اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر جاری مہم کوئی اتفاقی یا خُود رَو ردعمل نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت بیانیہ قائم کرنے کیلئے شروع کی گئی مہم دکھائی دیتی ہے جس کے پیچھے وہی مفاد پرست عناصر سرگرم ہیں جنہوں نے اکتوبر میں ہونے والے انخلاء میں 3 ماہ کی تاخیر کیلئے جرگوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ یہ محض ڈیجیٹل شور نہیں بلکہ ایک مربوط پروپیگنڈا نیٹ ورک ہے جس کا مقصد زمینی حقائق کو مسخ کرنا اور ریاستی انسدادِ دہشتگردی اقدامات کو متنازع بنانا ہے۔
وادی تیراہ (خیبرپختونخوا) کی آبادی تقریباً 94 ہزار افراد پر مشتمل ہے اور یہاں کم و بیش 20 ہزار خاندان آباد ہیں۔ ہر سال سردیوں میں برفباری کے باعث 50 سے 60 فیصد آبادی پہاڑی علاقوں سے اتر کر عارضی طور پر خیبر، باڑہ اور پشاور منتقل ہو جاتی ہے جبکہ کچھ خاندان اورکزئی ایجنسی کی جانب چلے جاتے ہیں۔ یہ کوئی نیا یا غیر معمولی عمل نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث دہائیوں سے جاری ایک معمول ہے جس کی تصدیق خیبرپختونخوا ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کی رپورٹس سے بھی ہوتی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سال 2025 کے وسطی مہینوں میں تیراہ، اورکزئی، خیبر اور ملحقہ علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں تیزی آئی۔ فورسز اور سول انتظامیہ پر شدید حملے کیے گئے جن میں دہشتگردوں نے جدید اسلحہ، نائٹ ویژن آلات اور حتیٰ کہ کمرشل ڈرونز تک استعمال کیے۔ اِن جھڑپوں میں ایک ونگ کمانڈر سمیت پاک فوج کے کئی جوان شہید ہوئے جس کی تصدیق آئی ایس پی آر کی پریس ریلیزز سے ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ہر بڑا حملہ افغانستان سے پلان کیا گیا، افغان طالبان کے نیٹ ورکس کی لاجسٹک مدد شامل رہی جبکہ 60 سے 70 فیصد حملہ آور افغان شہری تھے اور مقامی سہولت کاری فتنہ الخوارج کے نیٹ ورک نے فراہم کی۔ دہشتگرد گروہ حجروں، مساجد اور عام آبادی کے اندر قیام کرتے تھے جس کی وجہ سے کسی بھی کارروائی میں شہری نقصان کا خطرہ غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا تھا۔
ریاستی سطح پر فیصلہ ہوا کہ دہشتگردی اور فتنہ انگیزی کے اِس سلسلہ کو یہیں روکنا ہو گا تاہم ہر کارروائی کے بعد یہ اعتراض سامنے آتا رہا کہ مقامی آبادی متاثر ہو رہی ہے۔ اِس مسئلہ کے حل کیلئے متعدد جرگے منعقد ہوئے جن میں 3 ممکنہ راستوں پر غور کیا گیا۔
پہلا راستہ یہ تھا کہ دہشتگرد آبادی میں چھپتے رہیں، فورسز اُن کا تعاقب کرتی رہیں اور پھر ہر کارروائی کے بعد متوازی نقصانات کا بیانیہ چلتا رہے لیکن یہ طریقہ ریاستی اعتبار اور مقامی اعتماد دونوں کیلئے نقصان دہ تھا۔
دوسرا راستہ یہ تھا کہ مقامی آبادی خود دہشتگردوں کو اپنے علاقوں میں داخل نہ ہونے دے، حجروں میں پناہ فراہم نہ کرے اور مساجد خالی کروائے مگر اِس صورت میں مقامی لوگوں کو براہِ راست مسلح تصادم میں اترنا پڑتا جس سے قبائلی خونریزی کا خطرہ پیدا ہو سکتا تھا لہذا مقامی مشران نے اِس آپشن سے معذرت کی۔
تیسرا اور عملی راستہ یہ طے پایا کہ چونکہ ہر سال برفباری کے باعث 50 سے 60 فیصد آبادی میدانی علاقوں کی طرف نکلتی ہے لہذا اِس مرتبہ پورا علاقہ وقتی طور پر خالی کر دیا جائے تاکہ سیکیورٹی فورسز آزادانہ اور جارحانہ انداز میں انٹیلیجینس بیسڈ آپریشنز کر سکیں جبکہ عام شہریوں کے نشانہ بننے کا خطرہ بھی نہ رہے جبکہ یہ واضح طور پر کوئی فُل سکیل فوجی آپریشن نہیں بلکہ ٹارگٹیڈ کارروائیاں تھیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ تمام مشاورت جاوید آفریدی کے حجرے پر ہوئی جس میں ہر قوم کے سربراہ، قبائلی مشران اور صوبائی حکومت کے نمائندے شریک تھے۔ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا نے بعدازاں اِس مشاورتی عمل کی تصدیق بھی کی اور ساتھ ہی یہ طے پایا کہ مقامی لوگ اپنی فصلیں تیار ہونے کے بعد فروخت کریں گے اور پھر 100 فیصد علاقہ خالی کریں گے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے انخلاء کیلئے 4 ارب روپے مختص کیے جس میں فی خاندان ماہانہ 50 ہزار روپے کرایہ شامل تھا۔
انٹیلیجینس اور انتظامی ذرائع کے مطابق یہ بھی طے ہوا کہ انٹیلیجینس بیسڈ آپریشنز کے بعد پولیس 41 چوکیاں قائم کرے گی اور سول انتظامیہ تیراہ میں بلدیاتی نظام بحال کرے گی جس میں سڑکیں، سیوریج، واٹر سٹوریج اور بجلی کے انتظامات شامل ہوں گے۔
لیکن جیسے ہی سوشل میڈیا پر وادی تیراہ کی برفباری کی ویڈیوز، آرٹیفیشل انٹیلیجینس سے بنی تصاویر اور مقامی سیاستدانوں کے جذباتی بیانات آنا شروع ہوئے، صوبائی حکومت نے عملاً پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔ اسی دوران وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی ہزارہ، مردان، نوشہرہ اور سوات میں سیاسی جلسوں میں مصروف تھے جبکہ تیراہ میں انتظامی تیاری تعطل کا شکار رہی۔
ذرائع کے مطابق اگر فوج مکمل اور فُل سکیل آپریشن کیلئے تیراہ جاتی تو فوجی یونٹس کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت واضح نظر آتی جو کہ حقیقتاً نہیں ہو رہی۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی نیا اور بڑا آپریشن نہیں ہے بلکہ محض انٹیلیجینس بیسڈ ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری ہیں۔
فوج کی سڑکوں پر موجودگی کو بھی جان بوجھ کر غلط رنگ دیا جا رہا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج ہر سال انخلاء کے موسم میں ریسکیو اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتی ہے جیسا کہ وہ راولا کوٹ سے مری اور بشام سے خنجراب تک بھی کرتی رہی ہے۔
تو پھر تیراہ آپریشن پر اتنا شور کیوں ہو رہا ہے؟ اِس کے پیچھے مفادات پر مبنی کئی پرتیں دکھائی دیتی ہیں جن میں ممکنہ طور پر سمگلنگ نیٹ ورکس کا مفاد اور افغانستان کا سٹریٹیجک مفاد بھی شامل ہے تاکہ مقامی آبادی کی ہمدردی سمیٹی جا سکے جبکہ پاکستان میں افراتفری پھیلانے کیلئے سوشل میڈیا مواد، صوبائی حکومت کا وکٹم کارڈ، منشیات، سمگلنگ اور جرائم و سیاست کے گٹھ جوڑ کو بچانے جیسے عوامل بھی ہو سکتے ہیں جن کا ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں بھی ذکر کیا۔
ضلعی انتظامیہ کے ریکارڈ کے مطابق 28 اکتوبر کو ڈپٹی کمشنر خیبر نے پیشگی خط لکھ کر تیراہ سے نقل مکانی کی وارننگ دی اور ٹرانسپورٹ، رہائش اور خوراک کا مطالبہ کیا تھا، پھر 14 نومبر کو کابینہ نے 4 ارب روپے مختص کر دیئے۔ اِس کے باوجود 26 دسمبر کی شدید برفباری میں ہزاروں لوگ پھنس گئے، امداد ناکافی رہی اور ریسکیو میں سنگین انتظامی غفلت سامنے آئی جو انتظامی ذرائع کے مطابق محض ناکامی نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل پہلی تصویر آرٹیفیشل انٹیلیجینس سے بنی ہوئی ہے جسے تیراہ کی ابتر صورتحال کہہ کر پھیلایا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل فرانزک ذرائع کے مطابق اِس تصویر کے میٹا ڈیٹا اور بصری پیٹرنز واضح کرتے ہیں کہ یہ جنریٹیو اے آئی سے تیار کی گئی تھی۔ ساتھ موجود ویڈیوز میں لوگوں کا لباس، اردگرد کی برف کی مقدار اور سڑکوں کی حالت واضح طور پر بتاتی ہے کہ یہ کوئی غیر معمولی قدرتی آفت نہیں بلکہ موسمی معمول ہے۔
اِس تناظر میں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تیراہ کی آبادی 94 ہزار ہے اور ہر سال اِس کا بڑا حصہ سردیوں میں نقل مکانی کرتا ہے۔ موسمیاتی ڈیٹا کے مطابق اگر تیراہ کی بلندی، برفباری کی مقدار اور موسمی حالات کا موازنہ نیلم ویلی سے کیا جائے، جہاں ہزاروں سیاح جاتے ہیں، تو فرق اتنا ڈرامائی نہیں جتنا سوشل میڈیا پر دکھایا جا رہا ہے۔
یہ سوشل میڈیا کا دور ہے جہاں بیانیہ حقیقت پر نہیں بلکہ جذبات پر بنایا جاتا ہے۔ وادی تیراہ کے معاملہ میں بھی یہی ہو رہا ہے اور یہی اصل خطرہ ہے۔







