راولپنڈی (تھرسڈے ٹائمز) — سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اگر مستقبل میں اس معاملے پر کوئی فیصلہ کیا بھی گیا تو وہ مکمل آئینی طریقہ کار کے تحت پارلیمنٹ کے ذریعے ہوگا اور وہ فیصلہ پاکستان کے عالمی، سفارتی اور قومی مفادات کے مطابق ہوگا۔
سیکیورٹی بریفنگ میں اس امر پر غیر معمولی یکسوئی کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے فلسطینی عوام کو نقصان پہنچے یا جو ان کے خلاف جاتا ہو۔ ذرائع نے دو باتیں انتہائی صراحت سے واضح کیں۔ پہلی یہ کہ پاکستان فلسطینی عوام کے مفادات کے منافی کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔ دوسری یہ کہ پاکستان کسی ایسی مہم یا اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا جس کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا ہو۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی، جرائم اور سیاسی گٹھ جوڑ کو توڑنے کی بات سب سے پہلے نیشنل ایکشن پلان میں کی گئی تھی، جسے 2014 میں تمام صوبائی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ نیشنل ایکشن پلان ایک قابلِ عمل اور جامع دستاویز ہے جس پر مؤثر عمل درآمد ہی دہشت گردی، جرائم اور سیاسی گٹھ جوڑ کے خاتمے کی واحد پائیدار راہ ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پنجاب اور سندھ میں نیشنل ایکشن پلان پر مستقل اور مربوط عمل درآمد کے نتیجے میں دہشت گردی اور جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے۔ بلوچستان میں بھی حالیہ مہینوں کے دوران اس پر سنجیدہ کام ہوا ہے جس کے باعث دہشت گردی اور اسمگلنگ میں خاطر خواہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب یہی توقع خیبر پختونخوا حکومت سے بھی کی جا رہی ہے کہ وہ نیشنل ایکشن پلان پر اسی یکسوئی کے ساتھ عمل درآمد یقینی بنائے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاک فوج کی ایک بڑی تعداد مغربی سرحد اور اس سے ملحقہ علاقوں میں تعینات ہے جبکہ کشمیر میں بھی فوج لائن آف کنٹرول پر ہمہ وقت موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل اور عسکری قیادت نے یہ اسٹریٹجک فیصلہ کیا تھا کہ ان محاذوں سے فوج ہٹائے بغیر بھارت کو بھرپور جواب دیا جائے گا، اور پھر اللہ کی نصرت سے ایسا ہی کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ معرکۂ حق کے دوران حکومتِ پاکستان، تمام ریاستی اداروں اور عوام نے غیر معمولی عزم کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور تین دن کے اندر فیصلہ کن کامیابی حاصل کی گئی۔ اسی دوران فتنہ الہندوستان نے بلوچستان میں دہشت گردی کے 33 حملے کیے، جن کا مقصد پاکستان کو مغربی سرحد پر الجھا کر اندرونی عدم استحکام پیدا کرنا تھا، تاہم پاک فوج نے ہر محاذ پر دشمن کو ناکام بنایا۔
ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل نے تین سال قبل پشاور میں پولیس اہلکاروں سے خطاب کے دوران دہشت گردوں کو “خوارج” قرار دیا تھا اور اس حوالے سے قرآن و حدیث سمیت اسلامی حوالہ جات بھی پیش کیے تھے۔ آج پورا ملک ان عناصر کو فتنہ الخوارج کے نام سے جانتا ہے، جسے بیانیہ کے محاذ پر قوم کی بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے خبردار کیا کہ اب جو بھی فتنہ الخوارج کی حمایت کرے گا یا ان کی سہولت کاری کی کوشش کرے گا، وہ ریاستِ پاکستان کے خلاف کھڑا ہونے کے مترادف ہوگا، اور اس کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
بریفنگ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے، اور اس کے فیصلے جلد بازی میں نہیں ہوتے۔ پاکستان کا تذویراتی صبر، سیاسی و سفارتی سوجھ بوجھ اور عالمی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجربہ کار سیاست دان اور بیوروکریٹس اس امر کی ضمانت ہیں کہ ہر فیصلہ بدلتے عالمی رجحانات کے مطابق ریاستی مفاد میں کیا جاتا ہے۔
ذرائع نے یاد دلایا کہ پاکستان نے تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اپنا ایٹمی پروگرام مکمل کیا، میزائل سسٹم قائم کیا، علاقائی اور عالمی فورمز پر مثبت نمائندگی کی اور تمام بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کیے۔ پاکستان ہر صورت سب سے پہلے اپنے قومی مفادات اور عوام کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔
افغانستان کے حوالے سے سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے ہمیشہ مختلف افغان گروہوں اور حکومتوں کے ساتھ صبر اور برداشت کی پالیسی اپنائی ہے اور کابل میں جو بھی برسرِ اقتدار رہا، پاکستان نے اس سے روابط رکھے۔ دوحہ معاہدے کے بعد پاکستان نے افغان عبوری حکام سے مثبت اور تعاون پر مبنی ردعمل کی توقع کی تھی، مگر بدقسمتی سے یہ توقع پوری نہ ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق افغان سرزمین کو فتنہ الخوارج کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے دیا گیا، جہاں انہیں دوبارہ منظم ہونے، تربیت حاصل کرنے اور حملے کرنے کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا گیا۔ سیکیورٹی بریفنگ میں اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور عوام کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔




