مجھے معلوم تھا نواز شریف وزارتِ عظمٰی نہیں لیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کچھ حلقوں میں ان سے متعلق تحفظات موجود ہیں جو جمہوری نظام کو پٹڑی سے اتار سکتے ہیں، ممکن ہے کہ میاں صاحب مستقبل قریب میں جماعت کی قیادت خود سنبھال لیں گے۔
تاجر برادری بھارت کے ساتھ تجارت کی بحالی چاہتی ہے، ہم اس پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، انشاءاللّٰه پی آئی اے پروازوں کی بحالی اب چند ہفتوں کی بات ہے، افغانستان میں انٹیلیجنس بنیاد پر انسدادِ دہشتگردی آپریشن کیا۔
زرعی زمینیں خرید کر کمرشل اور رہائشی استعمال کیلئے بدلی جا رہی ہیں، کیوں پاکستان کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟ پورے پاکستان کو ہاؤسنگ سوسائٹیز بنا دیں گے تو لوگ کھائیں گے کہاں سے؟ یہاں چاول رہیں گے نہ گیہوں، ہر چیز باہر سے منگواتے رہیں گے۔
بلاول بھٹو عمران خان ثانی بننے میں مصروفِ عمل ہیں، ان کی تقاریر میں عمران خان کے روایتی انداز کی جھلک دکھائی دیتی ہے، وہ برق رفتاری سے تُو تَڑاق والی زبان بولتے نظر آ رہے ہیں، عمران خان کی پھیلائی پولرائزیشن کے باعث منقسم معاشرہ مزید نفرتوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
نواز شریف کو وزارت عظمی سے 99 میں ہٹاکر جیل بھیجنا ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ تھا یا2002، 2008 کا الیکشن لڑنے نہ دینا ”لیول پلیئنگ فیلڈ۔“ 2017 میں وزارت عظمی سے بےدخل کرکے تاحیات نااہل کرنا بیٹی سمیت جیل بھیجنا ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ تھا؟
انتهت الثقة في إيران بالكامل. السعودية لا تخشى المواجهة، وتحتفظ بحقها في الرد العسكري عند الضرورة. وإذا كانت طهران تعتقد أن دول الخليج لا تملك القدرة على الرد، فهي واهمة. وإيران لن تتوقف ما لم تواجه رداً قوياً وحازماً
ایران پر اعتبار ختم ہو چکا۔ سعودی عرب تصادم سے نہیں ڈرتا، ضرورت پڑنے پر فوجی جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ ایران اگر سمجھتا ہے کہ خلیجی ممالک جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ غلطی پر ہے۔ ایران مضبوط مقابلہ کا سامنا کیے بغیر نہ رُکے گا۔
Joe Kent, Director of the National Counterterrorism Center, has resigned with immediate effect, stating that he cannot support the US war in Iran, arguing that Tehran posed no imminent threat, and questioning the basis on which the conflict has been pursued.
Israel says a targeted strike killed Ali Larijani, one of Iran’s most senior security figures, but Tehran had not confirmed the claim at the time of reporting. If verified, it would mark one of the biggest direct blows yet to Iran’s leadership in the current conflict.
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان سے متعلق پابندیوں کی فہرست اپڈیٹ کر دی۔ عبدالغنی برادر، سراج الدین حقانی، امیر خان متقی سمیت 22 اہم ناموں سے متعلق معلومات میں ترامیم کی گئیں۔ یہ اقدام واضح کرتا ہے کہ عالمی برادری نے طالبان کا ماضی فراموش نہیں کیا۔
Looking to advertise?
With our team of industry-leading experts with decades of experience in the fields of marketing, design, and journalism, we've got a person for any niche your business deals in.