واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکا میں بورڈ آف پیس کے پہلے باضابطہ اجلاس کے موقع پر سِکھ کارکنوں کا مظاہرہ، انڈین پنجاب کو بھارتی قبضہ سے آزادی دلانے کیلئے ’’خالصتان ریفرنڈم‘‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے بورڈ آف پیس میں شمولیت کیلئے 1 بلین ڈالرز تعاون کی پیشکش بھی کر دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِ صدارت بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس کے موقع پر بورڈ کے باہر ’’خالصتان تحریک‘‘ کے حامی بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں خالصتان کے جھنڈے اور پینا فلیکسز اٹھا رکھے تھے جن پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے شکریہ کے الفاظ اور ’’خالصتان تحریک‘‘ کو بورڈ آف پیس میں شامل کرنے کے مطالبات درج تھے۔
خالصتان تحریک کے حامی سِکھ کارکنوں کے پینا فلیکسز پر بورڈ آف پیس میں شمولیت کی صورت میں 1 بلین ڈالرز تعاون فراہم کرنے کی پیشکش بھی درج تھی جبکہ مظاہرین کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں اور بھارتی حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔
غزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے اجلاس کے موقع پر خالصتان کے حامی سکھوں نے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کرنے کی پیشکش کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پنجاب کو بھارتی قبضے سے نجات دلانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے صدر ٹرمپ سے اپیل کی کہ جو دنیا بھر میں جنگیں رکوانے کے لیے… pic.twitter.com/rk7Zwh3dJq
— The Thursday Times (@thursday_times) February 19, 2026
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس میں خالصتان تحریک کی شمولیت‘‘ کے خواہاں ہیں جبکہ شمولیت کی صورت میں بورڈ آف پیس کی 1 بلین ڈالرز تک معاونت کیلئے بھی تیار ہیں۔ اُنہوں نے جنگیں رکوانے کیلئے امریکی صدر کے عزم کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بورڈ آف پیس انڈین پنجاب میں بھارتی حکومت کے مظالم رکوانے کیلئے بھی مؤثر کردار ادا کرے۔
واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے باہر موجود سِکھ کارکنوں نے مطالبہ کیا انڈین پنجاب کو بھارتی قبضہ سے آزادی دلانے کیلئے ’’خالصتان ریفرنڈم‘‘ کرایا جائے تاکہ پنجاب کے لوگوں کو بھارتی حکومت کے مظالم سے نجات دلائی جا سکے۔
سِکھ کارکنوں کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان نیوکلیئر جنگ کے خدشات کے سدباب کے عزم کا اظہار کیا گیا جبکہ جنگیں رکوانے اور قیامِ امن کی کوششوں میں امریکی حکومت کی حمایت کا اعلان بھی کیا گیا۔




