فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران بحران میں پاکستان کے سب سے اہم سفارتی چہرے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ تہران، واشنگٹن اور خلیجی دارالحکومتوں کے درمیان رابطہ کاری میں ان کا کردار مرکزی رہا، جبکہ پاکستان ایک غیر متوقع مگر مؤثر ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔
From calls with Tehran and Gulf capitals to ceasefire diplomacy and marathon talks in Islamabad, Pakistan has inserted itself into the most delicate phase of the U.S.-Iran crisis and emerged as an unlikely broker of dialogue.
مریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔ بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہوا، پسِ پردہ رابطے جاری ہیں۔ دونوں ممالک کے وفود ایک بار پھر پاکستان آنے پر غور کر رہے ہیں۔ فریقین ہفتے کے اختتام تک اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔
پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کی صَف اَوَّل میں کھڑا ہو گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے قریبی تعلقات اور امریکا ایران تنازع میں اسلام آباد کی مؤثر سفارتکاری نے پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ اِن حالات میں عمران خان کی واپسی کے امکانات کمزور ہوتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ فی الحال نظام تبدیل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں آخری لمحوں میں تقریباً ناکامی کے دہانے پر پہنچ چکی تھیں، مگر پاکستان نے رات بھر کی سفارت کاری سے نہ صرف جنگ بندی بچانے میں مدد دی بلکہ واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی راہ پر بھی گامزن کردیا۔
With our team of industry-leading experts with decades of experience in the fields of marketing, design, and journalism, we've got a person for any niche your business deals in.