لاہور (تھرسڈے ٹائمز) — ائیر مارشل (ر) شاہد اختر علوی نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ 28 مارچ سے قبل ایران کے خلاف جنگ ختم کر سکتے ہیں، ایران کا سارا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، ایران اور امریکا کے مابین جنگ سے قبل ہی معاہدہ طے پا چکا تھا، جنگ کا مقصد ہرمز سے نکلنے والے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے، پاکستان نے ایران سے کہا کہ وہ عرب ممالک پر حملوں سے گریز کرے، پاک بھارت جنگ کے بعد خطہ میں بھارتی اثر و رسوخ ختم ہو گیا، حالات تاثر پیدا کرتے ہیں کہ افغانستان کسی دوسری طاقت کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔
ائیر مارشل (ر) شاہد اختر علوی کا ’’تھرسڈے ٹائمز‘‘ کے ساتھ خصوصی انٹرویو
قومی سلامتی کے تجزیہ کار اور ائیر مارشل (ر) شاہد اختر علوی نے ’’تھرسڈے ٹائمز‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا دردناک پہلو یہ ہے کہ ایران پر اب تک 10 ہزار بمباری کی کارروائیوں کے باعث ایران کا سارا انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان سُن کر افسوس ہوا کہ ایران پر حملے کیلئے اب کوئی ٹارگٹ ہی نہیں بچا، یہ جنگ ایران کو کئی دہائیاں پیچھے لے جا چکی ہے، ایران کو جنگ کے بعد دوبارہ سنبھلنے کیلئے بہت زیادہ وقت درکار ہو گا۔
مسلمانوں نے اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کا قتلِ عام دیکھا ہے
تھرسڈے ٹائمز کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو کے آغاز میں ائیر مارشل (ر) شاہد اختر علوی نے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں نے اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کا قتلِ عام دیکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو بھی جذباتی انداز میں دیکھتے ہیں، اسرائیل نے 1947 اور اُس کے بعد کئی مواقع پر فلسطینیوں کی بڑی تعداد کو اُن کی زمینوں سے نکال کر وہاں یہودیوں کو آباد کیا کیونکہ اسرائیل کو خوف لاحق تھا کہ فلسطینیوں کی ڈیموگرافک پاپولیشن اسرائیل کیلئے مسئلہ بنے گی، اب غزہ کے مسائل کو حل کرنے کیلئے بورڈ آف پیس بھی بنا ہے، دیکھنا ہو گا کہ بورڈ آف پیس کسی نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے یا نہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پا چکا تھا
امریکا و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے ائیر مارشل (ر) شاہد اختر علوی نے کہا کہ جنگ سے ایک روز قبل عمان کے دفترِ خارجہ نے بتایا کہ امریکا و ایران کے مابین ایسا معاہدہ طے پا گیا ہے جو امریکا کو منظور ہے جبکہ ایران نے یقین دلایا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کو ابتدائی طور پر زیرو پر لے جائے گا اور پھر 3 سے کم رکھے گا جو صرف پُرامن مقاصد کیلئے استعمال ہوتی ہے، لیکن اِس کے باوجود ایران پر حملہ کر دیا گیا حالانکہ اسرائیل ابراہم ایکرڈز کے قریب پہنچ چکا تھا اور بورڈ آف پیس بھی بن چکا تھا، سب چیزیں اسرائیل کے حق میں جا رہی تھیں لیکن اُس نے ایران پر حملہ کر کے ابراہم ایکرڈز کو بھی داؤ پر لگا دیا۔
جنگ کا مقصد ہرمز سے نکلنے والے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے
سابق ائیر مارشل نے کہا اسرائیل اپنی مخالف آوازوں کو دبانا چاہتا ہے، امریکا نے ہمیشہ اِس خطہ پر ایک کنٹرول برقرار رکھا ہے اور اب اُس کا ارادہ ہرمز سے نکلنے والے تیل کے ذخائر پر مکمل قبضہ کرنا ہے، یہ سمجھنا مشکل ہے کہ امریکا نے صرف اسرائیل کیلئے جنگ میں شمولیت اختیار کی۔ جنگ کے مقاصد یہی لگتے ہیں کہ انرجی وسائل کو قبضہ میں لیا جائے، چین کی ترقی کو روکا جائے، ڈالر کو مضبوط کیا جائے اور پھر وہ سی پیک کی جانب بھی آ سکتے ہیں جس کیلئے ایران ایک راستہ ہے، امریکا نے افغانستان کو بھی خفیہ طور پر سپورٹ کیا اور موجودہ حالات تک پہنچایا۔
یورپ کالونی سسٹم سے لوٹا ہوا مال واپس کر دے تو موسم کے علاوہ کچھ باقی نہ رہے گا
شاہد اختر علوی کا کہنا تھا کہ پوری دنیا اِس جنگ کی مخالفت کر رہی ہے، یورپی ممالک مجبور دکھائی دیتے ہیں، غزہ اور ایران کی جنگوں نے یورپ کی تہذیب کا اصل چہرہ بےنقاب کر دیا ہے، واضح ہو گیا ہے کہ یورپ کا انسانی حقوق پر بات کرنا محض دکھاوا ہے، یورپی ممالک کے اپنے لیے اصول الگ اور باقی سب کیلئے اصول الگ ہیں، اگر یہ دنیا میں کالونی سسٹم سے لوٹا ہوا مال واپس کر دیں تو اِن کے پاس موسم کے علاوہ کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔
امریکی کانگریس کے 506 ارکان اسرائیلی لابی کی ڈونیشن سے منتخب ہوئے
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ بینجمن نیتن یاہو کے اثر و رسوخ کا یہ عالم ہے کہ اُنہوں نے وائٹ ہاؤس کو بائی پاس کرتے ہوئے کانگریس سے خطاب کیا، امریکی کانگریس کے 580 میں سے 506 ارکان اسرائیلی لابی کی ڈونیشن سے منتخب ہوئے، بینجمن نیتن یاہو نے 1982 میں ہی خدشہ کا اظہار کر دیا تھا کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار بنائے گا، امریکا و اسرائیل کو بہت پہلے اندازہ ہو گیا تھا کہ ایران گریٹر اسرائیل کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور اِسی لیے تواتر سے ایران پر حملے کے بہانے ڈھونڈتے رہے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر کے ماتحت 31 کمانڈز کام کرتی ہیں
ایران کے دفاعی نظام سے متعلق اپنے مطالعہ کی بنیاد پر تجزیہ بیان کرتے ہوئے سابق ائیر مارشل شاہد اختر علوی کا کہنا تھا کہ ایران نے خطہ کے دیگر ممالک میں حکومتوں کے انہدام کا مطالعہ کیا اور اُس کے مطابق اپنی دفاعی پالیسی تشکیل دی، ایرانی سپریم لیڈر کے ماتحت 31 کمانڈز کام کرتی ہیں اور سپریم لیڈر کی موت کی صورت میں بھی وہ اپنے اپنے علاقوں میں دفاع جاری رکھتی ہیں جبکہ کمانڈز کیلئے ہتھیاروں کی سپلائی کا سسٹم بھی موجود ہے۔
بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستانی ائیر فورس کے ایکشن نے دنیا کو ہِلا کر رکھ دیا
تھرسڈے ٹائمز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ائیر مارشل (ر) شاہد اختر علوی نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں دو جنگوں نے دنیا کی سوچ کا زاویہ تبدیل کیا ہے، ایک طرف (گزشتہ برس) پاکستانی ائیر فورس کی جانب سے بھارت کے خلاف ایکشن نے دنیا کو ہِلا کر رکھ دیا اور دوسری طرف ایران فضائی طاقت نہ ہونے کے باوجود میزائل اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے امریکا و اسرائیل کا مقابلہ کر رہا ہے، امریکا جنگوں میں مخالف ائیر فورسز کو کنٹرول کرنے میں ماہر ہے تاہم میزائلز اور ڈرونز کا مقابلہ کرنے میں کمزور دکھائی دے رہا ہے۔
ایرانی سٹریٹجی طویل مدتی جنگ، امریکی پالیسی مختصر و شدید نوعیت کی جنگ
شاہد اختر علوی کا کہنا تھا کہ ایران کی سٹریٹیجی طویل مدتی جنگ کی ہے جبکہ امریکا مختصر اور شدید جنگ کی پالیسی پر چلتا ہے، ایرانی پالیسی کامیاب دکھائی دے رہی ہے کیونکہ امریکی صدر کے بیانات آنا شروع ہو گئے ہیں کہ جنگ ختم بھی ہو سکتی ہے، طویل مدتی جنگ کیلئے حکمرانوں کو عوامی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کو حاصل نہیں، پہلی بار ایسا ہوا کہ امریکا میں 50 فیصد سے زائد لوگ اسرائیل کی حمایت نہیں کر رہے جبکہ 80 فیصد امریکی اِس جنگ کے خلاف ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اپنے کسی بھی بیان سے کسی بھی وقت ہٹ سکتے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ائیر مارشل (ر) شاہد اختر علوی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسی شخصیت رکھتے ہیں کہ وہ اپنے کسی بھی بیان سے کبھی بھی ہٹ سکتے ہیں، وہ اپنے ہر بیان میں ایک ایسا عنصر چھوڑتے ہیں جس کو وہ بعد میں استعمال کر سکتے ہوں لیکن موجودہ حالات میں امریکی ماحول ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھ نہیں دے رہا، امریکا کے کچھ سینیٹرز نے بھی شدید تنقید کی ہے جبکہ دوسری جانب ایران قیادت کو ایران کے اندر سے مکمل حمایت حاصل ہے۔
پاکستان نے ایران سے کہا کہ وہ عرب ممالک پر حملوں سے گریز کرے
خطہ کی کشیدہ صورتحال اور بحران کے دوران پاکستان کے کردار سے متعلق بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پالیسی متوازن ہے، وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ معاملات کو سلجھانے کی کوششیں کر رہے ہیں، پاکستان نے ایران کو سمجھایا ہے کہ وہ عرب ممالک پر حملوں سے گریز کرے، دوسری جانب پاکستان عالمی فورمز پر امریکا و اسرائیل کے اقدامات کی مذمت بھی کر رہا ہے، پاکستان ایک اہم ملک ہے جو نہ صرف موجودہ جنگ بلکہ آئندہ بھی خطہ کے سیاسی معاملات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
نریندر مودی ہندوتوا پالیسی پر چل رہے ہیں
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے متعلق بات کرتے ہوئے سابق ائیر مارشل نے کہا کہ نریندر مودی سے پہلے بھارت کی پالیسی متوازن تھی جس میں وہ فلسطینی کاز کی بھی حمایت کرتا تھا لیکن نریندر مودی کے آنے کے بعد بھارت کی پالیسی تبدیل ہو گئی ہے، مودی ہندوتوا پالیسی پر چلتے ہیں جو اقلیتوں کیلئے نقصان دہ ہے، بھارتی وزیراعظم مسلمانوں سے دشمنی میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ بھارت کے خلیجی ممالک کے ساتھ کتنے اچھے تعلقات ہیں اور وہاں کتنے بھارتی رہتے ہیں، مودی اپنی ہندوتوا پالیسی میں اتنا آگے چلے گئے کہ دو سالوں تک جاری رہنے والی غزہ و اسرائیل جنگ میں خاموش رہے جس نے تاثر دیا کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔
پاک بھارت جنگ کے بعد خطہ میں بھارتی اثر و رسوخ ختم ہو گیا
گزشتہ برس مئی میں ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پاک بھارت جنگ کے بعد بھارت کا خطہ میں اثر و رسوخ طویل مدت کیلئے ختم ہو گیا ہے، آپریشن سندور کے نتیجہ میں بھارت کو جو ہزیمت اٹھانا پڑی وہ بھارتی تاریخ میں پہلے کبھی نظر نہیں آتی، بھارت نے اپنا وہ اثر و رسوخ دوبارہ حاصل کرنے کیلئے بڑی طاقتوں کے ساتھ اتحاد کی کوششیں کی ہیں، مودی سمجھتے ہیں کہ اگر امریکا و اسرائیل ایران میں کامیاب ہو کر ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو بھارت خطہ میں ایک اہم کردار بن سکتا ہے۔
موجودہ حالات تاثر پیدا کرتے ہیں کہ افغانستان کسی دوسری طاقت کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جنگ کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں سابق ائیر مارشل کا کہنا تھا کہ افغانستان کو سوچنا چاہیے کہ وہ پاکستان کا پڑوسی ہے اور پاکستان نے ہمیشہ اسے سپورٹ کیا ہے، پاکستان نے افغانستان کیلئے بہت سی قربانیاں دی ہیں، طالبان قیادت کو احساس ہونا چاہیے کہ وہ اپنی موجودہ خارجہ پالیسی سے افغانستان کے سب سے بڑے محسن کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کر رہی ہے، موجودہ حالات یہ تاثر پیدا کرتے ہیں کہ افغانستان کسی دوسری طاقت کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔
افغان طالبان کو پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کارروائیاں روکنا ہوں گی
تھرسڈے ٹائمز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں ائیر مارشل (ر) شاہد اختر علوی نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ٹی ٹی پی کو ختم کر دینا چاہتے ہیں، ہم نے افغان قیادت کو بھی ایسا نہیں کہا کہ ٹی ٹی پی کو بالکل ختم کر دیں، ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ افغان حکومت اُنہیں کنٹرول کرے اور افغانستان تک محدود رکھے کیونکہ وہ پاکستان کے اندر کارروائیاں کرتے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ ٹی ٹی پی نے امریکا کے خلاف لڑتے ہوئے افغان طالبان کا ساتھ دیا لیکن اب افغان طالبان کو اسے پاکستان کے خلاف کاروائیوں سے روکنا ہو گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 مارچ سے پہلے جنگ ختم کر سکتے ہیں
امریکا و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا جنگوں کے حوالہ سے قیاس آرائی مشکل کام ہوتا ہے لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 مارچ کو چین کے تین روزہ دورہ سے پہلے جنگ کو ختم کرنا چاہیں گے۔
ایران کا سارا انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا، سنبھلنے میں بہت وقت لگے گا
امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران کے نقصانات سے متعلق بات کرتے ہوئے ائیر مارشل (ر) شاہد اختر علوی کا کہنا تھا کہ ایران پر اب تک 10 ہزار بمباری کی کارروائیوں کے باعث ایران کا سارا انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے، امریکی صدر کا بیان سُن کر افسوس ہوا کہ ایران پر حملے کیلئے اب کوئی ٹارگٹ ہی نہیں بچا، یہ جنگ ایران کو کئی دہائیوں پیچھے لے گئی ہے، ایران کو جنگ کے بعد دوبارہ سنبھلنے میں بہت زیادہ وقت لگے گا۔




