تجزیہ: غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے، بھارتی اخبار دی ہندو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ غزہ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تنازعات تک وسعت کی تجویز بھارت کیلئے کشمیر کے حوالہ سے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔

spot_imgspot_img

نئی دہلی (تھرسڈے ٹائمز) — بھارتی اخبار ’’دی ہندو‘‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے جبکہ بورڈ کو غزہ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تنازعات تک توسیع دینے کی تجویز بھارت کیلئے کشمیر کے حوالہ سے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔

بھارت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی ڈیووس میں منعقد ہونے والی چارٹر تقریب میں شرکت نہیں کی تاہم بھارتی اخبار کے مطابق یہ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت اب بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دینے پر غور کر رہی ہے۔

بورڈ آف پیس ٹرمپ انتظامیہ کی غزہ امن تجویز کے فیز ٹو کا حصہ ہے جس کا مقصد غزہ پٹی میں سیکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیرِ نو کی نگرانی کرنا اور دو ریاستی حل پر مذاکرات کے ذریعہ اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے۔ گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسے متفقہ طور پر منظور کیا تھا (روس اور چین نے رائے شماری میں حصہ لینے سے گریز کیا) جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا اور تمام زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو وطن واپس بھیج دیا گیا۔

بورڈ آف پیس کی تجویز کو متعدد ممالک نے خوش آئند قرار دیا جس کی وجہ بالخصوص یہ ہے کہ اِس کی بدولت اسرائیل کی مسلسل بمباری اور زمینی کارروائیاں رک گئیں۔ اکتوبر 2023 میں حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں کے جواب میں اسرائیلی جارحیت کے باعث 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جن میں 20 ہزار بچے بھی شامل تھے۔

دی ہندو نے لکھا ہے کہ بھارت کو بورڈ آف پیس میں شمولیت پر سنجیدگی سے غور کرنے کی چند وجوہات موجود ہیں کیونکہ کم و بیش 20 دیگر ممالک پہلے ہی اِس میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ جیسی علاقائی طاقتوں کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے فیصلے سے مودی حکومت پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ اسی راستے پر چلے۔

امریکا اور بھارت کے تعلقات میں دراڑ اور تجارتی مذاکرات کی نازک صورتحال بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ اِس مرحلہ پر ٹرمپ کی دعوت کو ٹھکرایا نہ جائے کیونکہ اِس سے امریکی صدر کی ناراضی مول لی جا سکتی ہے جیسا کہ فرانسیسی صدر میکرون کے ساتھ ہوا۔

تاہم بھارتی اخبار نے ممکنہ خدشات کا بھی اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگرچہ اقوامِ متحدہ نے امریکا کے اصل منصوبوں کی حمایت کی تھی تاہم بورڈ آف پیس کے تازہ ڈھانچے اور مینڈیٹ کو بظاہر یکطرفہ طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے اور لیک شدہ چارٹر کے مطابق اِس میں غزہ کا ذکر تک موجود نہیں ہے۔

دی ہندو کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو بورڈ آف پیس کا چیئرمین مقرر کر لیا ہے، اُن کے ذاتی دوست اور اہلِ خانہ ایگزیکٹیو بورڈ میں شامل ہیں جبکہ جاری کردہ چارٹر میں تجویز دی گئی ہے کہ بورڈ آف پیس کو دیگر تنازعات کے حل کی کوششوں تک توسیع دی جائے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اقوامِ متحدہ کی جگہ لینے کی کوشش کرے گا۔

دوسری بات یہ کہ اگرچہ بورڈ فلسطینی تکنیکی ماہرین کو نامزد کرے گا لیکن اِس میں کسی بھی شکل میں فلسطینی قیادت کو شامل نہیں کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے اداروں کی جانب سے نسل کشی کے الزامات کا سامنا کرنے والے نیتن یاہو کو شامل کیا جانا لیکن فلسطینی صدر کو شامل نہ کرنا اِس ناانصافی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

دی ہندو کے مطابق بھارت کیلئے پاکستان کا بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا فیصلہ بھی ایک خطرے کی گھنٹی ہے، بالخصوص اگر ٹرمپ کشمیر تنازع کو بھی اُن امن منصوبوں میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیں جنہیں بورڈ آف پیس حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ بورڈ آف پیس کی دو سطحی رکنیت، جس میں ایک ارب ڈالرز کی فیس کے بدلے مستقل رکنیت کی پیشکش کی گئی ہے، بھی ایک اور تشویش ناک پہلو ہے۔

مزید یہ کہ ایک بار بورڈ میں شامل ہو جانے کے بعد بھارت کیلئے مشکل ہو جائے گا کہ وہ اپنی فوجوں کو انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں شامل کرنے پر اعتراض کرے جو کہ اقوامِ متحدہ کا اقدام نہیں ہے۔ نئی دہلی کو چاہیے کہ وہ بہترین سمت کے تعین کیلئے اپنے شراکت داروں سے مشاورت جاری رکھے۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: