لندن (تھرسڈے ٹائمز) — برطانوی نیوز ایجنسی ’’روئٹرز‘‘ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا اگلا دور رواں ہفتے دوبارہ اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان ہے۔ پانچ مختلف ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے وفود حالیہ تعطل کے باوجود ایک بار پھر پاکستانی دارالحکومت واپس آنے پر غور کر رہے ہیں۔
روئٹرز ذرائع کے مطابق ابھی تک کسی حتمی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا گیا تاہم امکان ہے کہ فریقین ہفتے کے اختتام تک، یعنی جمعہ سے اتوار کے درمیان، دوبارہ اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔ مذاکرات سے وابستہ ایک سورس نے بتایا ہے کہ تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی لیکن دونوں جانب سے رواں ہفتے بات چیت دوبارہ شروع ہو جانے کا امکان کُھلا رکھا گیا ہے۔
ایک سینیئر ایرانی ذریعہ نے ’’روئٹرز‘‘ کو بتایا کہ ابھی کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں ہوئی مگر وفود نے جمعہ سے اتوار تک کے دن ممکنہ مذاکرات کیلئے کُھلے رکھے ہیں۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات چیت کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا اور پسِ پردہ رابطے بدستور جاری ہیں۔
روئٹرز کے پاکستانی ذرائع کے مطابق اسلام آباد فی الحال فریقین کے ساتھ اگلے دور کے وقت اور طریقہ کار کے حوالہ سے رابطے میں ہے۔ دو پاکستانی ذرائع، جو مذاکرات کی پیش رفت سے آگاہ ہیں، نے کہا کہ اگلی ملاقات غالباً ہفتے کے آخر میں ہو سکتی ہے۔ ایک سینیئر پاکستانی حکومتی عہدیدار نے کہا کہ پاکستان نے ایران سے رابطہ کیا تھا اور تہران کی جانب سے دوسرے دور کے مذاکرات کیلئے آمادگی سے متعلق مثبت اشارہ ملا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ ملاقات گزشتہ منگل کو اعلان کیے گئے سیز فائر کے صرف چار دن بعد منعقد ہوئی تھی۔ یہ امریکی و ایرانی حکام کے درمیان ایک دہائی سے زیادہ عرصہ میں پہلی براہِ راست ملاقات تھی جبکہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد یہ دونوں ممالک کے درمیان سب سے اعلیٰ سطحی رابطہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
روئٹرز ذرائع کے مطابق فریقین کو ایک نئی تجویز پیش کر دی گئی ہے جس کے تحت امریکا اور ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے وفود دوبارہ اسلام آباد بھیجیں تاکہ بات چیت کا سلسلہ وہیں سے آگے بڑھایا جا سکے جہاں رُکا تھا۔ یہی نکتہ اِس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حالیہ دور اگرچہ کسی بڑی پیش رفت یا معاہدے پر ختم نہیں ہوا تاہم سفارتی عمل ابھی زندہ ہے۔
مذاکرات کے گزشتہ دور میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جیمز ڈیوڈ وینس (جے ڈی وینس) نے کی تھی جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کی۔ دونوں وفود نے متعدد پیچیدہ موضوعات پر بات چیت کی جن میں آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام اور تہران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں شامل تھیں۔ آبنائے ہرمز خاص طور پر عالمی توانائی رسد کیلئے نہایت اہم گزرگاہ ہے جسے ایران نے مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے جبکہ امریکا اُسے دوبارہ کھولنے کے عزم کا اظہار کر چکا ہے۔
مذاکرات کے اختتام پر امریکی صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی وفد ایک سادہ تجویز چھوڑ کر جا رہا ہے جو امریکا کی حتمی اور بہترین پیشکش ہے۔ اِس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے اپنی شرائط اور سرخ لکیریں واضح کر دی ہیں اور اب نظریں تہران کے جواب پر مرکوز ہیں۔
روئٹرز نے لکھا ہے کہ اگرچہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ، فوج اور وزیراعظم آفس نے اِس حوالہ سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور وائٹ ہاؤس نے بھی فوری ردعمل نہیں دیا، لیکن اب تک سامنے آنے والی معلومات اِس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اسلام آباد ایک بار پھر اِس حساس سفارتی عمل کا مرکز بن سکتا ہے۔
اگر یہ دوسرا دور واقعی منعقد ہوتا ہے تو یہ نہ صرف حالیہ مذاکرات کے تسلسل کا ثبوت ہو گا بلکہ پاکستان کے اُس اُبھرتے ہوئے کردار کو بھی مزید تقویت دے گا جس کے تحت وہ خطہ میں کشیدگی کم کرنے، رابطے بحال رکھنے اور متحارب فریقین کو دوبارہ میز پر لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
حالیہ پیش رفت سے کم از کم ایک بات واضح ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت بےاثر نہیں رہی۔ اور اگر امریکا و ایران واقعی رواں ہفتے دوبارہ پاکستان آتے ہیں تو یہ اِس بات کا کھلا اعتراف ہو گا کہ سفارتکاری کا دروازہ ابھی بند نہیں ہوا۔







