اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — امریکا اور پاکستان نے مشترکہ فوجی مشق انسپائرڈ گیمبٹ کے تازہ ترین مرحلے کو کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ عزم مزید واضح ہو گیا ہے۔
یہ دو ہفتوں پر محیط مشق 16 جنوری کو پاکستان کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر میں اختتام پذیر ہوئی، جہاں امریکی اور پاکستانی افواج نے مشترکہ تربیتی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق مشق کا بنیادی مقصد انفنٹری مہارتوں میں بہتری، جدید حربی حکمتِ عملی کی تربیت اور انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کے لیے باہمی صلاحیت کو فروغ دینا تھا، تاکہ بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
انسپائرڈ گیمبٹ سیریز کا یہ تیرھواں ایڈیشن تھا، جو 1995 سے مسلسل جاری ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس تسلسل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان فوجی سطح پر روابط اور تعاون سیاسی حالات سے قطع نظر ایک مستقل بنیاد پر قائم ہیں۔
مشق کے دوران 15 جنوری کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں ڈسٹنگوشڈ وزیٹرز ڈے کی تقریب بھی منعقد ہوئی، جس میں امریکا کی نائب چیف آف مشن اور قائم مقام سفیر نٹالی بیکر، اعلیٰ امریکی فوجی حکام اور پاک فوج کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ تقریب میں شرکا کو مشق کے اغراض و مقاصد، تربیتی مراحل اور عملی مظاہروں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ دونوں ممالک کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ہم آہنگی کو سراہا گیا۔
امریکی اور پاکستانی حکام کے مطابق اس مشق کا مقصد انسدادِ دہشت گردی کے تجربات کا تبادلہ، مشترکہ ڈرلز اور طریقۂ کار میں بہتری اور دونوں افواج کے درمیان عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی مشترکہ سرگرمیاں خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا کو مسلسل سکیورٹی خدشات اور غیر روایتی خطرات کا سامنا ہے۔




