اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — حکومتِ پاکستان نے کفایت شعاری اور فیول کنزرویشن کے تحت ایک اہم اور غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے اعلیٰ سرکاری افسران اور حکومتی نمائندوں کی مراعات میں عارضی طور پر کمی کا اعلان کر دیا ہے جس کو موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث ریاستی سطح پر خود احتسابی اور قربانی کے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدام دو ماہ کیلئے نافذ العمل ہو گا اور اِس کا اطلاق صرف اعلیٰ انتظامیہ پر ہو گا جبکہ عام سرکاری ملازمین اِس کٹوتی سے مکمل طور پر مستثنیٰ رہیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اِس فیصلے کا مقصد حکومتی اخراجات میں کمی لانا، ایندھن کے استعمال میں احتیاط کو ملحوظِ خاطر رکھنا اور مالی نظم و ضبط کے ذریعہ ریاستی وسائل کے متوازن استعمال کو یقینی بنانا ہے۔
اِس پروگرام کے تحت سٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز، خودمختار اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز اور دیگر سرکاری اداروں میں کام کرنے والے اعلیٰ عہدیدار متاثر ہوں گے جن میں چیف ایگزیکٹو آفیسرز، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، ڈائریکٹرز اور سینئر مینیجرز شامل ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ کٹوتی کا بوجھ نچلے یا متوسط درجہ کے ملازمین پر نہیں ڈالا جائے گا بلکہ صرف اُن افسران تک محدود ہو گا جو نسبتاً زیادہ تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق 3 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والے افسران کی مجموعی تنخواہ سے دو ماہ کیلئے 5 فیصد کٹوتی کی جائے گی جبکہ 10 لاکھ سے 20 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والوں کیلئے یہ شرح 15 فیصد ہو گی۔ ایسے افسران جن کی تنخواہیں 20 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک ہیں اُن کی تنخواہوں میں 25 فیصد کمی کی جائے گی جبکہ 30 لاکھ روپے سے زائد ماہانہ تنخواہ لینے والے افسران کی مجموعی تنخواہ سے 30 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ یوں اِس پالیسی کا بنیادی اصول یہی رکھا گیا ہے کہ جتنا بڑا عہدہ ہو گا اور جتنی زیادہ تنخواہ ہو گی، اتنی ہی زیادہ قربانی دینا ہو گی۔
مزید برآں، حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری اداروں اور نجی کمپنیز کے بورڈز میں شامل حکومتی نمائندوں کی بورڈ فیس بھی دو ماہ کیلئے مکمل طور پر ایک مخصوص فنڈ میں جمع کرائی جائے گی۔ حکام کے مطابق یہ رقم عوامی سہولت اور فلاحی اقدامات پر خرچ کی جائے گی تاکہ یہ اقدام صرف علامتی نہ رہے بلکہ اِس کے عملی اثرات بھی براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔
اِس فیصلے کو حکومت اُس تنقید کے جواب کے طور پر بھی پیش کر رہی ہے جو ایک عرصہ جاری ہے کہ ہر مشکل معاشی مرحلہ میں بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ حکمران طبقہ خود کسی قربانی کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا۔ سرکاری مؤقف یہ ہے کہ اِس بار حکومت نے خود سے آغاز کرتے ہوئے ایک ایسی مثال قائم کی ہے جس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ریاستی نظم و نسق میں اوپر سے نیچے تک ذمہ داری اور احتساب ہونا چاہیے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق اِسی سوچ کے تحت پٹرولیم قیمتوں میں دوسری مرتبہ اضافہ کرنے کا فیصلہ روک دیا گیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی کشیدگی، عالمی ایندھن مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال اور قومی مالی وسائل پر بڑھتے دباؤ کے تناظر میں یہ اقدام نہایت ضروری تھا جس کے ذریعہ نہ صرف اخراجات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ ادارہ جاتی سطح پر کفایت شعاری کے کلچر کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ حکام کے نزدیک اگر ریاست خود اپنے اندر بچت اور نظم و ضبط پیدا نہیں کرے گی تو پھر عوام سے قربانی کی توقع اخلاقی طور پر کمزور ہو جائے گی۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ حکومت نے اِس فیصلے کو مستقل پالیسی قرار نہیں دیا بلکہ واضح کیا ہے کہ یہ صرف دو ماہ کیلئے ایک عارضی انتظام ہے۔ اِس مدت کے اختتام پر خطہ کی صورتحال، تیل و ایندھن کی عالمی قیمتوں اور مجموعی معاشی حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مستقل بنیادوں پر یکطرفہ بوجھ ڈالنے کی بجائے حالات کے مطابق لچکدار رویہ اختیار کرنا چاہتی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ فیصلہ محض تنخواہوں میں کٹوتی کا انتظامی حکم نہیں بلکہ ایک سیاسی اور اخلاقی پیغام بھی ہے۔ حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ قومی سطح پر مشکل فیصلے صرف عوام کیلئے نہیں بلکہ اقتدار اور اختیار کے ایوانوں کیلئے بھی ہونے چاہئیں۔ اب اصل سوال یہ ہو گا کہ آیا یہ اقدام واقعی عوامی ریلیف، مالی بچت اور ایندھن کے محتاط استعمال میں مؤثر ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔ تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے وقت میں، جب معاشی دباؤ اور عوامی توقعات دونوں بلند ہیں، خود سے قربانی کا آغاز کر کے ایک اہم سیاسی مثال قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔




