ بندی کے بعد غزہ میں استحکام، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، بنیادی شہری سہولیات کی بحالی اور طویل المدتی سیاسی حل کی سمت مشترکہ کوششوں میں شریک ہوں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظمِ پاکستان کو بھی اس مجوزہ بورڈ میں شمولیت کی باضابطہ دعوت موصول ہوئی ہے۔

سفارتی حلقوں کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف مثبت اور باوقار سمجھی جا رہی ہے بلکہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی بھی ہے۔ عالمی سطح پر ایک نہایت حساس اور پیچیدہ مسئلے پر پاکستان کو مشاورت اور ممکنہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کی دعوت اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ، سفارتی وزن اور قابلِ اعتماد حیثیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ماہرینِ امورِ خارجہ کے مطابق یہ کامیابی کسی ایک لمحاتی اقدام کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل ریاستی سفارت کاری، بروقت رابطہ کاری اور قومی مفادات سے ہم آہنگ ایک محتاط و مؤثر حکمتِ عملی کا حاصل ہے۔ اس عمل میں سول ڈپلومیسی کے ساتھ ساتھ ملٹری ڈپلومیسی کی مربوط کاوشیں بھی شامل رہی ہیں، جس کے باعث پاکستان کو عالمی برادری ایک ذمہ دار، بالغ نظر اور حل کی طرف رہنمائی کرنے والے فریق کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

حکومتی ذرائع اس امر پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کی ممکنہ شرکت یا مثبت ردِعمل کسی کیمپ یا بلاک کی سیاست سے جڑا ہوا نہیں، بلکہ اس کی بنیاد فلسطینی عوام، بالخصوص غزہ کے بے گناہ اور نہتے شہریوں کی تکالیف کم کرنے، فوری انسانی امداد کی فراہمی اور ایک منصفانہ، پائیدار سیاسی حل کی عملی حمایت پر ہے۔

پاکستان کا موقف اس حوالے سے ہمیشہ واضح رہا ہے۔ پاکستان فلسطین کے حقِ خود ارادیت، شہری آبادی کے تحفظ، فوری جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد اور جنگ کے بعد جامع تعمیرِ نو کی مستقل حمایت کرتا آیا ہے۔ ایسے میں یہ دعوت پاکستان کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ محض سفارتی بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی سطح پر اپنا کردار ادا کرے، بین الاقوامی فورمز پر انسانی بحران کے خاتمے کے لیے مؤثر آواز بلند کرے، اور ان فیصلوں میں اپنا اصولی موقف شامل کرے جو براہِ راست فلسطینی عوام کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی مکینزمز میں پاکستان کی موجودگی اس امر کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتی ہے کہ فیصلے یک طرفہ نہ ہوں، فلسطینی مفادات کا تحفظ کیا جائے، امدادی اور بحالی کے اقدامات شفاف اور منصفانہ رہیں، اور مسلم ممالک کے درمیان ایک مربوط اور مضبوط موقف ابھر کر سامنے آئے۔

مجموعی طور پر یہ دعوت پاکستان کے لیے اعزاز، اعتماد اور ذمہ داری تینوں کا امتزاج ہے۔ یہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ پاکستان اس موقع کو انسانیت، امتِ مسلمہ اور انصاف پر مبنی دیرپا سیاسی حل کے بڑے مقصد کے لیے ایک مثبت، متوازن اور تعمیری کردار میں ڈھالے۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: