تجزیہ: دہلی میں اے آئی سمٹ بھارتی وعدوں اور دھوکہ بازی کی واضح نمائش تھی۔ کالم نگار، بلومبرگ

دہلی میں ’’اے آئی سمٹ‘‘ کے دوران بھارتی وعدوں اور دھوکہ بازی کی واضح نمائش نظر آئی۔ بھارتی شہروں میں آلودگی، سڑکوں پر ٹریفک کی بندش، پانی و بجلی کے چیلنجز اور بےروزگاری کے مسائل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس عدم مساوات کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔

spot_imgspot_img

نئی دہلی (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی جریدہ ’’بلومبرگ‘‘ کی نمائندہ نے نئی دہلی میں ’’اے آئی سمٹ‘‘ کے دوران بھارت میں وعدوں اور حقائق کے درمیان نمایاں فرق بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی کے وعدوں اور دھوکہ بازی کی جو نمائش دہلی میں واضح نظر آئی اُتنی شاید کہیں اور نہیں دیکھی گئی۔ اُنہوں نے بھارتی شہروں میں آلودگی، سڑکوں پر ٹریفک کی بندش کے عذاب، پانی و بجلی کے بڑھتے چیلنجز اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے مسائل کے حوالہ سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بلومبرگ کی کالم نگار ’’کیتھرین تھوربیک‘‘ کے مطابق رواں ہفتے نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بڑے بڑے پوسٹرز ہر جگہ نظر آ رہے ہیں جہاں بھارت اپنے سب سے بڑے ’’اے آئی سمٹ‘‘ کی میزبانی کر رہا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے مودی ہر وقت آپ کو دیکھ رہے ہوں۔ اِس سال کا تھیم ’’سب کی فلاح اور سب کی خوشی‘‘ ہے مگر یہاں کی بدنظمی بھی ایک حقیقت ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک کی بندش نے روزمرہ آمد و رفت کو عذاب بنا دیا ہے جبکہ گاڑیوں کی قطاریں طویل اور غیر یقینی تھیں۔ ایک دن تو مودی کے واک تھرو کیلئے اچانک پورا وینیو خالی کرا لیا گیا لیکن پھر بھی افراتفری کسی عجیب سی بھوک کو ظاہر کرتی ہے۔

بھارت اب امریکا کے بعد ’’چیٹ جی پی ٹی‘‘ استعمال کرنے والا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے اور جنریٹو اے آئی ایپس کے ڈاؤنلوڈز میں بھی سب سے آگے ہے مگر یہاں کمرے میں ہاتھی جیسا مسئلہ یہ ہے کہ بھارت دنیا کے سب سے جوشیلے اے آئی صارف سے ایک سنجیدہ اے آئی پروڈیوسر کیسے بنے گا؟

کیتھرین تھوربیک کے مطابق ڈیٹا سینٹرز میں بڑی سرمایہ کاری کے اعلانات تو ہوئے لیکن یہاں زمین، پانی اور بجلی پہلے ہی شدید دباؤ میں ہیں جبکہ یہ دباؤ نہ صرف قومی پاور گرڈ اور پانی کی فراہمی کو مزید کھینچتا ہے بلکہ ماحولیات سے متعلق خدشات اور عوامی ردِعمل کے امکانات میں بھی اضافہ کرتا ہے بالخصوص ایسے وقت میں جب بہت سے شہر آج بھی پینے کے قابل صاف پانی فراہم کر پاتے ہیں نہ سانس لینے کے قابل صاف ہوا میسر ہوتی ہے۔

ایشیاء کے بعض ممالک کے برعکس، جو اے آئی (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کو مزدوروں کی کمی کا حل بنا کر بیچ رہے ہیں، بھارت کے پاس نوجوانوں کی بہت بڑی آبادی ہے جس کو روزگار چاہیے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی لہر کو حقیقی روزگار اور معاشی مواقع میں ڈھالنا نریندر مودی کیلئے سیلیکون ویلی کی اشرافیہ کے ساتھ سیلفیز بنانے کی بجائے گورننس کا ایک بہت بڑا امتحان ہو گا۔

بالآخر، بلومبرگ کی کالم نگار کے مطابق، اے آئی کے وعدوں اور دھوکہ بازی کی جو نمائش اِس ہفتے دہلی میں واضح نظر آئی اُتنی شاید کہیں اور نہیں دیکھی گئی۔ بھارت اِس سوال کیلئے ایک ٹیسٹ کیس بن چکا ہے کہ اے آئی (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کا پھیلاؤ عام لوگوں کو بااختیار بنائے گا یا پھر محض عدم مساوات کو مزید گہرا کر دے گا جبکہ باقی دنیا یہ سب بہت غور سے دیکھ رہی ہو گی۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: