اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا جانے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی کے ساتھ نیچے آئی ہیں۔ اِس پیش رفت کو تاجروں کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بحالی اور خطہ میں تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات میں نمایاں کمی کی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں کمی نے پاکستان کی ثالثی کو فوری معاشی وزن فراہم کر دیا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی سطح پر جاری کوششوں کی کامیابی نے چند ہی گھنٹوں میں عالمی منڈیوں کو ایک نئی تحریک دے دی ہے۔ روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ دونوں کی قیمتیں 4 فیصد سے زیادہ گِر گئی ہیں کیونکہ سرمایہ کاروں نے خلیج کے گِرد موجود خطرے کا ازسرِنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

امریکا ایران امن معاہدے کے اعلان کے بعد لائن چارٹ میں برینٹ خام تیل کو تقریباً 87 اعشاریہ 35 ڈالرز سے 83 اعشاریہ 24 ڈالرز فی بیرل تک گِرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل تقریباً 84 اعشاریہ 83 ڈالرز سے 80 اعشاریہ 16 ڈالرز تک نیچے آیا ہے — اوریجنل/تھرسڈے ٹائمز
تیل کے تاجروں کی نظریں آبنائے ہرمز پر جمی ہوئی تھیں۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شمار ہوتی ہے جبکہ اِس کی نقل و حرکت کو لاحق کوئی بھی خطرہ تیزی سے قیمتوں کو اوپر لے جا سکتا ہے۔ عالمی خام تیل اور گیس کی ترسیل میں آبنائے ہرمز کا کردار نہایت اہم ہے۔
شہباز شریف کے اعلان نے ماحول کو فوری طور پر بدل دیا ہے۔ منڈیوں نے کشیدگی میں اضافہ کے بجائے فوجی تناؤ کے خطرات میں کمی، آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی اور تکنیکی مذاکرات کیلئے زیادہ واضح راستہ دکھائی دینے کے بعد قیمتوں میں کمی کرنا شروع کر دی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ بےیقینی کی کیفیت ختم ہو گئی ہے، معاہدے پر ابھی دستخط ہونا باقی ہیں، پھر اِس پر عمل درآمد ہونا ہے، اور اِسے عملی طور پر آزمایا جانا ہے۔ جوہری پابندیوں، تجارتی سختیوں میں کمی اور نگرانی و علاقائی سلامتی سے متعلق سوالات اب بھی سیاسی طور پر حساس ہیں۔
تاہم توانائی کی منڈیوں کیلئے سمت کافی حد تک واضح تھی۔ پاکستان کی ثالثی سے تقویت پانے والے امریکا ایران معاہدے کے امکان نے قیمتیں نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کی سفارتی کامیابی
اسلام آباد کیلئے تیل کی منڈیوں کا مثبت ردعمل اِس پیش رفت میں ایک اور مثبت پہلو کا اضافہ کرتا ہے۔ پاکستان کو اب صرف سیاسی معنوں میں ثالث کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا بلکہ اسلام آباد کا کردار اب عالمی معاشی اعتماد میں ایک موزوں تبدیلی سے منسلک ہو رہا ہے، خاص طور پر یورپی یونین کی جانب سے ایران کے معاملہ پر پاکستان کی ثالثی کو باضابطہ طور پر سراہے جانے کے بعد اسلام آباد کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے، واشنگٹن نے یہ اہمیت اُس وقت تسلیم کی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اُنہوں نے پاکستان کے کہنے پر ایران کو ایک موقع دیا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی سطح پر اعلان کیا جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی علاقائی سفارت کاری، جس میں چین کے وانگ یی کو یہ بریفنگ بھی شامل تھی کہ امریکا ایران معاہدہ قریب ہے، اِس پورے عمل کے وسیع سفارتی ڈھانچے کا حصہ رہی۔
یہی بات منڈیوں کیلئے اہم تھی۔ تیل کی قیمتیں اِس لیے نیچے آئیں کہ تاجروں نے علاقائی کشیدگی میں کمی، آبنائے ہرمز کی ممکنہ دوبارہ بحالی، اور اِس امکان کو زیادہ مضبوط سمجھا کہ سفارت کاری اپنا اثر برقرار رکھ سکتی ہے۔
عالمی اثرات رکھنے والا معاہدہ
اگر یہ معاہدہ طے شدہ منصوبہ کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں دستخط کے مرحلہ تک پہنچتا ہے تو توجہ تیزی سے عمل درآمد کی طرف منتقل ہو جائے گی۔ توانائی کے تاجروں، شپنگ کمپنیز، خلیجی ریاستوں اور افراطِ زر کے بارے میں پہلے سے فکرمند مرکزی بینکس نے اپنی توجہ آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی پر مرکوز کر رکھی ہے۔
فی الحال منڈیوں کا اشارہ بالکل واضح ہے کہ جب جنگ کا خطرہ کم ہوتا دکھائی دیا تو تیل کی قیمتیں نیچے گِر گئیں۔
اور اِس تبدیلی کے مرکز میں پاکستان کھڑا ہے جس کی، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیرِ قیادت، ثالثی نے ایک علاقائی بحران کو ممکنہ سفارتی حل اور معاشی استحکام میں تبدیل کرنے میں مدد دی ہے۔




