اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے مجوزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی باضابطہ دعوت موصول ہوئی ہے، جس کی تصدیق وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے جمعے کے روز کی۔ یہ پیش رفت غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے، جنگ کے بعد بحالی اور مستقبل کے انتظامی و سیاسی ڈھانچے پر عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں میں پاکستان کے ممکنہ کردار کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کی بحالی اور فلسطین مسئلے کے پائیدار حل کے لیے عالمی کوششوں میں مکمل طور پر متحرک رہے گا، اور اس ضمن میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ دعوت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی توجہ بتدریج عسکری کارروائیوں سے ہٹ کر جنگ بندی کے بعد کے مرحلے، انسانی امداد کی فراہمی، انتظامی استحکام اور تعمیرِ نو کے امکانات پر مرکوز ہو رہی ہے۔ مجوزہ بورڈ آف پیس سے متعلق توقع کی جا رہی ہے کہ یہ منتخب ممالک پر مشتمل ایک ایسا فورم ہوگا جو غزہ میں امن کے بعد کے انتظامات، امدادی رابطہ کاری اور سیاسی عمل کی سمت رہنمائی فراہم کرے گا۔
پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ فلسطین سے متعلق اس کا اصولی موقف غیر متبدل ہے۔ اسلام آباد بدستور ایک خودمختار، متصل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
حکام کے مطابق پاکستان کی کسی بھی ممکنہ شمولیت یا فیصلہ سازی کا عمل سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ کے ذریعے اجتماعی طور پر طے کیا جائے گا، جس میں قومی مفادات اور فلسطینی عوام کی خواہشات کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔
بین الاقوامی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو اس مجوزہ فورم میں شامل کیا جاتا ہے تو وہ انسانی امداد، استحکام اور بین الاقوامی قانون پر مبنی سیاسی حل کی حمایت میں ایک تعمیری اور متوازن کردار ادا کر سکتا ہے۔




