نئی دہلی (تھرسڈے ٹائمز) — بھارتی نیوز ویب سائٹ ”دی وائر“ نے لکھا ہے کہ بھارت آپریشن سندور کا فاتح نہیں تھا، بھارت کو حجم میں بڑا مُلک ہونے کے باعث واضح عسکری برتری حاصل کرنا چاہیے تھی تاہم ایسا نہ ہونا بھارت کیلئے خود اپنے آپ کو شہ مات دینے کے مترادف ہے، مئی 2025 کی جھڑپوں کے دوران پاکستان واضح طور پر تین شعبوں میں مضبوط دکھائی دیا جبکہ بھارت تین حوالوں سے کمزور رہا، بھارتی طیاروں کے نقصانات براہِ راست غلط انٹیلیجنس بنیادوں کا نتیجہ تھے۔
دی وائر نے لکھا ہے کہ آپریشن سندور کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ مئی 2025 کا بھارت پاکستان تنازع آنے والی دہائیوں تک تاریخی، سیاسی اور عسکری اعتبار سے زیرِ مطالعہ رہے گا۔ اگرچہ یہ تناؤ صرف چار دِن جاری رہا مگر اِس نے ایسے اسباق چھوڑے ہیں جنہیں دونوں ممالک نے ابھی تک پوری طرح جذب نہیں کیا۔ بھارت کے سامنے خاص طور پر ایک سوال اب بھی کھڑا ہے کہ آخر اُس نے کیا جیت لیا؟
دی وائر کے مطابق منظرنامہ بظاہر سادہ تھا، ایک (حجم میں) بڑے مُلک نے ایک حقیقی سانحہ کے بعد پہل کی تھی لہذا اُسے تقریباً فیصلہ کُن نتیجہ حاصل کرنا چاہیے تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا، خاص طور پر فضائی معرکوں میں ایسا نہیں ہوا۔ پاکستان، جو روایتی عسکری قوت کے اعتبار سے کمزور سمجھا جاتا تھا، ایک بڑے اور بہتر ساز و سامان سے لیس حریف کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیسے کر گیا؟ اور بھارت کی بڑی عسکری برتری آخر عملی بالادستی یا کم از کم کسی پائیدار سیاسی نتیجہ میں کیوں تبدیل نہ ہو سکی؟
اِس کا جواب دو متوازی عوامل میں ہے؛ پاکستان کے تین ایسے عناصر جنہوں نے اُس کی موجودہ قوت کو کئی گنا بڑھا دیا، اور بھارت کے تین ایسے عوامل جنہوں نے اُس کی برتری کو اندر سے کمزور کر دیا۔ دونوں کا دیانت دارانہ جائزہ ضروری ہے، مگر بھارت کا سرکاری بیانیہ اب تک اِس سے گریز کرتا رہا ہے۔
پاکستان کی جانب تین چیزیں نمایاں رہیں جن میں پہلی مخصوص صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے، پاکستان نے مکمل اور ہمہ گیر جدیدیت کی کوشش کے بجائے اُن شعبوں میں سرمایہ کاری کی جہاں بھارت سب سے زیادہ کمزور تھا؛ فضائی دفاع، الیکٹرونک وارفیئر، اور بیونڈ وژوئل رینج، یعنی نظر سے اوجھل فاصلے پر لڑائی کی صلاحیت کو بہتر بنایا۔
دوسری چیز بہتر انضمام تھا۔ تقسیم شدہ کمانڈ ڈھانچوں، سینسر فیوژن نیٹ ورکس اور کثیر تہوں پر مشتمل دفاعی سسٹمز نے ایسا نیٹ ورک اثر پیدا کیا جس نے انفرادی پلیٹ فارمز کی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا دیا۔
تیسری چیز چین کی مدد تھی جس کیلئے اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو محدود کرنے کے بعد غیر معمولی تیزی آئی۔ جے 10 سی ای لڑاکا طیارہ، پی ایل 15 میزائل فیملی، ایچ کیو 9 ائیر ڈیفینس نیٹ ورک اور جدید الیکٹرونک وارفیئر صلاحیتیں مخصوص معرکوں میں فیصلہ کن ثابت ہوئیں۔
دی وائر کے مطابق بھارت کی جانب تین چیزوں نے اُس برتری کو کمزور کر دیا جو بظاہر صاف دکھائی دیتی تھی۔ پہلی یہ کہ کمانڈ کا حد سے زیادہ مرکزیت پر مبنی نظام اہم لمحات میں فیصلہ سازی کو سست کر گیا۔ دوسری یہ کہ انٹیلیجنس کا ڈھانچہ آرٹیکل 370 کے بعد کشمیر میں انسانی انٹیلیجنس نیٹ ورکس کے متاثر ہونے سے کمزور ہو چکا تھا، حالانکہ یہی نیٹ ورکس پہلگام میں ہونے والے واقعات کی پیشگی اطلاع دے سکتے تھے۔ تیسری چیز یہ کہ بھارت کی انفارمیشن آپریشنز حکمتِ عملی ردِعمل پر مبنی تھی جبکہ پاکستان کی حکمتِ عملی پیشگی تیاری پر مبنی تھی۔ بھارت تصدیق کے بعد معلومات جاری کرتا رہا جبکہ پاکستان نے بیانیے پہلے سے تیار رکھے اور چند گھنٹوں میں شواہد پھیلا دیئے، جس سے ایک ایسا ادراکی فریم قائم ہو گیا جسے بعد میں ہٹانا تقریباً ناممکن ہو گیا۔
غلط مفروضوں کا سب سے واضح عملی نمونہ پی ایل 15 ای میزائل اور بھارتی فضائیہ کے اُن پائلٹس کے معاملہ میں سامنے آیا جو اپنے طیاروں، بشمول رافیل، کو اُس کی رینج کے اندر لے گئے کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ اُس کی پہنچ سے باہر ہیں۔
بھارتی انٹیلیجنس نے پاکستان کے جے 10 سی ای طیاروں پر نصب پی ایل 15 کی مؤثر حد تقریباً 150 کلومیٹرز سمجھی تھی۔ اِسی بنیاد پر بھارتی سٹرائیک پیکجز پاکستانی طیاروں سے 150 سے 200 کلومیٹرز کے فاصلے پر آپریٹ کرتے رہے۔ وہ خود کو انٹرسیپٹ رینج سے باہر سمجھ رہے تھے، مگر ایسا نہیں تھا۔ پاکستان کے پاس پی ایل 15 ای ویریئنٹ تھا جس کی مؤثر حد 200 کلومیٹرز تک تھی۔ یہ رینج فرق بھارتی منصوبہ سازوں کے علم میں نہیں تھا۔ بھارتی فضائیہ کے پائلٹ، جو خود کو محفوظ سمجھ رہے تھے، ٹریک بھی کیے جا رہے تھے اور انگیج بھی ہو رہے تھے۔ طیاروں کے نقصانات براہِ راست اِسی غلط انٹیلیجنس بنیاد کا نتیجہ تھے۔
دی وائر میں شائع ہونے والے مضمون میں لکھا گیا ہے کہ سن زو کی تنبیہ کہ اگر آپ خود کو جانتے ہیں مگر دشمن کو نہیں، تو ہر فتح کے ساتھ ایک شکست بھی ملے گی، محض فلسفہ نہیں ہے۔ مئی 2025 کے رافیل معرکوں میں یہ ایک عملی عسکری وضاحت تھی۔
یہ بات ”دی نیشنل انٹرسٹ“ کے تجزیہ کاروں نے تفصیل کے ساتھ رپورٹ کی ہے۔ جس پہلو پر نسبتاً کم توجہ دی گئی، وہ اِس ناکامی کی ساختی وجہ ہے؛ آرٹیکل 370 کے 2019 میں خاتمہ نے کشمیر میں اُن انسانی انٹیلیجنس نیٹ ورکس کو متاثر کیا جو حریف کی صلاحیتوں کی ترقی کو سیاق و سباق کے ساتھ سمجھنے میں مدد دیتے تھے۔ تکنیکی معلومات کا حصول جاری رہا، مگر تجزیاتی گہرائی کمزور ہو گئی۔ سیاسی دباؤ کے تحت ابہام کو یقین میں بدل دیا گیا۔ آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی شک کی گنجائش ختم کر دی گئی تھی۔
کیا بھارت نے خود کو ہی شہ مات دے دی؟
اِسی کا جواب بھارت کے اپنے بیان کردہ اہداف کی طرف واپس جا کر ملتا ہے۔ پی آئی بی کے 14 مئی 2025 کے پریس نوٹ میں واضح تھا کہ آپریشن سندور کے دو مقاصد تھے؛ پہلگام قتلِ عام کے ذمہ داروں اور منصوبہ سازوں کو سزا دینا، اور سرحد پار دہشتگردی کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا۔
بھارت نے 10 مئی کو جنگ بندی کا اعلان کیا اور کہا کہ اُس نے لڑائی روکنے کی پاکستان کی درخواست قبول کی ہے۔ اِس کے بعد سے ایک سوال کا تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا کہ کیا یہ دونوں مقاصد حاصل ہو چکے تھے؟ اگر ہاں، تو بعد میں آپریشن سندور جاری رہنے کی بات کیوں ہوتی رہی؟ اگر نہیں، تو بھارت نے رکنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ اور اگر بھارت امریکی دباؤ کے باعث رک گیا، تو سرکاری تردیدوں کے باوجود سٹریٹیجک خودمختاری کا سوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔
دی وائر کے مطابق جنگ بندی کی اصل وجوہات جو بھی رہی ہوں، ساختی حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی سب سے بڑی برتری، یعنی حجم، ذخائر، گہرائی اور وقت کے ساتھ لڑائی کو جاری رکھنے اور بڑھانے کی صلاحیت، اپنا اثر دکھانے کیلئے وقت مانگتی ہے۔ جوہری ڈیٹرینس ابتداء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک طرح کی برابری پیدا کر دیتی ہے۔ چند دن بعد بھارت کا حجم اثر دکھانا شروع کرتا ہے۔ اِس سے پہلے رک کر بھارت نے عملاً اُسی مختصر راستے میں لڑائی کا انتخاب کیا جہاں اُس کی ساختی برتری سب سے کم معنی رکھتی تھی۔
اپنے حجم کی برتری سے فائدہ نہ اٹھانا بھارت کیلئے خود اپنے آپ کو شہ مات دینے کے مترادف تھا۔ اگر بھارت جنگ بندی قبول کرنے کے بجائے اُس وقت ثابت قدمی سے کارروائی جاری رکھتا جب حالات بدلنے والے تھے، تو ایک مختلف مستقبل ممکن تھا۔ یہاں بنیادی نکتہ سادہ ہے؛ رکنے کا فیصلہ اُس سے پہلے کیا گیا جب بھارت کی سب سے پائیدار برتری میدان میں آ ہی سکتی تھی۔
بھارتی نیو ویب سائٹ کے مطابق 10 مئی کی جنگ بندی ڈی جی ایم او سے ڈی جی ایم او سطح کی مفاہمت تھی، یعنی ایک عسکری عملی وقفہ، کوئی سیاسی تصفیہ نہیں۔ بھارتی خارجہ سیکرٹری وکرم مسری نے مختصر الفاظ میں کہا کہ دونوں جانب زمین، فضاء اور سمندر پر تمام لڑائی اور عسکری کارروائی روک دی جائے گی۔ بس یہی کل بات تھی۔ نہ شرائط، نہ تصدیقی نظام، نہ سرحد پار دہشتگردی پر کوئی عہد، حالانکہ یہی بھارت کا بیان کردہ جوازِ جنگ تھا۔ جب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ بھارت اور پاکستان ایک نیوٹرل مقام پر وسیع تر معاملات پر بات چیت شروع کرنے پر متفق ہو گئے ہیں، تو بھارت کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے فوراً اِس کی تردید کر دی۔ یہ خود جنگ بندی کی شرائط کے مرکز میں موجود اُلجھن کی عکاسی تھی۔
سوال یہ نہیں کہ پہلے کس نے درخواست کی۔ سوال یہ ہے کہ بھارت نے بدلے میں حاصل کیا کیا؟ اور ریکارڈ پر جواب ہے؛ کچھ نہیں۔ نہ یہ عہد کہ پاکستانی سرزمین سے ہونے والے آئندہ حملوں کو ریاستی کارروائی تصور کیا جائے گا۔ نہ لشکر طیبہ اور جیش محمد نیٹ ورکس کے بارے میں کوئی قابلِ تصدیق اقدام سامنے آیا، نہ مسلح تصادم سے نیچے بحران مینجمنٹ کیلئے کوئی دو طرفہ رابطہ چینل سامنے آیا۔ حتیٰ کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو بھی کسی مذاکراتی سودے کے طور پر رسمی شکل نہیں دی گئی، بلکہ وہ ایک یکطرفہ انتظامی قدم کے طور پر سفارتی خلا میں معلق رہی۔
دی وائر نے لکھا ہے کہ بھارت کی سیاسی قیادت نے بظاہر اِس حساب سے مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ کیا کہ کوئی بھی مذاکرات پاکستانی شکایات کو جائز بنا دیں گے یا بین الاقوامی مداخلت کو دعوت دیں گے۔ یہ اندازہ اِس بات کی غلط فہمی پر مبنی تھا کہ جنگ کے بعد کی سفارت کاری حقیقت میں کیسے کام کرتی ہے۔
آپریشن سے پہلے بین الاقوامی برادری وسیع پیمانے پر بھارت کے انسدادِ دہشتگردی جواز کے ساتھ ہمدردی رکھتی تھی۔ مگر یہ ہمدردی اُس وقت برقرار نہیں رہ سکتی تھی جب کشیدگی بڑھتے بڑھتے پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملوں تک پہنچ جائے، اور ساتھ ہی یہ واضح نہ کیا جائے کہ کن شرائط پر تنازع ختم ہو گا۔ اٹلانٹک کونسل نے نوٹ کیا کہ اِس جنگ نے پاکستان کو سفارتی فائدہ دیا کیونکہ امریکا جنگ بندی کی ثالثی میں شامل ہوا، یعنی وہی کثیر فریقی شمولیت جس سے بھارت کا شملہ معاہدہ والا اصول ہمیشہ بچنا چاہتا تھا۔ اور سندھ طاس معاہدہ معطل کر کے، جس کے جواب میں پاکستان نے شملہ معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا، بھارت نے وہ دو طرفہ ڈھانچہ کمزور کر دیا جو 1972 سے اُس کا سب سے پائیدار سفارتی اثاثہ تھا۔
دی وائر کے مطابق بھارت کی سٹریٹیجک پوزیشن ناقابلِ واپسی نہیں ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی اب بھی دباؤ کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے عمل اور عالمی بینک کے میکانزم اب بھی قابلِ اعتبار آلات ہیں۔ مگر دباؤ کے آلات کو ایک فریم ورک درکار ہوتا ہے، یعنی ایسی واضح شرائط جن کے تحت پابندی یا عمل درآمد کو ناپا جا سکے۔ فریم ورک کے بغیر دباؤ خلا میں معلق رہتا ہے؛ کوئی مخصوص مطالبہ نافذ نہیں کیا جا رہا ہوتا، اِس لیے کوئی مخصوص کامیابی بھی ظاہر نہیں کی جا سکتی۔
کم از کم فریم ورک کیسا ہو سکتا تھا؟ پاکستان کی جانب سے اُن مخصوص دہشتگرد ڈھانچوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا عہد، جنہیں بھارت نے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، اور اُس کیلئے واضح ٹائم لائنز۔ کشیدگی کے نظم و نسق کیلئے دو طرفہ رابطہ پروٹوکول۔ سندھ طاس معاہدے کی بحالی کیلئے مخصوص بنچ مارکس کے ساتھ ایک متفقہ فریم ورک۔ پاکستان کی جانب سے، چاہے سفارتی زبان میں ہی سہی، یہ اعتراف کہ پہلگام قتلِ عام اور اُس سے منسلک نیٹ ورکس دو طرفہ تعلقات کیلئے خطرہ قرار دیئے گئے ہیں۔ اِس میں پاکستان سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ نہیں تھا، صرف یہ درکار تھا کہ پاکستان کسی دستاویز پر دستخط کرے۔ تاریخ میں یہی فرق جنگ بندی اور امن کے درمیان، اور ایک ٹیکٹیکل نتیجہ اور سٹریٹیجک کامیابی کے درمیان ہوتا ہے۔
جب پاکستان کے آرمی چیف امریکا کے پسندیدہ علاقائی رابطہ کار کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کر رہے ہیں، اور نئی دہلی ایک ایسے سٹریٹیجک ماحول میں اپنی اگلی چال پر غور کر رہا ہے جسے اُس نے جزوی طور پر خود بنایا اور جزوی طور پر اُس میں لڑکھڑا کر داخل ہوا، مئی 2025 کا ایک سبق سب سے نمایاں ہے کہ سیاسی حکمتِ عملی کے بغیر عسکری صلاحیت پائیدار ڈیٹرینس پیدا نہیں کرتی بلکہ وہ صرف ایک وقفہ پیدا کرتی ہے۔
بھارتی نیوز ویب سائٹ میں شائع ہونے والے مضمون کے مطابق اگلا پہلگام کہیں نہ کہیں اُن نیٹ ورکس کی جانب سے منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے جنہوں نے دیکھا کہ بھارت نے اپنی کائینیٹک کارروائیاں کسی ایک تحریری ضمانت کے بغیر روک دیں، اُس ریاست سے بھی نہیں جس کے بارے میں بھارت کہتا ہے کہ وہ اُن نیٹ ورکس کی میزبانی کرتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ بھارت نے آپریشن سندور جیتا یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ بھارت نے آخر کیا جیتا؟ اور وہ دستاویز کہاں ہے جو بھارت کی کسی جیت کو ثابت کرتی ہے؟







