برطانوی جریدے "دی ٹیلی گراف" میں 21 اکتوبر 2007 کو عمران خان نے بینظیر بھٹو کو خود کارساز بم دھماکوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ سانحہ ناگزیر تھا اور اس کا سب کو انتظار تھا۔
تحرک عدم اعتماد کے موقع پر جنرل باجوہ نے ہمیں بلایا اور کہا کہ اگرآپ تحریک عدم اعتماد واپس لے لیں تو میں عمران خان کو استعفی دینے پر راضی کرلونگا جس پر ہم نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا تو اس پر جنرل باجوہ نے کہا کہ پھر میں پانچ منٹ میں مارشل لا لگا سکتا ہوں۔
حریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان اور بشریٰ نامی خاتون کا نکاح غیر شرعی تھا کیونکہ اس وقت تک بشریٰ کی خاور مانیکا سے طلاق کے بعد عدت کا وقت مکمل نہیں ہوا تھا۔ مفتی سعید نے بتایا کہ انہیں اس معاملہ سے لاعلم رکھا گیا اور جھوٹ بولا گیا کہ نکاح میں کوئی شرعی رکاوٹ نہیں ہے جبکہ عمران خان اور بشریٰ حقیقت سے واقف تھے۔
اللہ تعالی کے سائے کے بعد آئین پاکستان کا سایہ ہمارے سر پر ہے یہ ہماری اور پاکستان کی پہچان ہے یہ کتاب پاکستان کے منتخب نمائندوں نے مشترکہ طور پر منظور کیا اسلئے اسکی اہمیت ہمیں پہچاننا اور عمل کرنا چاہیے۔
عمران خان نے دعوی کیا کہ ان کے دور میں میڈیا آزاد تھا اور میڈیا کو جتنی آزادی تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں ملی، اتنی پہلے کبھی نہیں ملی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے میڈیا کو کنٹرول کیا ہوا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیم نے ایران سے ممکنہ مذاکرات کے لیے پسِ پردہ منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت جیسے اہم معاملات زیرِ غور ہیں، جبکہ تہران جنگ بندی، مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت اور نقصان کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
موجودہ علاقائی کشیدگی میں پاکستان نے اشتعال انگیزی کے بجائے توازن، سفارت کاری اور داخلی استحکام کو ترجیح دی ہے۔ اصل خطرہ صرف بیرونی محاذ نہیں بلکہ فرقہ واریت، افواہوں اور داخلی تقسیم کو ہوا دینے والی کوششیں بھی ہیں، جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی داخلی یکجہتی ہے۔
انتهت الثقة في إيران بالكامل. السعودية لا تخشى المواجهة، وتحتفظ بحقها في الرد العسكري عند الضرورة. وإذا كانت طهران تعتقد أن دول الخليج لا تملك القدرة على الرد، فهي واهمة. وإيران لن تتوقف ما لم تواجه رداً قوياً وحازماً
ایران پر اعتبار ختم ہو چکا۔ سعودی عرب تصادم سے نہیں ڈرتا، ضرورت پڑنے پر فوجی جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ ایران اگر سمجھتا ہے کہ خلیجی ممالک جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ غلطی پر ہے۔ ایران مضبوط مقابلہ کا سامنا کیے بغیر نہ رُکے گا۔
Joe Kent, Director of the National Counterterrorism Center, has resigned with immediate effect, stating that he cannot support the US war in Iran, arguing that Tehran posed no imminent threat, and questioning the basis on which the conflict has been pursued.
Looking to advertise?
With our team of industry-leading experts with decades of experience in the fields of marketing, design, and journalism, we've got a person for any niche your business deals in.