نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی اخبار ’’دی وال سٹریٹ جرنل‘‘ نے شامی صدر احمد حُسین الشَّرع کو برق رفتار فوجی کارروائیوں کیلئے سیاسی حکمتِ عملی میں مہارت رکھنے والا جَری لیڈر قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ الشَّرع کی قیادت میں شامی افواج نے مُلک کے شمال مشرقی حصہ میں ایک بڑی فتح حاصل کر کے شام کے اہم علاقوں پر دمشق کا قبضہ مضبوط کر لیا ہے جس کے دور رس اثرات شام سمیت پورے خطہ پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
شام کے صدر احمد حُسین الشَّرع نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں کُرد ملیشیا کے خلاف زبردست فوجی کارروائی کے ذریعہ ایک بار پھر خود کو فوجی حکمتِ عملی کا ماہر اور ایسا نِڈَر راہنما ثابت کیا ہے جو اپنے دیرینہ مقاصد کے حصول کیلئے امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی داؤ پر لگانے کیلئے تیار ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے شام پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیوں کے علاوہ خطہ میں تعینات امریکی فوجیوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہونے اور داعش کے ہزاروں قیدیوں کے فرار ہونے کے امریکی خدشات کے باوجود شامی صدر احمد حُسین الشَّرع نے کُرد ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دیا۔
احمد حُسین الشَّرع اپنی حکمتِ عملی میں کامیاب رہے، اُن کی فوج نے امریکی حمایت یافتہ شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) میں شامل عرب دھڑوں کو شامی حکومت کے ساتھ اتحاد کیلئے قائل کر لیا اور نتیجتاً کُردوں کی قیادت میں سرگرم مسلح تنظیم چند ہی دنوں میں بکھر کر رہ گئی اور شمال مشرقی شام کے ایک وسیع علاقہ میں شکست سے دوچار ہوئی۔
امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ نہ صرف شام کیلئے بلکہ پینٹاگون کی مشرقِ وسطیٰ میں موجودگی کیلئے بھی اِس پیش رفت کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ امریکی فوج کے اعلیٰ حکام اب ایک دہائی سے زائد عرصہ کے بعد شام سے وسیع پیمانے پر فوجی انخلاء سے متعلق بات چیت کر رہے ہیں۔
ماضی میں عراق کے اندر سرگرم ایک باغی جنگجو، جس کو امریکی افواج نے گرفتار بھی کیا تھا، احمد حُسین الشَّرع نے حیران کن طور پر ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ایک تعلق قائم کیا۔ امریکا نے 2024 میں بشار الاسد کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کے بعد ایک خطرناک طاقت کے خلاء سے بچنے کیلئے الشَّرع کی حمایت کی۔ اگرچہ احمد حُسین الشَّرع کے حالیہ اقدامات نے اِس حمایت کو نقصان نہیں پہنچایا تاہم بعض امریکی قانون ساز اور فوجی حکام اب بھی شامی راہنما کے عسکری ماضی کے باعث محتاط ہیں۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شامی صدر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ احمد حُسین الشَّرع نے ’’غیر معمولی پیش رفت‘‘ کی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ سب کچھ درست سمت میں لائے گا۔
شمال مشرقی شام کے بیشتر حصے پر قبضہ 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمہ کے بعد احمد حُسین الشَّرع کی سب سے بڑی سٹریٹیجک فتح ہے۔ الشَّرع کی قیادت نے محض 11 دن میں اسد حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جس سے 13 سال سے جاری ایک ایسی جنگ ختم ہوئی جس میں کم و بیش 5 لاکھ افراد مارے گئے اور شام کے شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے۔
حالیہ شامی فوجی کارروائی نے ایس ڈی ایف (شامی ڈیموکریٹک فورسز) اور دمشق کی نئی حکومت کے درمیان ایک سال سے زائد عرصہ سے جاری مذاکرات میں تعطل کا خاتمہ کیا۔ کُرد ملیشیا کے سربراہ مظلوم عبدی نے گزشتہ برس نئی شامی فوج میں انضمام پر رضامندی ظاہر کی تھی تاہم مغربی سفارتکاروں اور تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں مظلوم عبدی نے اپنی خودمختاری برقرار رکھنے اور اپنے فوجی یونٹس کو محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔
امریکی اخبار کے مطابق احمد حُسین الشَّرع کی تیز رفتار فوجی پیش قدمی نے ایک بار پھر معاملات کو زمینی سطح پر طے کر دیا ہے۔ شامی سفارتکار بسام برابندی نے کہا ہے کہ کچھ لوگ اِس شخص (الشَّرع) کی صلاحیتوں کو نہ سمجھ سکے، انہیں لگا تھا کہ ایس ڈی ایف کے خلاف جنگ گھنٹوں یا دنوں میں ختم نہ ہو گی بلکہ کئی ہفتوں تک چلے گی لیکن وہ (کُرد ملیشیا) بکھر گئے اور کسی مزاحمت کا مظاہرہ نہ کر سکے۔
شام میں ایک دہائی سے زائد عرصہ تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران احمد حُسین الشَّرع نے مدبرانہ حکمتِ عملی سے دیگر درجنوں باغی راہنماؤں اور مخالفین کو پیچھے چھوڑا جن میں وہ نسبتاً معتدل اسد مخالف ملیشیاز بھی شامل تھیں جنہیں کچھ عرصہ کیلئے سی آئی اے (سینٹرل انٹیلیجینس ایجنسی) کی مدد بھی حاصل رہی تھی۔ الشَّرع نے اِس دوران اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا، یہاں تک کہ وہ ہیئۃ تحریر الشام کے سربراہ بن گئے جو شام کا سب سے بڑا باغی گروہ تھا۔
احمد حُسین الشَّرع 2016 میں القاعدہ سے تعلقات توڑنے اور داعش و دیگر حریف گروہوں کے خلاف لڑنے کے بعد برسوں تک شمال مغربی شام کے صوبہ ادلب میں روپوش رہے اور بشار حکومت پر حملے کیلئے موقع کا انتظار کرتے رہے۔ الشَّرع نے ایسے وقت میں وار کیا جب روس یوکرین کی جنگ میں الجھا ہوا تھا اور ایران اسرائیلی حملوں سے کمزور ہو چکا تھا، اِس صورتحال میں بشار الاسد کی حکومت خاص طور پر غیر محفوظ ہو چکی تھی۔
وال سٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ اِس بار بھی الشَّرع نے اندازہ لگا لیا کہ اُن کا دشمن کمزور ہے۔ ایس ڈی ایف میں کُرد، عرب اور دیگر دھڑوں کے درمیان پہلے ہی دراڑیں موجود تھیں۔ ملیشیا کے زیرِ کنٹرول بڑے شہروں، جن میں رقہ اور دیر الزور شامل ہیں، کے عرب شامی باشندے سیاسی طور پر دمشق کی نئی حکومت کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے۔
شمال مشرق میں فتح کا زیادہ دارومدار فوجی طاقت کے بجائے سیاسی چالوں پر تھا۔ احمد حُسین الشَّرع کے کئی ساتھی، جن میں اُن کا انٹیلیجنس چیف اور وزیرِ خارجہ بھی شامل ہیں، مشرقی شام سے تعلق رکھتے ہیں اور الشَّرع نے اُن روابط کو ایس ڈی ایف کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں اثر و رسوخ بڑھانے کیلئے استعمال کیا۔ گزشتہ برس الشَّرع نے جہاد عیسیٰ الشیخ نامی ایک اہم اہلکار، جنہیں ابو احمد زکور کے نام سے جانا جاتا ہے، کو عرب قبائل سے رابطے کا ذمہ دار بنایا۔ سفارتکاروں اور تجزیہ کاروں کے مطابق انہوں نے دیر الزور کے قریب ایک قبائلی گروہ کو حکومت کے ساتھ ملنے پر آمادہ کیا۔
امریکی اخبار کے مطابق صرف ایک ہفتے کے آخر میں ایس ڈی ایف (شامی ڈیموکریٹک فورسز) ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ قبائل نے حکومت کو سٹریٹیجک اہداف پر قبضہ دلانے میں تعاون کیا جن میں شامی تیل کے بڑے میدان بھی شامل ہیں۔ شام کی سرکاری افواج کی ایک اور کارروائی میں دریائے فرات پر واقع ایک بڑے ڈیم پر بھی قبضہ کر لیا گیا ہے۔
احمد حُسین الشَّرع نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بھی موقع سے فائدہ اٹھایا۔ شامی صدر کو نومبر میں وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی گئی جبکہ ٹرمپ انتظامیہ ایک دہائی سے زائد عرصہ کے بعد شام میں موجود محدود امریکی فوجیوں کیلئے انخلاء کا منصوبہ چاہتی تھی۔ شامی امور کے ایک ماہر آرون لنڈ کے مطابق زمینی سطح پر طاقت کا توازن واضح طور پر الشَّرع کے حق میں ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکا کے خصوصی نمائندہ برائے شام ٹام بیراک نے رواں ہفتے دلیل دی کہ بشار الاسد کے زوال کے بعد اب ایس ڈی ایف کی حمایت کی وجہ باقی نہیں رہی۔ برسوں تک امریکا نے شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے ساتھ اتحاد کو داعش کے باقی ماندہ عناصر پر دباؤ برقرار رکھنے کیلئے ضروری قرار دیا جن میں وہ جیلیں بھی شامل تھیں جہاں ہزاروں داعش جنگجو اور اُن کے اہلِ خانہ ایس ڈی ایف کی نگرانی میں قید تھے۔ ٹام بیراک کے مطابق دمشق اب سیکیورٹی ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے نہ صرف تیار ہے بلکہ داعش کے حراستی مراکز اور کیمپس کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں بھی ہے۔
نیو یارک میں قائم بین الاقوامی سطح کے اخبار نے خبردار کیا ہے کہ شمال مشرقی شام پر قبضہ الشَّرع حکومت کیلئے خطرات کا باعث بھی بن سکتا ہے، شامی فوجی کارروائی نے شام سمیت پورے خطہ میں بعض کُردوں کو شامی حکومت کے خلاف متحد کر دیا ہے جبکہ شامی فوجی پیش رفت شمال مشرق میں متعدد امریکی اڈوں پر موجود فوجیوں کیلئے بھی غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق انتہائی کمزور یا تحلیل شدہ ایس ڈی ایف (شامی ڈیموکریٹک فورسز) کے سامنے یہ واضح نہیں کہ امریکی افواج شام میں قیام جاری رکھ سکیں گی یا نہیں۔
دی وال سٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ دو امریکی حکام کے مطابق شمال مشرقی شام میں کارروائی کے دوران امریکی افواج نے کم از کم ایک شامی سرکاری ڈرون کو اپنے ایک اڈے کے قریب مار گرایا۔ ایک اہلکار کے مطابق الشَّرع کی افواج نے امریکی اڈے پر موجود ایس ڈی ایف کی بیرکوں پر بھی فائرنگ کی۔
امریکی فوج نے بدھ کے روز شمال مشرقی شام میں قائم مراکز سے ہزاروں داعش قیدیوں کو فرار ہونے کے خدشات کے پیشِ نظر عراق منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایک اہلکار کے مطابق 9 ہزار قیدیوں میں سے تقریباً 7 ہزار کو عراق منتقل کیا جا رہا ہے جہاں حکام اُن کی حراست کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔







