بھارت نے جنگی بیڑا شمالی بحیرہ عرب میں کراچی کی بندرگاہ کی جانب روانہ کردیا ہے۔ بھارت کے اس اقدام سے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان شدید تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ پاکستان نے بھارتی حملوں کا جواب "اپنے منتخب کردہ وقت، طریقے اور مقام" پر دینے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے دوران پاکستان کی جانب سے چینی ساختہ جے-10 سی طیاروں کے ذریعے فرانسیسی ساختہ بھارتی رافیل سمیت دیگر جنگی جہازوں کو مار گرائے جانے کی اطلاعات کے بعد چینی دفاعی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر جو عموماً پسِ پردہ کام کرتے ہیں، اب بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے کشیدگی کے ماحول میں مرکزی کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف فوجی مشقوں میں سرگرم نظر آ رہے ہیں بلکہ اپنے دوٹوک بیانات کے ذریعے قومی سلامتی سے متعلق نئی پالیسی سمت کا تعین بھی کر رہے ہیں۔
بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی را کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ نے پہلگام حملے کو بھارتی سکیورٹی اداروں کی مکمل ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں سکیورٹی موجود ہی نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالات کشیدہ ہیں، تاہم بھارت اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ جنگ کا امکان کم ہے۔
بھارتی دراندازی کے واضع امکان کے پیش نظر پاکستانی افواج کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔ فضائی، زمینی، بحری حدود کی خلاف ورزی میں بھارت کو فوری بھرپور جواب دیا جائے گا۔ نیوکلیئر ہتھیار صرف قومی بقا کو خطرے کی صورت میں استعمال ہوں گے۔