استنبول (تھرسڈے ٹائمز) — سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ستمبر 2025 میں طے پانے والے اہم دفاعی معاہدے کے بعد اب اِس علاقائی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت بھی متوقع ہے۔ ترک اخبار ’’ڈیلی صباح‘‘ کے مطابق ترکیہ کے وزیرِ خارجہ کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے کہ انقرہ سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ ممکنہ دفاعی انتظامات کے حوالہ سے بات چیت کا آغاز کر چکا ہے۔ یہ کسی معاہدے کے اعلان سے زیادہ اِس بات کی نشاندہی ہے کہ خطہ میں سیکیورٹی کے حوالہ سے پالیسیز کو خاموشی کے ساتھ از سرِ نو ترتیب دیا جا رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اور اِس سے ملحقہ سٹریٹیجک خطہ اب سخت بلاکس یا سیکیورٹی کے لحاظ سے کسی ایک پلیٹ فارم کی صورت میں منظم نہیں رہا بلکہ اِس کی بجائے وسیع پیمانے پر موجود لچکدار آپشنز اور باہمی طور پر اوورلیپ شراکت داریوں کا منظر پیش کر رہا ہے۔ روایتی سیکیورٹی چھتریاں اب مشروط محسوس ہوتی ہیں، کئی علاقائی تنازعات حل طلب ہیں اور نیوکلیائی ہتھیاروں کے ذریعہ دفاع و مزاحمت کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔
ایسے پس منظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کسی نیٹو طرز کے اتحاد کی تشکیل کے بارے میں نہیں بلکہ سٹریٹیجک پوزیشننگ سے متعلق ہے۔ اِس کی بنیاد گزشتہ برس پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ ہے جس نے دہائیوں پر محیط گہرے عسکری تعاون کو ایک باضابطہ شکل فراہم کی جبکہ معاہدے کے مطابق ایک فریق کے خلاف جارحیت کو مشترکہ تشویش قرار دیا گیا۔
ترک اخبار کے مطابق پاکستان کیلئے اِس معاہدے نے ایک دیرینہ سیکیورٹی تعلق کو مزید مضبوط کیا جبکہ سٹریٹیجک خودمختاری کو برقرار رکھا گیا۔ سعودی عرب کیلئے یہ بیرونی ضمانتوں پر مکمل انحصار کی بجائے واضح طور پر خطہ میں باہم جڑی ہوئی اور متنوع سیکیورٹی شراکت داریوں کی جانب ایک بڑا قدم تھا۔
ترکیہ کی ممکنہ شمولیت پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ فریم ورک کو ایک مضبوط مثلثی انتظام میں تبدیل کر سکتی ہے۔ دفاعی صلاحیتوں کے حامل تینوں بااثر مسلم اکثریتی ممالک اِس نئی شراکت داری کے تحت اپنی اپنی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے سیکیورٹی مفادات میں ہم آہنگی پیدا کریں گے۔
ترکیہ نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج رکھتا ہے، انقرہ کے پاس جنگی تجربات کی حامل افواج ہیں جبکہ دفاعی صنعت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ پاکستان کے ساتھ ترکیہ کا دفاعی تعلق پہلے ہی مضبوط ہے جس میں بحری منصوبے اور طیاروں کی اپگریڈیشن کے علاوہ مشترکہ دفاعی مشقیں اور پروڈکشنز بھی شامل ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی طور پر آزمودہ اور قابلِ اعتماد پارٹنرشپ موجود ہے۔
سعودی عرب اِس ترتیب میں ایک مختلف مگر تکمیلی کردار ادا کرتا ہے۔ طویل عرصہ کے تناؤ کے بعد انقرہ نے گزشتہ 5 برسوں میں ریاض کے ساتھ تعلقات کو بحال کیا ہے۔ ترکیہ کی خارجہ پالیسی میں یہ نئی ترتیب نظریاتی صف بندی کی بجائے استحکام، تجارت اور علاقائی پلیٹ فارمز کو ترجیح دینے کی علامت ہے۔
پاکستان کا کردار اِس ابھرتی ہوئی ترتیب میں نہایت کلیدی ہے۔ جنگی تجربات رکھنے والی پیشہ ور مسلح افواج اور بڑھتے ہوئے دفاعی برآمدی شعبہ کے ساتھ ایٹمی طاقت کا حامل پاکستان کسی بھی دفاعی شراکت داری کو مضبوط ساکھ اور عملی گہرائی فراہم کرتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی دفاعی فروخت محض تجارتی لین دین نہیں بلکہ سٹریٹیجک اوزار ہیں جو طویل المدتی سیکیورٹی تعلقات کو مضبوط کرتے ہیں۔
اسلام آباد کوئی بلاک لیڈرشپ چاہتا ہے نہ نظریاتی صف بندی اور نہ ہی علاقائی بالادستی بلکہ اِس کی بجائے وہ دفاعی اعتماد اور تجربہ فراہم کرتا ہے جبکہ غیر مستحکم صف بندیوں کے اِس دور میں یہی خصوصیات سٹریٹیجک وزن رکھتی ہیں۔
ریاض ویژن 2030 کے تحت اپنی قومی حکمتِ عملی کو خود مختاری، تنوع اور اثر و رسوخ کے گرد از سرِ نو ترتیب دے رہا ہے۔ سیکیورٹی اب محض ردِعمل کا معاملہ نہیں رہی بلکہ ریاستی حکمتِ عملی کا ایک فعال آلہ بن چکی ہے۔ پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات کو گہرا کرنا اور ممکنہ طور پر ترکیہ کو اِس دائرے میں شامل کرنا سعودی عرب کو محض ردِعمل دینے کی بجائے علاقائی نتائج پر اثرانداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک لچکدار پلیٹ فارم تشکیل دیتا ہے جو کسی خصوصی اتحاد کے اعلان کے بغیر سیاسی طور پر اور بوقتِ ضرورت عملاً متحرک ہو سکتا ہے۔
ڈیلی صباح نے لکھا ہے کہ انقرہ، ریاض اور اسلام آباد تینوں خطہ کے دیگر ممالک کے ساتھ فعال تعلقات برقرار رکھنے میں واضح مفادات رکھتے ہیں۔ باہمی معاشی انحصار، سرمایہ کاری کے بہاؤ اور سفارتی توازن سخت محاذ آرائی کو غیر ممکن بناتے ہیں۔
پیغام باریک مگر واضح ہے: علاقائی طاقتیں اب بیرونی ضامنوں پر مکمل انحصار کے بجائے آپس میں ہم آہنگی کیلئے زیادہ تیار ہیں۔
وسیع تر خطہ اِس تشریح کی تصدیق کرتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی طرح دیگر طاقتیں بھی اپنی صف بندیاں بنا رہی ہیں۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات نے حالیہ دنوں میں دفاعی تعاون بڑھانے کے اقدامات کیے ہیں جن میں صنعتی اشتراک اور سمندری سیکیورٹی شامل ہیں۔
کسی ایک غالب اتحاد کے بجائے خطہ اب متوازی اور اوورلیپ کرنے والے سیکیورٹی فریم ورکس کے ظہور کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ یہ انتظامات لچکدار اور مفادات و حالات کے مطابق ڈھلنے والے ہیں جو نظریے سے زیادہ قومی حساب کتاب سے تشکیل پاتے ہیں۔
ایسے ماحول میں رسمی معاہدوں سے زیادہ اہم نیوکلیائی ساکھ اور آپشنز کو کھلا رکھنا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ ارتقاء تقویت کا باعث ہے جو اسلام آباد کو کسی غیر ضروری الجھاؤ کے بغیر اپنی دیرینہ عسکری پیشہ ورانہ صلاحیت کو سٹریٹیجک اہمیت میں بدلنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
چنانچہ ترکیہ کی پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کسی ایک معاہدے سے زیادہ ایک ساختی تبدیلی کی علامت ہے۔ خطہ ایک کثیر قطبی سیکیورٹی ماحول کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں اثر و رسوخ کا پیمانہ رابطہ کاری، دفاعی صنعتی صلاحیت اور سفارتی مہارت ہے۔
پاکستان کیلئے اِس کا مطلب بالکل واضح ہے۔ وہ اب محض علاقائی سیکیورٹی مکالمے میں شریک نہیں رہا بلکہ اسے تشکیل دینے والوں میں شامل ہو چکا ہے جبکہ انقرہ کے نقطہِ نظر سے پاکستان اور سعودی عرب کے سیکیورٹی فریم ورک کے ساتھ وابستگی ترکیہ کے علاقائی اثر و رسوخ میں وسعت کا باعث بنے گی۔







