فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ترک آرمی چیف کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ، خطہ میں کشیدگی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترکیہ کے آرمی چیف سے ٹیلیفونک گفتگو؛ دونوں ممالک کے باہمی دفاعی تعلقات، خطہ میں بڑھتی کشیدگی اور بدلتی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات کے بعد یہ رابطہ اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان کے چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ترکیہ کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل سلجوق بيرقدار أوغلو سے ٹیلیفونک گفتگو کی ہے جس میں پاکستان اور ترکیہ کے مابین دفاعی تعلقات، خطہ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں عسکری راہنماؤں نے موجودہ علاقائی بحران، جنگ کے ممکنہ پھیلاؤ اور اُس کے وسیع تر اثرات کا جائزہ لیا ہے جبکہ اِس موقع پر ترک آرمی چیف نے خطہ میں استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسلام آباد کی ذمہ دارانہ سفارتی کوششوں کو قابلِ قدر قرار دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ اور اُس کے اطراف میں غیر یقینی صورتحال گہری ہوتی جا رہی ہے جبکہ علاقائی ہم آہنگی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر حال ہی میں دورہِ سعودی عرب کے دوران ریاض میں سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے بھی اہم ملاقات کر چکے ہیں جس میں خلیجی سلامتی، ڈرون و میزائل حملوں کے خطرات اور خطہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے موجودہ فریم ورک کے تحت دونوں ممالک نے اِس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ علاقائی استحکام اور سلامتی کیلئے باہمی رابطہ اور عملی تعاون جاری رکھا جائے گا۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق حالیہ دنوں میں پاکستان دفاعی سفارت کاری کے محاذ پر غیر معمولی طور پر متحرک دکھائی دے رہا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب کے ساتھ اعلیٰ سطح کے رابطے اور دوسری جانب ترکیہ کی عسکری قیادت کے ساتھ خطہ کی صورتحال سے متعلق مشاورت اِس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام آباد موجودہ بحران کے تناظر میں اپنے اہم شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اِن سفارتی اور دفاعی رابطوں کے بعد ایران کی جانب سے بھی اہم بیان سامنے آیا جس میں ملک کے صدر نے اعلان کیا کہ ایران اب پڑوسی ممالک کو نشانہ نہیں بنائے گا۔ مبصرین کے نزدیک یہ بیان خطہ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت اشارہ ہے بالخصوص ایسے وقت میں جب ہر نئی پیش رفت پورے مشرقِ وسطیٰ کے توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی رابطہ کاری ممکنہ تصادم کے خطرات کو کم کرنے اور بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، اگر دفاعی اور سفارتی سطح پر یہ مشاورت اِسی تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو یہ نہ صرف علاقائی توازن کے تحفظ میں معاون ثابت ہو سکتی ہے بلکہ ایک زیادہ مستحکم اور محتاط سفارتی ماحول بھی تشکیل دے سکتی ہے۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: