spot_img

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیئے

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔ اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔ اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے توثیق کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد ایم او یو) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے ہیں۔ قبل ازیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے اِس معاہدے کی توثیق کی جا چکی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کے دستخط نے پاکستان کو ایک بڑی سفارتی پیش رفت کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں اسلام آباد محض میزبان یا سہولتکار نہیں بلکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔

اسلام آباد ایم او یو کو ایک عبوری فریم ورک کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس کا مقصد تنازع کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کا دوبارہ بحال ہونا اور امریکا و ایران کے درمیان حتمی تصفیہ کی جانب ایک منظم سفارتی عمل کا آغاز ہے۔

رپورٹس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ اور پزشکیان نے یہ دستخط فریقین کے سینئر نمائندوں کے درمیان پہلے ہونے والے ڈیجیٹل عمل کے بعد مکمل کیے ہیں۔ ابتدائی طور پر توقع کی جا رہی تھی کہ معاہدہ جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں ایک باضابطہ تقریب کے دوران حتمی شکل اختیار کرے گا، تاہم تنازعہ اور دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک کی بندش کے باعث سفارتی دباؤ بڑھنے پر اِس عمل کو تیز کر دیا گیا۔

شہباز شریف کے کردار نے اِس معاہدے پر پاکستان کی جانب سے ایک واضح نقش ثبت کر دیا ہے۔ مفاہمتی یادداشت کا نام (اسلام آباد ایم او یو) بھی اِس سفارتی چینل کی عکاسی کرتا ہے جس کے ذریعہ پاکستان نے قطر و دیگر علاقائی کرداروں کے تعاون سے امریکا اور ایران کو بالواسطہ رابطوں کے تحت ایک تحریری فریم ورک تک پہنچانا یقینی بنایا ہے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں مبینہ طور پر تمام محاذوں، بشمول لبنان، پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمہ کی شق شامل ہے۔ معاہدہ فریقین سے یہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا اُس کی دھمکی سے گریز کریں۔ یہ دستاویز حتمی امن معاہدہ نہیں بلکہ جنگ بندی اور مذاکرات کا ایک عبوری فریم ورک ہے۔

معاہدے کی ایک مرکزی شق آبنائے ہرمز سے متعلق ہے۔ ایران سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اِس سمندری راستے سے تجارتی جہاز رانی کو محفوظ انداز میں بحال کرے گا، جبکہ امریکا سے توقع ہے کہ وہ ناکہ بندی سے متعلق اقدامات اٹھانا شروع کرے گا۔ آبنائے ہرمز کا دوبارہ بحال ہونا اِس معاہدے کا سب سے فوری معاشی پہلو ہے، کیونکہ یہ راستہ عالمی توانائی رسد کیلئے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔

یہ معاہدہ حتمی تصفیہ کیلئے 60 دن کی مذاکراتی مدت بھی فراہم کرتا ہے۔ اِن مذاکرات کے دوران پابندیوں میں نرمی، جوہری ضمانتیں، علاقائی سلامتی کے انتظامات اور وہ تصدیقی طریقہ کار شامل ہونے کی توقع ہے جو اِس عبوری مفاہمت کو ایک قابلِ عمل سفارتی تصفیہ میں بدلنے کیلئے ضروری ہوں گے۔

جوہری معاملہ پر یہ فریم ورک مبینہ طور پر ایران کی اِس یقین دہانی کو شامل کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا تیار کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ تاہم افزودہ یورینیم اور معائنہ کاری کے تفصیلی سوالات تکنیکی مذاکرات کیلئے چھوڑے گئے ہیں۔ کسی بھی قابلِ اعتماد عمل درآمد میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی کو مرکزی حیثیت حاصل رہنے کی توقع ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ پاکستانی اور قطری مذاکرات کار، جنہوں نے اِس معاہدے کی ثالثی میں مدد کی، واشنگٹن سے درخواست کر چکے ہیں کہ مکمل متن فوری طور پر جاری نہ کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ متن جمعہ تک ہر صورت عوام کے سامنے آ جائے گا، جبکہ اِس فریم ورک کو ایک ایسا معاہدہ قرار دیا جسے واشنگٹن امریکی عوام کے سامنے براہِ راست واضح کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان کی ثالثی کو وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت، سینیئر پاکستانی حکام اور علاقائی شراکت داروں کی کئی ہفتوں پر محیط خاموش سفارت کاری سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ اسلام آباد اِس معاہدے کو کسی محدود دو طرفہ مداخلت کے بجائے علاقائی استحکام میں اپنی شراکت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

شہباز شریف کیلئے بطور ثالث اِس دستاویز پر دستخط سیاسی اور سفارتی دونوں حوالوں سے اہم ہیں۔ اِس سے پاکستان کی سول قیادت معاہدے کے باضابطہ ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہے جبکہ اسلام آباد کے اِس مؤقف کو بھی تقویت ملی ہے کہ اُس نے ایک نازک لمحے پر وسیع تر علاقائی تصادم کو روکنے میں کردار ادا کیا۔

اِس معاہدے پر عالمی ردعمل ملا جلا ہے۔ حامیوں کی جانب سے اسے ایک خطرناک تنازعے میں ضروری وقفہ اور سفارت کاری کی جانب ممکنہ واپسی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ فریم ورک کئی بڑے سوالات کو حل کیے بغیر چھوڑ دیتا ہے جن میں پابندیوں میں نرمی، ایرانی عمل درآمد اور جوہری وعدوں کے نفاذ شامل ہیں۔

اب اصل امتحان عمل درآمد کا ہو گا۔ آبنائے ہرمز کا دوبارہ بحال ہونا، ناکہ بندی سے متعلق اقدامات کا خاتمہ، مکمل متن کا اجراء اور تکنیکی مذاکرات کا آغاز یہ طے کریں گے کہ اسلام آباد ایم او یو ایک پائیدار تصفیہ کی بنیاد بنتا ہے یا محض ایک نازک عبوری دستاویز بن کر رہ جاتا ہے۔

تاہم پاکستان کیلئے اِس کی سفارتی علامت پہلے ہی واضح ہے۔ ٹرمپ اور پزشکیان کی جانب سے معاہدے کی توثیق کے بعد شہباز شریف کا بطور ثالث دستخط کرنا اسلام آباد کو امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ برسوں کی ایک انتہائی اہم سفارتی پیش رفت کے مرکز میں لے آیا ہے۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times