کوئٹہ (تھرسڈے ٹائمز) — وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کسی صورت پاکستان سے الگ نہیں ہو سکتا، کسی کو بندوق اٹھا کر بےگناہ لوگوں کے قتل کی اجازت نہیں دی جائے گی، دہشتگردی کو محرومی سے نہیں جوڑا جا سکتا، اور وہ ذمہ داری سے کہتے ہیں کہ بلوچستان کی سڑکیں بند نہیں ہوں گی۔
اگر بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں سے کوئی اس تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے توآئے آگے بڑھے، میں ریاستِ پاکستان کی جانب سے بات چیت کیلئے تیار ہوں۔ مگر میں اُن لوگوں سے بات نہیں کر سکتا جو بندوق کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں، جو ہمیں قتل کر رہے ہیں، جو معصوم بچوں، اساتذہ،… pic.twitter.com/BYFlawv0Wk
— The Thursday Times (@thursday_times) February 11, 2026
صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پاکستان کے ساتھ ہیں اور علیحدگی کی بات ایک لاحاصل جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ کو برسوں سے مسخ کیا گیا، منظم پراپیگنڈے کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کی ذہن سازی کی جاتی رہی، مگر حکومت کسی کو قوم کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلنے نہیں دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے موٹر سائیکلوں پر آ کر بلوچستان کو مرعوب نہیں کیا جا سکتا، ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی اور امن قائم کیا جائے گا۔
سرفراز بگٹی نے ماضی کے بعض فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب ٹی ٹی پی کے لوگوں کو جیلوں سے چھڑوایا گیا اور دوسری طرف بلوچستان میں بی ایل اے کے عناصر کو بھی رہائی دلائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسی دوران اسمبلی کے کہنے پر بلوچستان میں چیک پوسٹیں ختم کی گئیں، جس کے بعد دہشتگردوں کو کھلی چھٹی مل گئی اور آج اسی فیصلوں کا خمیازہ بھگتا جا رہا ہے۔
ایک طرف ٹی ٹی پی کے لوگوں کو جیلوں سے چھڑوایا گیا، اور دوسری طرف بلوچستان میں بی ایل اے کے عناصر کو بھی رہائی دلائی گئی۔ اسی دوران یہاں اسمبلی کے کہنے پر بلوچستان میں چیک پوسٹیں ختم کی گئیں، جس کے بعد دہشتگردوں کو کھلی چھٹی مل گئی۔ آج ہم اسی فیصلوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔… pic.twitter.com/fFXwfnoGvn
— The Thursday Times (@thursday_times) February 11, 2026
وزیراعلیٰ کے مطابق بلوچستان میں امن اور ترقی حکومت کی ترجیح ہے، دہشتگردوں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، اور حکومت دہشتگردی کے تمام واقعات کی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیامِ امن کیلئے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، شہداء کے اہلِ خانہ کے غم میں حکومت برابر کی شریک ہے، اور معصوم شہریوں، اساتذہ، ڈاکٹروں، پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ طاقت کا استعمال صرف ریاست کا حق ہے، کسی فرد یا گروہ کو بندوق اٹھانے کا اختیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بات مسائل کی ہے تو ترقی ہر جگہ یکساں نہیں، مگر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ بندوق اٹھا لیں؟ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ لاہور جیسی ترقی گوجرانوالہ یا راجن پور میں نہیں، کراچی جیسی ترقی کشمور میں نہیں، پشاور جیسے حالات نوشہرہ میں مختلف ہو سکتے ہیں، مگر کسی بھی صورت بندوق اٹھانا قابلِ قبول نہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ آئین ریاست کے ساتھ وفاداری کا تقاضا کرتا ہے، شہریوں پر ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں اور حقوق بھی ملنے چاہییں، مگر جو مسلح گروہ کھلے عام ملک توڑنے اور الگ ریاست کی بات کرتے ہیں، وہ بلوچوں کے نام پر تشدد کرتے اور سوشل میڈیا کو ہتھیار بناتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تشدد کے ذریعے کیا وہ ایک بھی یونین کونسل آزاد کروا سکتے ہیں؟ ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ میں نقصان بلوچوں کا ہے اور جانیں بھی بلوچ ہی دے رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت سیاسی بات چیت کیلئے تیار ہے، اور اگر پاکستان یا بلوچستان میں کوئی اس تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے تو آگے بڑھے، حکومت بات کرے گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بندوق کی نوک پر بات چیت ممکن نہیں، جو لوگ قتل و غارت کر رہے ہیں، معصوم بچوں، اساتذہ، ڈاکٹروں، پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں، ان سے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں، فنڈز کی تقسیم، بیوروکریسی اور گورننس کے مسائل پر بات ہونی چاہیے، اور سیاسی نظام کے اندر رہتے ہوئے اصلاحات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، جبکہ دہشتگردی کو کسی صورت محرومی کا عنوان دے کر جواز نہیں بنایا جا سکتا۔




