اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — برطانوی نیوز ایجنسی ”روئٹرز“ کو انٹرویو میں سابق وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری نے کہا ہے کہ اگر عمران خان کو جیل سے رِہا کر دیا جائے تو وہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ محاذ آرائی کا راستہ اختیار نہیں کریں گے۔
یہ بیان سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو علاج کیلئے جیل سے ہاسپٹل منتقل کرنے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے جس کو روئٹرز نے گزشتہ برسوں کے دوران تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بیانیہ کے مقابلہ میں لہجے کی نمایاں تبدیلی قرار دیا ہے۔
لیکن معاملہ محض لہجے کی تبدیلی سے کہیں آگے جاتا ہے۔ زلفی بخاری کوئی غیر اہم پارٹی عہدیدار نہیں جو ایک تیار شدہ پریس ریلیز پڑھ رہے ہوں۔ وہ عمران خان کے ابتدائی اور انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں جو وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں اور گرفتاریوں، مقدمات اور عمران خان کی طویل قید کے دوران بھی اُن کے سیاسی حلقہ اثر کا حصہ رہے ہیں۔ جب تحریکِ انصاف کوئی ایسی بات کہنا چاہتی ہے جو ابھی عمران خان براہِ راست نہیں کہہ سکتے تو زلفی بخاری اُن چند شخصیات میں شامل ہیں جن کے الفاظ کو محض ذاتی رائے کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسی لیے یہ بیان اہم ہے۔ عمران خان حکومت کے خاتمہ 2022 کے بعد تحریکِ انصاف نے اپنی سیاسی توانائی ایک بنیادی تصور ”ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان“ کے گرد مجتمع کی۔
یہ صرف انتخابی نعرہ نہیں بلکہ ایسا جذباتی بیانیہ تھا جس نے گرفتاریوں، مقدمات، سیاسی دباؤ اور عمران خان کی طویل قید کے باوجود کارکنوں کو متحرک رکھا۔ حامیوں کو یہ باور کرایا گیا کہ عمران خان اُن روایتی سیاست دانوں کی طرح نہیں ہیں جو اقتدار سے نکالے جانے کے بعد بالآخر اُنھی قوتوں سے مفاہمت کر لیتے ہیں جنہیں وہ اپنی برطرفی کا ذمہ دار سمجھتے رہے ہوں۔
پی ٹی آئی کا پیغام واضح تھا کہ کپتان جھکے گا نہیں، سمجھوتا نہیں کرے گا اور اُن لوگوں کے ساتھ میز پر نہیں بیٹھے گا جن پر وہ اپنی سیاسی مشکلات کا الزام عائد کرتا آیا ہے۔
لیکن زلفی بخاری کی موجودہ زبان اُس وعدے کا دفاع کرتی دکھائی نہیں دے رہی، بلکہ اُسے از سرِ نو بیان کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔
اُنہوں نے روئٹرز سے کہا کہ انسان کو اپنی تکلیف اور درد پسِ پشت ڈالتے ہوئے مُلک کی بہتری کیلئے اُسے ”نگلنا“ بھی پڑتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ یا فوجی قیادت کے ساتھ براہِ راست ٹکراؤ ضروری نہیں ہے۔
یہ وہ زبان نہیں جو ”نہ جھکنے“ کے سیاسی بیانیہ سے مطابقت رکھتی ہو۔ یہ ماضی کے تصادم کو بردباری، قومی مفاد اور مفاہمت کے الفاظ میں لپیٹنے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔
خاص طور پر اِس لیے بھی کہ عمران خان خود ماضی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کیلئے انتہائی سخت الفاظ استعمال کر چکے ہیں۔ اب اُن کے ایک انتہائی قریبی ساتھی کی جانب سے فوجی قیادت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی بات کرنا کوئی معمولی تبدیلی نہیں ہے۔
شاید کارکنوں سے اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ گزشتہ دو برس کی مزاحمت کو اِس طرح دیکھیں کہ گویا وہ کبھی غیر مشروط تھی ہی نہیں، بلکہ مفاہمت ممکن تھی اور ہمیشہ سے مناسب وقت کی منتظر تھی۔
سوال پھر وہی ہے کہ ”ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان“ کہاں گیا؟
اگر بالآخر راستہ یہی تھا کہ تلخیاں بھلا کر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات بہتر کیے جائیں، تو پھر دو برس تک کارکنوں کو یہ باور کیوں کرایا گیا کہ کسی قسم کی مفاہمت اصولوں سے انحراف ہو گی؟
اگر ”درد نگلنا“ ہی قومی مفاد ہے تو یہی بات پہلے کیوں ناقابلِ قبول تھی؟
اور اگر فوجی قیادت سے محاذ آرائی مُلک کیلئے نقصان دہ ہے تو پھر اُس محاذ آرائی کو سیاسی شناخت کا مرکزی ستون بنانے کی قیمت کس نے ادا کی؟
یہ سوال اِس لیے بھی اہم ہے کہ تحریکِ انصاف کا بیانیہ صرف عمران خان کی ذات کے گرد نہیں گھومتا تھا بلکہ ہزاروں کارکنوں نے سیاسی دباؤ، گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا اِسی یقین کے ساتھ کیا کہ اُن کا لیڈر آخر تک اِسی مؤقف پر قائم رہے گا جس کا مطالبہ اُن سے کیا جا رہا تھا۔
اب اگر وہی مؤقف مفاہمت کی طرف مڑتا ہے تو تبدیلی صرف پارٹی حکمتِ عملی میں نہیں، بلکہ اُس وعدے میں بھی ہوتی ہے جس پر پورا سیاسی بیانیہ کھڑا کیا گیا تھا۔
یقیناً ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ عمران خان نے خود اِس حکمتِ عملی کی منظوری دے دی ہے یا کوئی باضابطہ مفاہمت طے پا چکی ہے یا کوئی سیاسی ڈیل قریب ہے۔ روئٹرز نے بھی واضح کیا ہے کہ یہ معلوم نہیں کہ عمران خان خود زلفی بخاری کے اِس مؤقف سے کس حد تک متفق ہیں۔
لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ”ڈٹ کر کھڑا ہے کپتان“ کا نعرہ پہلی مرتبہ عملی سیاست کے ایک مختلف سوال سے دوچار ہے۔
کپتان واقعی وہیں ڈٹ کر کھڑا ہے جہاں تھا، یا پھر اب راستہ وہ ہے جس کو کل تک سمجھوتا کہا جاتا تھا اور آج قومی مفاد میں مفاہمت قرار دیا جا رہا ہے؟




