معرکہِ حق کے بعد پاکستان خطہ میں نیٹ سیکیورٹی سٹیبلائزر کے طور پر مستحکم ہوا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

کسی کو شک ہے تو ہمیں پھر سے آزما لے، ہم کل بھی تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں۔ معرکہِ حق کے بعد پاکستان خطہ میں نیٹ سیکیورٹی سٹیبلائزر کے طور پر مستحکم ہوا ہے۔ کسی کا باپ بھی پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، کوئی پاکستان کو ختم نہیں کر سکتا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ اللّٰه کے فضل و کرم سے ہم نے خود سے 5 گنا بڑے دشمن اور اُس کے غرور کو شکست دی، کسی کا باپ بھی پاکستان پر کوئی آنچ نہیں لا سکتا، کوئی بھی پاکستان کو ختم نہیں کر سکتا، معرکہِ حق میں بھارت نے جو دیکھا وہ ہمارا 10 فیصد بھی نہیں تھا، کسی کو شک ہے تو ہمیں آزما کر دیکھ لے، ہم کل بھی تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں، پاکستان بیک وقت متعدد روایتی و غیر روایتی سیکیورٹی خدشات پر مبنی چیلنجز کا بھرپور انداز میں مقابلہ کر سکتا ہے، دنیا آج بھی بھارت سے پوچھ رہی ہے کہ پاکستان کے خلاف ثبوت کہاں ہیں؟ بھارت خود سب سے بڑا دہشتگرد ہے، معرکہِ حق کے بعد پاکستان خطہ میں نیٹ سیکیورٹی سٹیبلائزر بن کر اُبھرا ہے، ہمیں پاکستان کی طرح سعودی عرب کی سلامتی بھی عزیز ہے کیونکہ حرمین شریفین کی سلامتی سعودی عرب کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔

معرکہِ حق کو ایک سال مکمل، ڈی جی آئی ایس پی آر کی اہم پریس کانفرنس

پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے معرکہِ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افواجِ پاکستان آپ کو معرکہِ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر مبارکباد پیش کرتی ہیں، یہ ایک عظیم دن ہے جب اللّٰه کے فضل و کرم سے افواجِ پاکستان قوم کی امنگوں پر پورا اتریں اور سیاسی و عسکری قیادت کے ویژن کے مطابق خود سے کئی گنا بڑے دشمن (بھارت) اور اُس کے غرور کو مکمل طور پر شکست سے دوچار کیا۔ معرکہِ حق میں جو کچھ ہوا وہ قوم کا بچہ بچہ جانتا ہے، ہندوستان کا بچہ بچہ بھی جانتا ہے لیکن بھارت حقیقت ماننے سے انکار کرتا رہے تو وہ الگ بات ہے۔

پاکستان کو دہشتگردی کا ذریعہ ظاہر کرنے والا بھارتی بیانیہ زمین میں دفن ہو گیا

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان کو دہشتگردی کا ذریعہ ظاہر کرنے والا بھارتی بیانیہ زمین میں دفن ہو گیا، دنیا جان چکی ہے کہ پاکستان دہشتگردی کا ذمہ دار نہیں بلکہ پاکستان بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا نشانہ ہے۔ پہلگام واقعہ پر ہم نے جو سوالات ایک سال قبل اُٹھائے تھے وہ آج بھی جوں کے توں کھڑے ہیں۔ دنیا پوچھ رہی ہے کہ پاکستان کے خلاف ثبوت کہاں ہیں؟ بھارت بتائے کہ اُس نے کس دہشتگرد کیمپ کو نشانہ بنایا تھا؟ ہماری مساجد اور سویلین مقامات کو نشانہ بنایا گیا، پہلگام واقعہ کے 10 منٹس بعد ایف آئی آر درج ہوئی، اگر بھارتی انٹیلیجنس اتنی ہی مؤثر اور باخبر تھی تو سینکڑوں کلومیٹرز اندر آنے والے افراد کے بارے میں پہلے سے معلومات کیوں نہ مل سکیں؟ تب بھارتی ادارے کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے؟ بھارتی ڈرامہ دفن ہو چکا ہے کیونکہ وہ خود سب سے بڑے دہشتگرد ہیں۔

معرکہِ حق کے کئی ماہ بعد بھارتی ائیر چیف مارشل کو اچانک ایک صبح جاگنے پر یاد آ گیا کہ اُس نے بھی کوئی جہاز گرائے تھے

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کو سیاسی اور بھارتی سیاستدانوں کو عسکری رنگ میں ڈھال دیا گیا پے۔ بھارت کی فوج جو کبھی پروفیشنل تھی اُسے سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ معرکہِ حق کے کئی ماہ بعد بھارتی ائیر چیف مارشل کو اچانک ایک صبح جاگنے پر یاد آ گیا کہ اُس نے بھی کوئی جہاز گرائے تھے۔ بھارت اپنی فوجی قیادت کا گند اپنے سپاہیوں پر ڈال کر اُن کا مذاق بنا رہا ہے۔ بھارتی سیاستدان اپنے بیانات سے سیاستدان کی بجائے جنگجو دکھائی دیتے ہیں، کبھی وہ اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگاتے ہیں تو کبھی دھمکیاں دیتے ہیں، اگر تم نے یہی زبان استعمال کرنی ہے تو پھر سامنے آؤ۔ بھارت کی فوجی قیادت اپنے سیاسی بیانیہ کو فوجی اداروں میں منتقل کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دی، جبکہ پاکستان کی مسلح افواج نے پورے عرصہ کے دوران مکمل پیشہ ورانہ طرزِ عمل اختیار کیا۔

پاکستان خطہ میں نیٹ سیکیورٹی سٹیبلائزر کے طور پر مستحکم ہوا ہے

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معرکہِ حق کے نتیجہ میں پاکستان خطہ میں نیٹ سیکیورٹی سٹیبلائزر کے طور پر مستحکم ہوا ہے۔ معرکہِ حق نے دیکھا کہ کون جارحیت کا مظاہرہ کر رہا تھا اور کون اُس پر قابو پا رہا تھا۔ بھارت نے سیاسی مفادات اور جذبات میں پوری انسانیت کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی۔ آج اگر کوئی خطہ میں استحکام کیلئے سب سے زیادہ کوششیں کر رہا ہے تو وہ پاکستان اور اُس کی قیادت ہے۔

بھارت دہشتگردی کو ریاستی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے

ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ بھارت دہشتگردی کو ریاستی ہتھیار بناتے ہوئے اپنے اندرونی مسائل کو بیرونی رنگ دینے اور خارجی معاملات کو اندرونی حالات پر اثر انداز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک طرف بھارت کشمیریوں، دلت، منی پور اور اقلیتیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو خارجی معاملہ قرار دے کر پاکستان پر الزامات لگاتا ہے جبکہ دوسری جانب بھارت کشمیر جیسے عالمی تنازع کو اپنا اندرونی مسئلہ قرار دینے کی کوشش کرتا ہے۔ بھارتی میڈیا ہمت کرکے سچ بولے۔

ہم اُس وقت بھی تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ اب جنگیں محض سرحدوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ یہ کثیر الجہتی جنگیں بن کر گلیوں کوچوں تک پہنچ چکی ہے۔ اب یہ جنگیں زمین، فضاء، سمندر، سائبر، انفارمیشن اور کاگنیٹیو سمیت ہر جگہ پہنچ چکی ہے۔ بھارت جنگ کے دوران بھی اپنی پراکیسز کو لانچ کر رہا تھا۔ ہم نے بھارت کی جارحیت کا گھنٹوں میں مؤثر جواب دیا۔ ہم اُس وقت بھی تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں۔

کسی کا باپ بھی پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، کوئی پاکستان کو ختم نہیں کر سکتا

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ معرکہِ حق میں پاکستان کی یہ صلاحیت ابھر کر سامنے آئی ہے کہ پاکستان بیک وقت متعدد روایتی و غیر روایتی سیکیورٹی خدشات پر مبنی چیلنجز کا بھرپور انداز میں مقابلہ کر سکتا ہے۔ ہم ہمیشہ سے کہتے رہے ہیں کہ کسی کا باپ بھی پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا۔ قائداعظم نے فرمایا تھا کہ کوئی بھی پاکستان کو ختم نہیں کر سکتا۔ دشمن سے جو ہو سکتا ہے وہ کر کے دیکھ لے، اگر کسی کو ہمارے عزم پر کوئی شک ہے تو ابھی ہم نے ایک قسط دکھائی ہے، ہم نے خود سے پانچ گنا بڑے دشمن کو ملٹی ڈومین وار میں شکست دی۔

ہم نے خم ٹھونک کر اپنی ڈیٹرینس دوبارہ قائم کی، ہمیں سب سے بڑھ کر اللّٰه پر یقین ہے

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح طور پر کہا کہ ہم نے خم ٹھونک کر اپنی ڈیٹرینس دوبارہ قائم کی ہے۔ معرکہِ حق نے یہ واضح کر دیا کہ جغرافیائی طور پر دو پڑوسی ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔ دو نیوکلیئر ریاستوں کے درمیان جنگ پاگل پن ہے۔ لیکن اگر پھر بھی کوئی ایسا کرنا چاہتا ہے تو اُسے ہمارے حوصلے، جرأت اور عزم میں کسی طرح کا شک نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں سب سے بڑھ کر اللّٰه تعالیٰ پر یقین ہے۔

پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر دن رات بھارتیوں کے خواب میں آتے ہیں

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے معرکہِ حق میں عالمی سطح پر خود کو ایک اہم جیو پولیٹیکل اور ذمہ دار طاقت کے طور پر منوایا ہے۔ دنیا میں پاکستان کے عزت و وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی فوج اور سیاسی قیادت سب ایک اور متحد ہیں، پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر دن رات بھارتیوں کے خواب میں آتے ہیں، گیارہ مئی کی رات ہم نے کہا تھا کہ معرکہِ حق میں جو بھارت نے دیکھا وہ ہمارا 10 فیصد بھی نہیں تھا، اِس بار 14 اگست پر عظیم الشان پریڈ ہو گی، ہم عوام کو اپنی پاور پوٹینشل کی چھوٹی سی جھلک دکھائیں گے۔

پاکستان کے عوام، پاکستان کی حکومت اور پاکستان کی مسلح افواج میں ہم آہنگی واضح ہو گئی

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ معرکہِ حق میں پاکستان کے عوام، پاکستان کی حکومت اور پاکستان کی مسلح افواج میں ہم آہنگی واضح ہو گئی۔ کچھ اندرونی و بیرونی عناصر شکوک و شبہات میں مبتلا تھے لیکن سب نے دیکھا کہ اُس دن ہم سب کیسے متحد ہوئے۔ کشمیر سے گوادر تک پوری قوم یکجا ہوئی۔

کوئی مردانہ نام رکھ لو، سندور تو خواتین کو لگایا جاتا ہے

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بھارت ”سندور“ سے نکل نہیں پا رہا، کوئی مردانہ نام رکھ لو، سندور تو خواتین کو لگایا جاتا ہے۔ بھارت کو اپنی فوج کو پروفیشنل فوج بننے دینا چاہیے، بھارت مسلسل اپنی فوج کو سیاسی رنگ میں ڈھال رہا ہے۔ بھارتی فوجی کی پولیٹیسائزیشن خطہ کے استحکام کیلئے خطرناک ہے۔ ‏ہم تیار ہیں، اگر کسی نے ہمیں آزمانا ہے تو آئے اور آزما لے، آج کی دنیا میں سلامتی کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں، افواجِ پاکستان اپنی قوم کی حمایت کے ساتھ ہر حال میں پاکستان کا دفاع کریں گی، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔

بھارتی سرکار و دیگر ہندوتوا عناصر کی اسلام دشمنی

معرکہِ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر اپنی اہم پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے گزشتہ ایک سال (مئی 2025 سے مئی 2026 تک) کے اندر بھارتی سرکار و دیگر ہندوتوا عناصر کی جانب سے سامنے آنے والی اسلام دشمنی اور مسلمانوں و دیگر اقلیتوں اور مختلف کمزور طبقات پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کے مناظر بھی دِکھائے جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے گزشتہ ایک سال (مئی 2025 کے بعد) میں پاکستان کے خلاف بھارتی سپانسرڈ دہشتگردی کے مختلف واقعات کے مناظر اور اُن واقعات میں پاکستانی شہادتوں کی تفصیلات بھی واضح کر دیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اہم بیانات

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے اہم پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اہم بیانات کی ویڈیوز دکھاتے ہوئے واضح کر دیا کہ پاکستان کا مؤقف، عزم اور دفاعی پیغام ایک ہی ہے جس پر سیاسی و فوجی قیادت یکجا و متحد ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر کسی کے ذہن میں اب بھی کوئی خلش ہے تو وہ (وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے) یہ الفاظ سن لے، تسلی بھی ہو جائے گی اور پیغام بھی سمجھ آ جائے گا۔

آپریشن غضب للحق

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ”آپریشن غضب للحق“ کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بھارت کو سبق سکھایا تو اُس نے نام نہاد افغان وزیرِ خارجہ کو بلایا، افغان طالبان کہتے ہیں ہم اسلام کے علمبردار ہیں لیکن آج اُن بھارتی عناصر کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں جن کا نظریہ ہندوتوا ہے، بھارت اور افغانستان بری طرح ایکسپوز ہوئے ہیں، آپریشن غضب للحق جاری ہے، وقت کے حساب سے وقفہ دیا تھا، افغانستان ہر قسم کے دہشتگردوں کی آماجگاہ ہے، افغانستان میں ہم نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

کفار کے ساتھ معاہدہ کرنا اور اسلامی ممالک پر حملہ کرنا کون سا جہاد ہے؟

اُنہوں نے کہا کہ بھارت نے افغان طالبان کو جگہ اور سہولیات دی ہوئی ہیں، افغانستان کی سرزمین مسلسل فتنہ الہندوستان کے خوارج پاکستان پر حملوں کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ آپریشن غضب الحق کے بعد دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ کفار کے ساتھ معاہدہ کرنا اور اسلامی ممالک پر حملہ کرنا کون سا جہاد ہے؟ یہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور جہنم اِن کا ٹھکانا ہے۔ خطہ میں استحکام کیلئے ضروری ہے کہ تمام فریقین سنجیدہ، ذمہ دارانہ اور حقیقت پر مبنی رویہ اپنائیں کیونکہ غیر ضروری بیانیہ نہ صرف غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے بلکہ علاقائی امن کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

حرمین شریفین کی سلامتی سعودی عرب کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ ”سعودی عرب اور حرمین شریفین“ کے تحفظ و دفاع کے حوالہ سے پاکستان کا مؤقف واضح طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین کی سلامتی سعودی عرب کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے، سعودی عرب کو خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے، پاکستان کو اپنی سلامتی کی طرح سعودی عرب کی سلامتی بھی بےحد عزیز ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات گہرے برادرانہ رشتوں پر قائم ہیں، پاکستانی عوام سعودی عرب سے خصوصی عقیدت اور محبت رکھتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات صرف سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ مذہبی، تاریخی اور عوامی بنیادوں پر بھی مضبوط ہیں، پاکستان ہر مشکل وقت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

پھر ہم نے 6 سے 10 مئی کو اپنا کام کر کے دکھایا یا نہیں؟

ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اندر سے بھی بھارت کو کہا کہ یہ (پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت اور افواج) اپنا کام نہیں جانتے، بھارت کو کہا گیا کہ اپنے کام کے علاوہ یہ سارے کام جانتے ہیں، پھر ہم نے 6 سے 10 مئی کو اپنا کام کر کے دکھایا یا نہیں؟ بھارت گھمنڈ کرنا اور دوسرے کو کم سمجھنا چھوڑ دے، بھارت کو غلط فہمی تھی کہ پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان میں کوئی دوری ہے، ہم بار بار کہتے ہیں کہ کوئی مائی کا لعل عوام اور فوج کے درمیان نہیں آ سکتا، پاک فوج ایلیٹ کی نہیں بلکہ غریب کی فوج ہے۔

ہم پاکستانی سیاست میں سٹیک ہولڈرز نہیں ہیں

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح انداز میں کہا کہ ہم پاکستانی سیاست میں سٹیک ہولڈرز نہیں ہیں، بات چیت سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے، ہم ریاست پاکستان کی آرمڈ فورسز ہیں، ہم کسی سیاسی سوچ کی نمائندگی نہیں کرتے، آپ بات چیت سے مسائل حل کریں، آپ کو کس نے روکا ہے؟

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™