تجزیہ: پاکستان مؤثر سفارتی حکمتِ عملی سے امریکا کا مضبوط اتحادی بن گیا، بھارت اثر و رسوخ کی جنگ ہار گیا۔ دی ڈپلومیٹ

پاکستان بروقت و مؤثر سفارتی حکمتِ عملی سے واشنگٹن کا مضبوط اتحادی بن گیا اور امریکی خارجہ پالیسی میں دوبارہ مرکزی حیثیت اختیار کر گیا جبکہ بھارت عالمی سیاسی حقیقت کو نظر انداز کر کے واشنگٹن میں اثر و رسوخ کی جنگ ہار گیا۔

spot_imgspot_img

واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی جریدہ ’’دی ڈپلومیٹ‘‘ کے مطابق پاکستان نے عالمی سیاست میں بروقت اور مؤثر سفارتی حکمتِ عملی سے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا ہے جبکہ بھارت سیاسی کھیل کے قواعد کو نظر انداز کر کے واشنگٹن میں اثر و رسوخ کی جنگ ہار گیا ہے۔

دی ڈپلومیٹ نے لکھا ہے کہ فروری 2025 میں جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا وائٹ ہاؤس میں پرتپاک استقبال ہو رہا تھا تو وہ منظر یہ تاثر دے رہا تھا کہ واشنگٹن میں بھارت کی حیثیت مستحکم ہے۔ مودی نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی کا لطف اٹھانے والے دوسرے غیر ملکی راہنما تھے جبکہ پاکستانی وزیراعظم کو محض ایک فون کال تک نہ کی گئی تھی۔ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت سے ہی پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے سرد مہری کا شکار تھے بالخصوص اُس بیان کے بعد جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ پاکستان نے امریکا کو جھوٹ اور فریب کے سوا کچھ نہیں دیا۔

تاہم عالمی سیاست میں کچھ بھی مستقل نہیں ہوتا۔ سال 2025 میں ہی ایک ایسا موڑ آیا جس نے کھیل کا رخ یکسر بدل کر رکھ دیا۔ واشنگٹن کا ناگزیر شراکت دار سمجھا جانے والا بھارت اچانک صدر ٹرمپ کے 50 فیصد والے سخت ٹیرف کی زد میں آ گیا، صدارتی دورہ منسوخ ہو گیا، تجارتی مذاکرات ٹھپ ہو گئے اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی روابط تقریباً ختم ہو گئے۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان کو وائٹ ہاؤس میں امریکا کے نئے پسندیدہ اتحادی کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

امریکی جریدہ کے مطابق اِس تبدیلی کی بنیاد اُس وقت پڑی جب مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے خاتمہ کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کا دعویٰ کیا۔ نئی دہلی نے امریکی صدر کے دعویٰ کو سرِعام مسترد کر دیا اور کہا کہ اِس تنازع میں کسی تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں تھا۔ بھارت نے اسے اپنی خودمختاری کا معاملہ سمجھا لیکن واشنگٹن میں اسے ٹرمپ کی براہِ راست تذلیل کے طور پر دیکھا گیا۔

یہیں سے بھارت اور امریکا کے تعلقات کی سرد مہری ایک منجمد کیفیت میں بدل گئی۔ کوئی کواڈ سربراہی اجلاس ہوا نہ ٹرمپ کا بھارتی دورہ طے پایا اور نہ ہی کوئی ایسا تجارتی معاہدہ سامنے آیا جو بھارت کو صدر ٹرمپ کے بھاری ٹیرف سے بچا سکتا۔ بھارت کی وہ سفارتی برتری، جس پر نئی دہلی برسوں سے ناز کر رہا تھا، چند ہی مہینوں میں ختم ہو گئی۔

اِس کے برعکس پاکستان نے اُن لمحات کو ایک بڑے سفارتی موقع کے طور پر دیکھا۔ اسلام آباد نے ٹرمپ کے ثالثی کے دعویٰ کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اسے بھرپور انداز میں سراہا۔ حتیٰ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد بھی کر دیا گیا جبکہ یہ سفارتی اقدام پاکستان کیلئے عملی طور پر مفید ثابت ہوا۔

پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق بڑی سفارتی کوششوں میں ایک کلیدی شراکت دار بن گیا جن میں غزہ اور ایران سے متعلق اہم منصوبے شامل تھے۔ انسدادِ دہشتگردی میں تعاون، جو کبھی پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی بنیاد تھا، دوبارہ بحال ہو گیا اور سب سے بڑھ کر معدنی وسائل سے متعلق ایک نیا سٹریٹیجک باب کھل گیا۔ امریکا نے پاکستان کے ذخائر میں دلچسپی ظاہر کی جن میں لیتھیم، تانبا اور دیگر قیمتی معدنیات شامل ہیں جبکہ اُنہیں عالمی سپلائی چین کیلئے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق یہ سب محض اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک مؤثر سفارتی حکمتِ عملی کا نتیجہ تھی۔ پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت اور اُن کی سیاسی نفسیات کو بہتر انداز میں سمجھا جبکہ بھارتی مؤقف نے عالمی سیاسی حقیقت کو نظر انداز کر دیا۔ بھارت نے خودمختاری کا بیانیہ جیتا مگر اثر و رسوخ کی جنگ ہار گیا۔

نتیجتاً جو پاکستان کبھی واشنگٹن میں نظر انداز کیا جا رہا تھا وہ امریکا کی خارجہ پالیسی میں دوبارہ مرکزی حیثیت اختیار کر گیا جبکہ خود کو امریکا کا مستقل سٹریٹیجک اتحادی سمجھنے والا بھارت چند ہی مہینوں میں ایک مشکل اتحادی کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

امریکی جریدہ کے مطابق حقیقی سبق یہی ہے کہ عالمی سیاست میں اخلاقی برتری یا تاریخی تعلقات سے زیادہ اہم بروقت و مؤثر حکمتِ عملی اور سفارتی لچک ہے۔ بھارت نے اصولی بات کہی مگر سیاسی کھیل کے قواعد کو نظر انداز کر دیا، دوسری جانب پاکستان نے سیاسی حقیقت کو قبول کیا اور اسی کی بنیاد پر سفارتی محاذ پر بڑا فائدہ اٹھایا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اور امریکا کا یہ نیا تعلق دیرپا ثابت ہو گا یا پھر محض ٹرمپ کی شخصیت سے جڑا ایک وقتی مرحلہ؟ اِس سوال کا جواب تو مستقبل دے گا تاہم فی الحال واضح ہے کہ اسلام آباد نے ایک بڑی سفارتی فتح سمیٹی ہے جبکہ نئی دہلی اثر و رسوخ کی جنگ ہار چکا ہے۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: