نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی جریدہ ’’بلومبرگ‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای خفیہ طور پر یورپ میں ایک وسیع سلطنت رکھتے ہیں جن کی مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے لے کر سوئس بینک اکاؤنٹس اور برطانوی لگژری پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
بلومبرگ نے مجتبیٰ خامنہ ای کے نیٹ ورک سے متعلق لندن کی بلینیئرز رو اور بیورلی ہِلز آف دوبئی، ٹورنٹو میں پینٹ ہاؤس، فرینکفرٹ میں ہِلٹن فرینکفرٹ گریوین بِرچ سے منسلک ہوٹل مینیجمنٹ کمپنی اور مایورکا میں فائیو سٹار ہوٹلز سمیت درجن سے زائد جائیدادوں کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ لین دین کیلئے رقوم کی برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، لیخٹنسٹائن اور متحدہ عرب امارات کے بینکس کے اکاؤنٹس کے ذریعہ منتقلی کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق شمالی لندن میں ایک درختوں کی قطار والی سڑک پر (جس کو ’’بلینیئرز رو‘‘ کہا جاتا ہے) لمبی باڑوں اور بلیک آؤٹ گیٹس کے پیچھے زیادہ تر خالی حویلیوں کا ایک جُھنڈ ہے۔ جب سکول کے بچے یہاں سے گزرتے ہیں تو سیاہ SUV میں پرائیویٹ گارڈز باہر گشت کر رہے ہوتے ہیں۔ اِن لگژری گھروں کی پشت پر ’’بشپس ایوینو‘‘ ہے جو تہران سے دوبئی اور فرینکفرٹ تک پھیلا ہوا نیٹ ورک ہے۔ حتمی ملکیت کا پتہ شیل کمپنیز کی تہوں کے ذریعہ مشرقِ وسطیٰ کے سب سے طاقتور آدمیوں میں سے ایک کے پاس پہنچتا ہے جس کا نام ’’مجتبیٰ خامنہ ای‘‘ ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی مالی طاقت 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے
بلومبرگ کے مطابق سابق ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے دوسرے بیٹے اور ایران کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سرمایہ کاری کی ایک وسیع سلطنت رکھتے ہیں۔ اِس معاملہ سے واقف افراد اور ایک معروف مغربی انٹیلیجنس ایجنسی کے جائزے کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اپنے نام پر اثاثے رکھنے سے گریز کرتے ہیں تاہم سودے بازی میں براہِ راست ملوث رہے ہیں جن میں سے کچھ 2011 میں بھی ہوئے ہیں۔
بلومبرگ نے لکھا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے لے کر سوئس بینک اکاؤنٹس اور برطانوی لگژری پراپرٹیز تک 100 ملین یورو (یعنی 138 ملین ڈالرز) سے زیادہ ہے جبکہ یہ معلومات فراہم کرنے والے افراد نے انتقام کے خوف یا دیگر وجوہات کی بناء پر نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست کی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے 2019 میں امریکی پابندیوں کے باوجود ویب آف فرمز کی مدد سے کچھ اندازوں کے مطابق اربوں ڈالرز کے فنڈز مغربی مارکیٹس میں منتقل کیے۔
برطانیہ، جرمنی اور سپین میں پراپرٹیز
بلومبرگ نے انکشاف کیا ہے کہ اِن میں لندن کے بہت سے خاص علاقوں میں پرائم رئیل اسٹیٹ کے تحت ’’بیورلی ہِلز آف دوبئی‘‘ کا مضافاتی مکان اور فرینکفرٹ (جرمنی) سے مایورکا (سپین) تک اعلیٰ درجے کے یورپی ہوٹلز بھی شامل ہیں جبکہ ایک گھر کی قیمت 2014 میں خریداری کے وقت 33 اعشاریہ 7 ملین یورو تھی۔ بلومبرگ نے بتایا ہے کہ اِس حوالہ سے دیکھی گئی دستاویزات کے مطابق لین دین کیلئے فنڈز برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، لیختنسٹائن اور متحدہ عرب امارات کے بینکس کے اکاؤنٹس کے ذریعہ بھیجے گئے ہیں جبکہ لوگوں نے بتایا ہے کہ یہ فنڈز بنیادی طور پر ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل کیے گئے۔
بلومبرگ کی جانب سے دیکھی گئی دستاویزات میں سے کوئی بھی براہِ راست خامنہ ای کے نام پر اثاثوں کی فہرست میں شامل نہیں بلکہ اِس کی بجائے بہت سی خریداریاں ایک ایرانی تاجر ’’علی انصاری‘‘ کے نام پر ظاہر ہوتی ہیں جن پر اکتوبر میں برطانیہ کی طرف سے پابندیاں عائد کی گئیں۔
خامنہ ای خاندان کی پوشیدہ سرمایہ کاری
ایران کا سرکاری میڈیا ’’خامنہ ای خاندان‘‘ کو ایک سادہ اور پرہیزگار زندگی گزارتے ہوئے دکھاتا ہے تاہم چھوٹے خامنہ ای کی پوشیدہ خوش قسمتی ایرانی حکومت کی طرف سے دکھائی جانے والی ’’تقویٰ کی تصویر سے متصادم‘‘ ہے۔
بلومبرگ نیوز کی جانب سے ایک سال کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ کس طرح خامنہ ای خاندان کی مالی رسائی ایران کی سرحدوں سے باہر پھیلی ہے۔ یہ رپورٹ مجتبیٰ خامنہ ای کے مالی معاملات سے براہِ راست واقف افراد کے انٹرویوز، رئیل اسٹیٹ کے ریکارڈز اور خفیہ کاروباری دستاویزات کے جائزوں پر مبنی ہے جس میں ہوٹل مینیجمنٹ کے معاہدوں سے لے کر کارپوریٹ ملکیت کی تفصیلات اور بینک ٹرانسفرز تک شامل ہیں۔ مغربی انٹیلیجنس تحقیقات کے مطابق علی انصاری خاص طور پر سودے بازی کیلئے اہم رہے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی بیرونِ ملک سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کی داستان اِس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ ایران کی اشرافیہ اپنے جوہری پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ کے معاملات سمیت تمام مسائل کے باوجود سرمایہ بیرونِ ملک منتقل کرنے میں کامیاب ہوئی۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا مالیاتی نیٹ ورک
بلومبرگ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خامنہ ای خاندان کی مالیاتی سلطنت کے حوالہ سے مطالعہ کرنے والے واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے ایک سینئر فیلو کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے پاس (اپنے باپ علی خامنہ ای کی زندگی میں ہی) ایران کے اندر اور ایران سے باہر مختلف اداروں میں بڑا سٹیک یا ڈی فیکٹو کنٹرول موجود تھا جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای کے مالیاتی نیٹ ورک کا تجزیہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ علی انصاری مجتبیٰ خامنہ ای کیلئے مرکزی اکاؤنٹ ہولڈر ہیں۔
امریکی اخبار کے مطابق علی انصاری نے اپنے وکیل کے ذریعہ ایک بیان میں اِس بات کی تردید کی ہے کہ اُن کا مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ کبھی کوئی مالی یا ذاتی تعلق رہا ہے جبکہ اُنہوں نے اپنے خلاف عائد برطانیہ کی پابندیوں کو چیلنج کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔
بلومبرگ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو اِس حوالہ سے 12 جنوری کو ایرانی وزارتِ خارجہ اور متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں ملکی سفارت خانوں کے ذریعہ تبصرے کی درخواستیں بھیجی گئیں جن کا اُنہوں نے کوئی جواب نہیں۔
بلومبرگ نے مزید بتایا کہ ایران کی وزارتِ خارجہ، متحدہ عرب امارات میں اُس کے ہم منصب، امریکی محکمہ خزانہ اور یورپی یونین نے تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا جبکہ برطانیہ کے دفترِ خارجہ، وہ محکمہ جس نے علی انصاری پر پابندی لگائی تھی، نے کہا کہ وہ انفرادی معاملات کے بارے میں معلومات ظاہر نہیں کرتا ہے۔
علی انصاری کون ہیں؟
امریکی اخبار کے مطابق 57 سالہ کنسٹرکشن میگنیٹ علی انصاری کو گزشتہ برس برطانوی حکام نے ایک ’’کرپٹ ایرانی بینکر اور تاجر‘‘ کے طور پر بیان کیا تھا کیونکہ وہ ایرانی انقلابی گارڈ (آئی آر جی سی) کی سرگرمیوں کی مالی معاونت کر رہے تھے جس کے باعث اُن پر پابندی عائد کی گئی جبکہ خود برطانیہ نے اِس کی منظوری دی تھی۔
بلومبرگ کے مطابق تہران کے شمال مغرب میں محنت کش طبقہ کے ایک خاندان سے تعلق رکھنے والے علی انصاری اب ایران میں نجی شعبہ کے ممتاز ترین ٹائیکونز میں سے ایک ہیں اور ایک وسیع و عریض گھریلو کاروباری نیٹ ورک کا چہرہ بن گئے ہیں جس میں لگژری ایران مال کمپلیکس، بڑی ہول سیل مارکیٹس اور حال ہی میں تحلیل ہونے والا نجی قرض دہندہ آیاندے بینک شامل ہیں۔
علی انصاری کے والد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مذہبی مقامات کی تزئین و آرائش کیلئے سپریم لیڈر کے دفتر کی جانب سے فنڈ فراہم کرنے والی تعمیرِ نو کمیٹی میں شامل ہوئے تھے جس کے باعث انہیں خامنہ ای کے اندرونی حلقے کے ارکان سمیت سینیئر مذہبی شخصیات تک رسائی حاصل ہوئی۔ بعدازاں 1980 کی دہائی میں علی انصاری کو بھی تیار کیا گیا اور اسی دوران علی انصاری کی ملاقات ایرانی سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای سے ہوئی۔
بلومبرگ نے لکھا ہے کہ کچھ لوگوں کے مطابق علی انصاری نے بعد میں منافع بخش ریاستی معاہدے اور درآمدی لائسنس حاصل کیے جبکہ وہ تیزی سے تعمیرات، جہاز رانی اور پیٹرو کیمیکلز کی طرف بڑھ رہے تھے۔ یہ ایسی صنعتیں ہیں جو سرکاری فنڈز کو آفشور میں منتقل کرنے کیلئے کام کرتی تھیں۔ علی انصاری 1990 اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں تہران کے ایک ابھرتے ہوئے صنعت کار کے طور پر مشہور تھے۔ اُنہوں نے 2009 میں TAT بینک بنایا جس نے بعد میں ایران مال (ایک لگژری شاپنگ سینٹر) بنانے کا منصوبہ شروع کیا۔ سال 2013 تک ہونے والے انضمام نے TAT کو آیاندے بینک میں تبدیل کر دیا جو 2025 میں منہدم ہو گیا جبکہ اسے قرضوں سمیت مختلف الزامات کا سامنا تھا۔
بلومبرگ نے لکھا ہے کہ ایسے معاملات سے واقف لوگوں نے بتایا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای آیاندے بینک کے آپریشنز اور ایران مال پروجیکٹ میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے جبکہ علی انصاری آیاندے میں پرنسپل شیئر ہولڈر تھے۔
رقوم کی منتقلی
بلومبرگ کے مطابق دو افراد نے بتایا کہ علی انصاری اور مجتبیٰ خامنہ خامنہ ای تہران کے اعلیٰ ترین ضلع ظفرانیہ کے ایک گھر میں نجی طور پر ملاقات کرتے ہیں جبکہ کئی مواقع پر خفیہ بات چیت کیلئے آیاندے دفتر کا استعمال کرتے ہیں۔ جیسے جیسے علی انصاری کی گھریلو سلطنت پھیلتی گئی، اسی طرح کچھ لوگوں کے مطابق، علی انصاری کا مجتبیٰ خامنہ ای کیلئے بیرونِ ملک مالیاتی سرگرمیوں میں کردار بھی بڑھتا چلا گیا جس میں یورپ بھر میں بینکاری تعلقات قائم کرنا اور متحدہ عرب امارات میں کمپنیز کی کالا بازاری کے ذریعہ تیل کی برآمدات سے منافع کمانا شامل ہیں۔
امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ اِس نیٹ ورک میں زیادہ تر رقوم غیر ایرانی فرمز کے ذریعہ منتقل کی گئی ہیں جن میں سینٹ کٹس اینڈ نیوس میں رجسٹرڈ زیبا لیزر لمیٹڈ، آئل آف مین میں قائم بِرچ وینچرز لمیٹڈ اور اے اینڈ اے لیزر لیمیٹڈ کے ساتھ ساتھ اماراتی ادارے بھی شامل ہیں جن میں میداس آئل انڈسٹریز ایف زیڈ سی اور میداس آئل ٹریڈنگ ڈی ایم سی سی کے نام سامنے آتے ہیں۔
علی انصاری اور موریس مشالی
بلومبرگ کی طرف سے دیکھے گئے صریع پیغامات کے مطابق ابوظہبی اسلامی بینک PJSC سے زیبا لیزر میں منتقلی کیلئے متحدہ عرب امارات میں قائم ایک انٹرمیڈیٹری فرم کا استعمال کیا گیا۔ دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ 2014 میں علی انصاری اور ایرانی نژاد برطانوی شہری موریس مشالی کو دو ڈائریکٹرز کے طور پر زیبا لیزر میں شامل کر لیا گیا تھا۔
قبرص کا پاسپورٹ
بلومبرگ کے مطابق 2016 میں علی انصاری نے ’’قبرص کا پاسپورٹ‘‘ حاصل کیا جس سے اسے یورپ میں نئے بینک اکاؤنٹس اور کمپنیز کھولنے کی اجازت ملی۔ اِس معاملہ سے واقف لوگوں کے مطابق اِس طرح علی انصاری کو ایرانی سیاسی تعلقات چھپانے میں بھی مدد ملی۔ بلومبرگ کی طرف سے دیکھی گئی دستاویزات کے مطابق جزیرے کے حکام نے بعد میں ایرانی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) اور چھوٹے خامنہ ای (مجتبیٰ) کے ساتھ روابط کی جانچ پڑتال کے دوران علی انصاری کی شہریت منسوخ کرنے کے حوالہ سے بھی بحث کی۔
امریکی اخبار کے مطابق قبرص کی وزارتِ داخلہ نے علی انصاری کا پاسپورٹ منسوخ کر دینے کے حوالہ سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تاہم کہا کہ اِس معاملہ کی تفتیش جاری ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی ایران سے باہر سلطنت کا مقصد مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ اگر اِس کا مقصد کسی طرح کے مشکل حالات میں ایران چھوڑنے کی صورت میں خاندان کی ضرورت کے تحت ہے تو پھر برطانیہ کے حکام کی طرف سے علی انصاری پر پابندی عائد کرنے اور اِن اثاثوں کو منجمد کرنے کے فیصلے نے منظر کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
درجن سے زائد جائیدادوں کا سراغ
بلومبرگ نے لندن میں اِس نیٹ ورک کی ملکیت میں درجن سے زائد جائیدادوں کا سراغ لگایا ہے۔ ایک بشپس ایونیو پر علی انصاری کے نام ہے جبکہ دیگر بِرچ وینچرز کی ملکیت میں ہیں جہاں یو کے کمپنیز ہاؤس ریکارڈز علی انصاری کو ایک فعال بینیفیشری مالک کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔
ایران کی سیاسی و کاروباری اشرافیہ کے برطانوی اثاثوں کا سراغ لگانے والے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل برطانیہ کے ایک سینیئر تحقیقاتی سربراہ بین کاؤڈاک کہتے ہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ ایران کے سیاسی راہنماؤں کے قریبی لوگوں نے برطانیہ میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ کاؤڈیک مزید کہتے ہیں کہ ہماری پراپرٹی مارکیٹ کو جابرانہ حکومتوں کی مالی معاونت کرنے والوں کیلئے محفوظ ڈیپازٹ باکس کے طور پر کام نہیں کرنا چاہیے۔
بلومبرگ کے مطابق جون 2025 میں علی انصاری کے والد کے جنازے میں ایرانی قیادت کی شرکت دونوں کے درمیان قربت کو ظاہر کرتی ہے جہاں اُس وقت کے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای، اُن کے خاندان اور اُن کے دیرینہ مشیروں نے بھی شرکت کی تھی۔
لیکن آیاندے بینک کی ناکامی نے ملکی عوامی سطح پر کچھ سخت گیر سیاست دانوں کی طرف سے علی انصاری پر تنقید کو دوبارہ موقع فراہم کیا ہے۔ گزشتہ دہائی میں بینک کی کئی ناکامیوں کا الزام اُن ایگزیکٹیوز کی بدانتظامی پر لگایا گیا جن کے خلاف غیر قانونی طور پر خود کو فائدے پہنچانے یا بھاری رقم قرض پر دینے سے متعلق مقدمہ چلایا گیا۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی (آئی آر این اے) کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں پارلیمنٹ کے ایک سخت گیر رکن امیر حسین سبیطی نے عدلیہ پر زور دیا کہ وہ علی انصاری کو آیاندے کے مالی نقصانات کا بِل پیش کرنے پر مجبور کرے۔سکتا ہے۔
فرینکفرٹ اور مایورکا میں فائیو سٹار ہوٹلز
بلومبرگ کے مطابق یہ نیٹ ورک جرمنی کے مالیاتی دارالحکومت (فرینکفرٹ) اور سپین میں مایورکا کے دھوپ میں بھیگے جنوب مغربی ساحل کے ساتھ فائیو سٹار ہوٹلز کا بھی مالک ہے جس نے فرینکفرٹ حکام کی توجہ بھی مبذول کرائی ہے۔ پراپرٹی ریکارڈ کے مطابق ٹورنٹو کی فور سیزنز پرائیویٹ ریزیڈینسیز میں ایک پینٹ ہاؤس 7 اعشاریہ 7 ملین ڈالرز میں فروخت کیا گیا تھا جبکہ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع ایک عمارت کے ایک حصہ کو 2023 میں آف لوڈ کیا گیا تھا۔
وہ ہمارے نظام کا غلط استعمال کرتے ہیں
بلومبرگ کے مطابق فرینکفرٹ کی ڈپٹی میئر نرگس گرونبرگ، جو تہران میں پیدا ہوئیں اور ایرانی انقلاب 1979 کے بعد قید کی گئیں جہاں اُنہوں نے بیٹی کو بھی جنم دیا، کہتی ہیں کہ ایرانی حکومت جرمنی کے مالیاتی نظام میں قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے، وہ ہمارے سسٹم کا غلط استعمال کرتے ہیں۔
نرگس گرونبرگ مزید کہتی ہیں کہ اِس حکومت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، اقتدار میں رہنے والوں کی کمپنیز اور ساتھیوں پر پابندی ہونی چاہیے۔
ہِلٹن فرینکفرٹ گریوین بِرچ
فرینکفرٹ شہر کے جنوب میں ایک سپا (چشمہ کے قریب واقع مقام) کنٹری کلب اور دو بال رومز کے حامل ’’ہِلٹن فرینکفرٹ گریوین بِرچ‘‘ بین الاقوامی شخصیات اور سربراہانِ مملکت کی مہمان نوازی کی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق مالی ریکارڈز اور ہلٹن کے بیانات دونوں واضح کرتے ہیں کہ ’’موریس مشالی‘‘ ایلسکو گریوین بِرچ ہوٹل مینیجمنٹ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتے ہیں جو 2011 سے اِس ہوٹل کی ملکیت ہے جبکہ 2024 میں اِس پراپرٹی کیلئے ہلٹن کے ساتھ انتظامی معاہدے پر دستخط بھی کیے گئے۔ بلومبرگ کے مطابق ہلٹن ورلڈ وائیڈ ہولڈنگز انکارپوریشن اور فور سیزنز نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
یو کے کارپوریٹ فائلنگز سے ظاہر ہوتا ہے کہ موریس مشالی اور علی انصاری دونوں نے متعدد فرمز میں کردار ادا کیے ہیں جن میں ویریٹاس رئیلیس انویسٹمنٹ لمیٹیڈ اور اے اینڈ اے لیزر (جس کو 2024 میں تحلیل کر دیا گیا تھا) شامل ہیں۔ بلومبرگ کے ذریعہ دیکھے گئے دستاویزات میں اِن کی شناخت زیبا لیزر کے شریک ڈائریکٹرز کے طور پر کی گئی ہے جو کہ ایلسکو گریوین بِرچ ہوٹل مینیجمنٹ کمپنی اور فرینکفرٹ ہوٹل کے واحد شیئر ہولڈر تھے۔ جرمنی اور لکسمبرگ کے کارپوریٹ ریکارڈز بتاتے ہیں کہ گزشتہ برس میں کم از کم دو بار ملکیت کا ڈھانچہ تبدیل ہوا ہے لیکن مشالی کنٹرولنگ ادارے کی ڈائریکٹر کے طور پر موجود ہیں۔
موریس مشالی نے بلومبرگ کو ایک تحریری بیان میں کہا کہ علی انصاری سے اُن کا تعلق ہمیشہ مختلف معاملات پر قانونی مشاورت کیلئے ایک باقاعدہ وکیل اور لاء فرمز کے ساتھ کام کرنے والے مشیر کے طور پر رہا ہے۔ بعدازاں مشالی کے وکیل نے اِس بات کی تردید کی کہ مشالی کا خامنہ ای سے کوئی تعلق تھا یا اُن کے علم کے مطابق مشالی کا کوئی ایسا کاروبار تھا جس میں خامنہ ای کی دلچسپی تھی۔
بلومبرگ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اور علی انصاری نے اِن اداروں کے بارے میں کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔
منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں شامل ایک یورپی اہلکار کا کہنا ہے کہ علی انصاری پر برطانیہ کے اثاثے منجمد کرنے سے یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں عائد ہونے کی صورت میں نیٹ ورک کے یورپی اثاثوں کو جلد فروخت کیا جا سکتا ہے۔







