ورجینیا (تھرسڈے ٹائمز) — ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ سفارتی رابطوں میں اب بھی معاہدے کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم امریکی صدر نے اِس کے ساتھ ہی سخت دھمکی دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر تہران نے اُن کی جانب سے مقرر کی گئی ڈیڈ لائن تک امریکا کے ساتھ ڈیل نہ کی تو پھر ایران کے اندر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’’ایکسیوس‘‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹیلیفونک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کا اچھا امکان موجود ہے لیکن اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ وہاں (ایران میں) سب کچھ اُڑا دیں گے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطہ پہلے ہی شدید تناؤ، جنگی خدشات اور معاشی بےیقینی کی لپیٹ میں ہے۔ ایکسیوس کے مطابق گزشتہ دس روز کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان، مصر اور ترکیہ کے ذریعہ بالواسطہ مذاکرات ہوئے ہیں تاکہ جنگ بندی کے تحت آبنائے ہرمز کو کھولا جا سکے تاہم اب تک کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
اِس پیش رفت کی اہمیت محض ایک اور سفارتی دور تک محدود نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ آیا ثالث ممالک، خصوصاً پاکستان، اِس بحران کو کھلے تصادم میں بدلنے سے روکنے میں کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں۔ ثالثی عمل سے واقف ذرائع کے مطابق ماحول اب بھی نازک ہے اور مذاکرات کار اِس کوشش میں ہیں کہ کم از کم ایک ایسا جزوی فریم ورک تیار ہو جائے جس سے ڈونلڈ ٹرمپ کے الٹی میٹم میں توسیع ممکن ہو سکے۔
ایکسیوس کے مطابق اتوار کی صبح، اپنے انٹرویو سے کچھ ہی دیر پہلے، امریکی صدر نے ایک اشتعال انگیز پیغام میں ایران کو دھمکی دی کہ اگر منگل تک آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو ایران کے پاور پلانٹس اور پُلوں پر حملے شروع ہو سکتے ہیں۔ یہ زبان نہ صرف سفارتی لحاظ سے غیر معمولی تھی بلکہ اِس نے خطہ میں جنگ کے دائرہ کار میں مزید پھیلاؤ کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’ایکسیوس‘‘ سے گفتگو میں یہ بھی کہا ہے کہ اُن کے نمائندے سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر ایرانیوں کے ساتھ ’’انتہائی سنجیدہ مذاکرات‘‘ کر رہے ہیں۔ ثالثی عمل سے منسلک دو ذرائع کے مطابق یہ رابطے صرف پاکستان، ترکیہ اور مصر کے ذریعہ ہی نہیں بلکہ امریکی صدر کے مشیروں اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیکسٹ پیغامات کی صورت میں بھی جاری ہیں۔ بظاہر رابطے موجود ہیں تاہم فاصلہ اب بھی برقرار ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ چند روز قبل امریکا اور ایران براہِ راست مذاکرات کے قریب پہنچ گئے تھے مگر پھر ایران کی جانب سے پانچ روز بعد ملاقات کی بات کی گئی۔ ایکسیوس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اِسی تناظر میں کہا کہ اُنہیں محسوس ہوا کہ ’’ایران سنجیدہ نہیں‘‘ اور اِسی لیے اُنہوں نے بدھ کے روز تہران کو شمالی ایران سے ملانے والے ایک پُل پر حملے کا حوالہ دیا۔
ایرانی مؤقف اِس سے یکسر مختلف ہے۔ تہران نے امریکی دھمکیوں کو جنگی جرائم کی منصوبہ بندی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو جواب میں اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کے انفراسٹرکچر کو بھی حملوں کی زد میں لایا جا سکتا ہے۔ اِس ردِعمل نے بحران کو صرف عسکری نہیں بلکہ انسانی اور قانونی سطح پر بھی کہیں زیادہ سنگین بنا دیا ہے۔
ایکسیوس کے مطابق جب ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا اُنہیں اِس بات کی فکر ہے کہ ایسے حملوں میں بےگناہ ایرانی شہری متاثر ہو سکتے ہیں، تو امریکی صدر نے جواب دیا کہ اُن کے خیال میں وہ ایرانی شہری جو اپنی حکومت کے مخالف ہیں ایسی کارروائیوں کو حکومت کمزور کرنے کیلئے مفید سمجھیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ شہری خوف میں زندگی گزار رہے ہیں اور اُنہیں اندیشہ ہے کہ امریکا جنگ کے درمیان اُنہیں چھوڑ دے گا، مگر ایسا نہیں ہو گا۔
یہ بیان اِس بحران کی سب سے زیادہ خطرناک جہت کو آشکار کرتا ہے کہ ریاستی دباؤ اور جنگی حکمتِ عملی کے درمیان عام شہری ایک بار پھر مرکز میں آ گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی توانائی رسد، تیل کی قیمتوں اور خطہ کے معاشی استحکام کی شہ رگ بھی ہے۔ اگر اِس بحران کا حل سفارتکاری سے نہ نکلا تو ممکنہ اثرات مشرقِ وسطیٰ سے بہت آگے تک محسوس کیے جائیں گے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ’’ایکسیوس‘‘ کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ اعتماد سازی کیلئے ایک ایسے پیکیج پر کام کر رہے ہیں جس سے نہ صرف امریکی صدر کی ڈیڈ لائن میں توسیع ممکن ہو سکے گی بلکہ فریقین کو ایک ایسی سطح تک بھی لایا جا سکے گا جہاں براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار ہو سکے گی۔ تینوں ممالک کے وزراءِ خارجہ نے ہفتہ کے روز اِس معاملہ پر سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عراقچی سے فون پر رابطے بھی کیے ہیں تاہم کوئی بریک تھرو سامنے نہیں آ سکا۔







