تجزیہ: شدید امریکی و اسرائیلی بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول تاحال برقرار ہے۔ رائٹرز

امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔

spot_imgspot_img

نیویارک/واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی انٹیلیجنس کا اندازہ ہے کہ تقریباً دو ہفتوں کی شدید امریکی اور اسرائیلی بمباری کے باوجود ایران کی قیادت بڑی حد تک برقرار ہے اور نظام فوری طور پر گِرنے کے خطرے میں نہیں۔

خبررساں ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ نے معاملہ سے واقف تین ذرائع کے حوالہ سے رپورٹ کیا ہے کہ متعدد انٹیلیجنس رپورٹس میں ایک مستقل تجزیہ سامنے آیا ہے کہ ایرانی نظام کو فوری زوال کا خطرہ لاحق نہیں اور وہ اب بھی ایرانی عوام پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اِن ذرائع میں سے ایک نے ’’رائٹرز‘‘ کو بتایا کہ تازہ ترین انٹیلیجنس رپورٹ گزشتہ چند دنوں میں مکمل کی گئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر سیاسی دباؤ کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ 2003 کے بعد کی سب سے بڑی امریکی فوجی کارروائی کو جلد ختم کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر ایران کی سخت گیر قیادت بدستور مضبوط رہی تو جنگ کیلئے قابلِ قبول انجام تلاش کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ انٹیلیجنس جائزے اِس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ 28 فروری کو امریکی و اسرائیلی حملوں کے پہلے دن ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے باوجود ایران کی مذہبی قیادت میں یکجہتی برقرار ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایک سینیئر اسرائیلی عہدیدار نے بھی بند کمرہ گفتگوؤں میں یہ تسلیم کیا کہ اِس بات کی کوئی یقین دہانی نہیں کہ یہ جنگ ایران کی موجودہ حکومت کے خاتمہ پر ختم ہو گی۔

ذرائع نے رائٹرز کو یہ بھی بتایا کہ زمینی صورتحال مسلسل بدل رہی ہے اور ایران کے اندرونی حالات کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس اور سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

رائٹرز نے مزید رپورٹ کیا کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکہ اور اسرائیل ایران کے مختلف اہداف کو نشانہ بنا چکے ہیں جن میں فضائی دفاعی نظام، جوہری تنصیبات اور اعلیٰ قیادت کے ارکان شامل ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اِن جنگ کیلئے مختلف وجوہات پیش کی ہیں۔ کارروائی کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے کہا تھا کہ وہ اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں تاہم بعد میں اُن کے اعلیٰ معاونین نے اِس بات کی تردید کی کہ مقصد ایران کی قیادت کو ہٹانا تھا۔

خامنہ ای کے علاوہ اِن حملوں میں درجنوں اعلیٰ حکام اور ایرانی انقلابی گارڈ کور کے بعض اہم کمانڈرز بھی مارے جا چکے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق آئی آر جی سی ایک طاقتور نیم فوجی ادارہ ہے جو ملکی معیشت کے بڑے حصوں پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

رائٹرز نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنی پہلی انتخابی مہم کی سرگرمی انجام دی۔

اِس کے باوجود، رائٹرز کے مطابق، امریکی انٹیلیجنس رپورٹس یہ ظاہر کرتی ہیں کہ آئی آر جی سی اور وہ عبوری رہنما جو خامنہ ای کی موت کے بعد اقتدار میں آئے، اب بھی ملک پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق سینیئر شیعہ مذہبی گروپ مجلسِ خبرگان نے رواں ہفتے خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ کو نیا سپریم لیڈر قرار دیا۔

رائٹرز کے مطابق معاملہ سے واقف ایک چوتھے ذریعہ نے بتایا کہ اسرائیل کا ارادہ یہ ہے کہ سابق حکومت کے کسی بھی باقی ماندہ ڈھانچے کو برقرار نہ رہنے دیا جائے۔

رائٹرز کے مطابق یہ واضح نہیں کہ موجودہ امریکی و اسرائیلی فوجی مہم کس طرح حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے۔

اِسی ذریعہ سے رائٹرز کو بتایا گیا کہ اِس مقصد کیلئے غالباً زمینی کارروائی درکار ہو گی تاکہ ایران کے اندر لوگ محفوظ طریقے سے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر سکیں۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں امریکی فوج بھیجنے کے معاملہ کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: