پاکستان کیلئے 2025 شدید نوعیت کے واقعات کا سال رہا۔ گزشتہ چند برس کی خاموشی کے بعد پاکستان کی مغربی سرحدی پٹی پر ایسا سال پھر سے لوٹ آیا۔ دہشتگردی کے واقعات کی خبروں کی رپورٹنگ، لاشوں کی بار بار نمائش اور ہمارے اپنے شہداء کے جنازوں سے صورتحال کو مزید دھندلا کر دیا گیا جبکہ سب کچھ بدقسمتی سے ایک تنگ نظر اور کم فہم سیاسی گفتگو کے ساتھ ایسا گڈمڈ ہوا کہ فضا میں ایک طرح کی دھماکہ خیز تلخی پیدا ہو گئی۔
ہماری قومی انسدادِ دہشتگردی کوششوں کی سمت کے حوالہ سے زیادہ تر بےقابو، سیاسی محرکات سے بھرپور اور بڑی حد تک موضوعی سالانہ جائزوں نے اضطراب کی کیفیت پیدا کی ہے۔ انسدادِ دہشتگردی کے سخت ترین برسوں (یعنی 2011 تا 2015 تک) کے حوالہ جات اور اُن سے تقابلی دعووں کو غیر ذمہ دارانہ انداز میں اچھالا جا رہا ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ اِس نازک محاذ پر پیش رفت کی پیمائش کیلئے ایک معروضی، شواہد پر مبنی اور سائنسی فریم ورک اختیار کیا جائے۔
دہشتگردی کا مقصد نظر آنے والے اثرات کے ذریعہ قتل کرنا ہے جس کا اصل اظہار زیادہ تر ادراک کے دائروں میں ہوتا ہے۔ دہشتگردی قوم کی نفسیات کو نشانہ بناتی ہے۔ اِس کے نظر آنے والے زخموں کا مقصد گہرے جذباتی داغ چھوڑنا ہوتا ہے۔ مسمار عمارتوں اور جلی ہوئی لاشوں کی ہولناک تصاویر معاشرے کے اعتماد کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ لہٰذا ریاست کو اپنے جائزے جذبات کی بجائے حقائق اور غیر جانبدار تجزیوں کی بنیاد پر قائم کرنے چاہئیں۔ قوم کو خوف کے پھیلاؤ سے محفوظ رکھنا ضروری ہے اور اسے یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ حالات کی حقیقی صورتحال سے آگاہ رہے۔ اتنا ہی اہم یہ بھی ہے کہ انسدادِ دہشتگردی سے وابستہ پالیسی سازوں اور عملی منصوبہ سازوں کے پاس ایسا تجزیاتی آلہ ہو جو ہمارے مخصوص انسدادِ دہشتگردی حالات کو سمجھنے میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد بھی ہو اور اتنا جامع بھی ہو کہ اِس پورے عمل کا حکمتِ عملی سے لے کر ٹیکنیک تک احاطہ کر سکے۔
لازم ہے کہ ہم 7 پیمانوں کو استعمال کریں تاکہ نہ صرف یہ جانچا جا سکے کہ سال 2025 میں پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں کیسی کارکردگی دکھائی بلکہ یہ بھی واضح ہو کہ آئندہ کی جنگ میں کن بنیادی شعبوں پر توجہ مرکوز کرنا ناگزیر ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہر پیمانے کے تحت کی گئی جانچ بہرحال آزادانہ طور پر قابلِ تصدیق ہونی چاہیے۔
پہلا پیمانہ: کیا ریاست نے اپنا مورچہ قائم رکھا؟
جواب، نظریاتی سطح پر بھی اور عملی سطح پر بھی، پورے یقین کے ساتھ ہاں ہے۔ چند برس کی خوش فہمی اور دہشتگردوں کے ساتھ غلط سمت میں رابطہ کاری کے بعد ریاست نے اپنی سنجیدگی اور وقار کو واپس حاصل کیا ہے۔ ایک بار پھر اِس خطرے کو وہی نام دیا گیا جو حقیقتاً اِس کا نام ہے؛ بیرونی سرپرستی میں پلنے والا عذاب۔ اِس نظریاتی درستی کا عکس تازہ ریاستی بیانیے میں دکھائی دینے لگا ہے اور خطرے کی نوعیت سے متعلق ابہام بتدریج کم ہونے لگے ہیں۔ عملی میدان میں، افغان کرائے کے جنگجوؤں کی بےمثال یلغار کے باوجود، خطرے کو خیبرپختونخوا کے سرحدی اضلاع کے اندر ہی محدود رکھا گیا اور بلوچستان کے بڑے شہری مراکز سے دور رکھا گیا۔ دشمنوں کی بھاری سرمایہ کاری کے باوجود ریاستی قوتوں نے پاکستان کے مرکزی علاقوں کے گرد ایک مضبوط حفاظتی دیوار قائم رکھی ہے اور دہشتگردی کی مسلسل مہم کو پھیلنے سے روکا گیا ہے۔
دوسرا پیمانہ: کیا معاشرے نے اپنا مورچہ قائم رکھا؟
دہشتگردوں کی تمام تر بےچین اور بےرحم کوششوں کے باوجود دہشتگرد اور علیحدگی پسند نظریہ ایک مکروہ مذاق ہی رہا۔ دہشتگردانہ مقاصد کیلئے رضاکارانہ بھرتی کم ہوتی گئی۔ نتیجتاً خیبرپختونخوا سے متعلق دہشتگرد عناصر اپنی جنگ کیلئے کرائے کے افغان گروہوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوئے۔ یہاں تک کہ معروف محسود پٹی میں بھی ہر 10 دہشتگردوں کے گروہ میں تقریباً 8 کرائے کے افغان شامل ہوتے تھے۔ یہ حقائق واضح طور پر قابلِ تصدیق ہیں۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی اضلاع اور اندرونی علاقوں میں کسی ایک جگہ بھی یہ رپورٹ نہیں ہوا کہ کوئی چھوٹا خاندان یا قبیلہ کھلم کھلا دہشتگردوں کے ساتھ جا ملا ہو۔ بہادر لکّی مروت، بنوں اور وانا جیسے متعدد مقامات پر پورے کے پورے قبائل کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی متاثر کن مثالیں سامنے آئیں۔ اپنے ’’اخلاقی مؤقف‘‘ کی قبل از وقت موت پر مایوس ہو کر دہشتگرد بےشرمی سے اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور عوامی مفادات و انفراسٹرکچر کے خلاف کھلی مجرمانہ سرگرمیوں پر اتر آئے۔ نہایت اہم بات یہ ہے کہ بعض وقتی دھچکوں کے باوجود قانون نافذ کرنے والے غیر عسکری اداروں اور سول انتظامیہ نے مضبوطی سے محاذ سنبھالا اور پاکستان آرمی و فرنٹیئر کور کے شانہ بشانہ لڑتے رہے۔
تیسرا پیمانہ: کیا دہشتگردی کو مستقل یا قریباً مستقل جغرافیائی پناہ گاہ یا مضبوط گڑھ ملا؟
سرحدی اضلاع میں دہشتگردوں کی موجودگی زیادہ تر بنجر وادیوں، دشوار گزار اور ناقابلِ رسائی جنگلاتی علاقوں میں بکھری رہی اور آبادی کے بڑے مراکز سے دور رہی۔ چھوٹے پہاڑی دیہات کی کم آبادی کو زیادہ تر اُن کی نام نہاد تشکیلات کی سرپرستی کا انتظامی بوجھ اٹھانا پڑا۔ افغان کرائے کے جنگجوؤں کی غیر معمولی تعداد کے باوجود دہشتگردوں کو مستقل پناہ کی جگہ نہ مل سکی۔ دونوں صوبوں میں کوئی نو گو ایریا موجود نہیں۔ ماضی سے گمراہ کن تقابل کے باوجود، گزشتہ ڈیڑھ برس کے اِس شدید انسدادِ دہشتگردی مرحلے میں 2010 کی دہائی والا شمالی وزیرستان بن سکا نہ 2000 کی دہائی والا جنوبی وزیرستان بن سکا۔
چوتھا پیمانہ: کیا کوئی بڑا آبادیاتی مرکز دہشتگردوں کے کنٹرول میں چلا گیا؟
پورے سال کے دوران دہشتگرد کسی ایک نمایاں آبادیاتی علاقے پر بھی پائیدار کنٹرول قائم نہ کر سکے۔ جہاں کہیں انہوں نے ایسی کوشش کی وہاں انہیں سخت ضرب لگی اور بالآخر انہیں نکال باہر کیا گیا۔ خیبرپختونخوا میں شمال کی طرف باجوڑ اور ملاکنڈ، جنوب میں اعظم ورسک اور ٹانک ریاستی قوتوں کی بروقت اور جراحی نوعیت کی کارروائیوں کی شاندار مثالیں ہیں جن کے ذریعہ دہشتگردوں کی کوششوں کو تیزی سے کچلا گیا۔ بلوچستان میں بھی کئی مواقع پر یہ منظر سامنے آیا کہ دہشتگرد کسی قصبہ میں گھس کر ڈیرے جمانا چاہتے تھے مگر کچھ ہی عرصہ میں جان بچا کر بھاگنے پر مجبور ہوئے۔
پانچواں پیمانہ: کیا کوئی مرکزی شاہراہ یا مواصلاتی شریان کٹ گئی؟
پاکستان کے سرحدی خطوں، اندرونی خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے طول و عرض میں تمام بڑی عوامی سڑکیں آمد و رفت کیلئے کھلی رہیں۔ شاہراہوں پر لوٹ مار کی بکھری ہوئی وارداتوں کے باوجود دہشتگردوں میں یہ صلاحیت یا جرأت نہیں تھی کہ وہ کسی بڑی مواصلاتی شریان کو بند کر کے پھر اسے بند ہی رکھ سکیں۔ غیر مسلح مسافروں کو لوٹنا یا تنہا سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنانا دور افتادہ علاقوں میں پہلے بھی غیر معمولی نہیں رہا البتہ اِس نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سرگرم دہشتگردوں کی دوہری برائی کی اصل ماہیت کو ضرور بےنقاب کیا۔
چھٹا پیمانہ: ریاست کی جانب سے دی جانے والی سزا کا پیمانہ اور شدت کیا رہی؟
سال 2025 میں دہشتگردوں کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت بےمثال اور شفاف جبکہ اعداد و شمار اور تکرار دونوں اعتبار سے تباہ کن رہی۔ قومی تاریخ میں اِس شر کے خلاف ہماری جدوجہد کے دوران پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اتنی بڑی تعداد میں دہشتگردوں کی لاشیں بیابانوں میں پڑی ہوں۔ شوال میں محض ایک واقعہ میں ایک ہی رات میں 70 سے زائد مارے گئے۔ باجوڑ میں بین الاقوامی سرحد پر مزید 50 موت کی طرف آغوش میں چلے گئے جبکہ بلوچستان میں دریائے گومل کے جنوب میں ویران علاقوں میں درجنوں ختم کیے گئے۔ عسکری کیمپس یا چوکیوں پر دہشتگردوں کی جانب سے جسمانی حملے کی بھاری کوششیں، جن میں کئی خودکش حملے بھی شامل تھے، مؤثر اور واضح طور پر ناکام بنائی گئیں۔ کیڈٹ کالج وانا پر حملے میں شامل پانچوں افغان دہشتگرد، ٹانک میں جنڈولہ قلعہ کی طرف آنے والے تمام 9 اور کوئٹہ میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے والے تمام 6 دہشتگرد اپنے مقاصد سے بہت پہلے ہلاک ہو گئے۔ اِس سے پہلے کبھی افواج نے اتنی بڑی تعداد میں دہشتگردوں کو اِس طرح جسمانی طور پر ٹھکانے لگایا نہ قوم نے اتنی لاشیں دیکھیں۔ سال 2025 میں 75 ہزار 175 انٹیلیجینس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن میں 14 ہزار 658 خیبرپختونخوا میں اور 58 ہزار 778 بلوچستان میں جبکہ 1 ہزار 739 دیگر علاقوں میں کیے گئے۔ اِن آپریشنز میں 2 ہزار 597 سے زائد دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا جن میں 1 ہزار 803 خیبرپختونخوا میں اور 784 بلوچستان میں جبکہ 10 ملک کے باقی علاقوں میں مارے گئے۔
ساتواں پیمانہ: دہشتگردوں نے قتل کیسے کیا؟
ریاستی قوتوں کی بےپناہ جرأت مندانہ اور جارحانہ کارروائیوں کے برعکس دہشتگردوں کے 90 فیصد سے زیادہ حملے بزدلانہ انداز میں محفوظ فاصلے سے کیے گئے جن میں رات کی تاریکی میں سڑکوں پر آئی ای ڈیز (امپرووائزڈ ایکسپلوزیو ڈیوائسز) لگانا، سادہ کوآڈ کاپٹرز کے ذریعہ چوکیوں پر دھماکہ خیز مواد گرانا، محفوظ فاصلے سے سنائپنگ کرنا اور کبھی کبھار کرائے کے بندوق برداروں کے ذریعہ گھات لگا کر حملہ کرنا شامل ہیں۔ پورے سال میں دہشتگرد شاذ و نادر ہی یہ جرأت یا صلاحیت دکھا سکے کہ وہ افواج کے قریب آ کر جسمانی لڑائی میں الجھیں۔ سال 2025 میں ایسے 5 ہزار 397 بزدلانہ حملے کیے گئے جن میں 3 ہزار 811 خیبرپختونخوا اور 1 ہزار 557 بلوچستان جبکہ 29 پاکستان کے باقی علاقوں میں ہوئے۔ اِن اعداد و شمار میں خیبرپختونخوا میں 16 خودکش بم دھماکے، بلوچستان میں 10 اور ملک کے دیگر علاقوں میں 1 شامل ہیں جو گزشتہ کچھ برسوں کے مقابلہ میں نمایاں کمی ہے۔
افغان جنگی کمک کی مسلسل فراہمی، قندھار کے بعض گمراہ عناصر کی جانب سے لاجسٹک تعاون اور پاکستان کے دیگر دشمنوں کی جانب سے اشتعال انگیزی کے باوجود سال 2025 دہشتگردوں اور اُن کے آقاؤں کیلئے مجموعی طور پر بےبسی اور مایوسی کا سال ثابت ہوا۔ جیسے جیسے قوم کی افواج سال 2026 میں اِس خطرے کے خاتمہ کی تیاری کر رہی ہیں، گزرا ہوا سال اِس حقیقت کا گواہ ہے کہ پاکستان نے اپنے دشمنوں کے خلاف اپنی صف قائم رکھی ہے۔ قومی انسدادِ دہشتگردی مہم میں ہماری کامیابی کے ساتھ آج ہمارے پاس پہلے سے بڑھ کر وجوہ ہیں کہ ہم اپنی عملی سمت کے بارے میں پُراعتماد رہیں اور آنے والے برسوں کیلئے پُرامید رہیں۔




