بھارتی حکومت نے پاکستان کے آگے سرینڈر کر دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی نہیں کروائی تو نریندر مودی پارلیمنٹ میں کہہ دیں کہ امریکی صدر جھوٹا ہے۔ ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف کو دعوت پر بلایا مگر بھارتی وزیراعظم میں وہاں جانے کی جرأت نہیں۔
پہلگام کے حملہ آور پاکستان سے نہیں آئے تھے، بھارتی حکومت کے پاس پاکستان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود نہیں، عین ممکن ہے حملہ آور مقامی دہشتگرد ہوں، بھارتی حکومت آپریشن سندور کے نقصانات چھپا رہی ہے۔
پی ٹی آئی حکومت مزید 6 ماہ رہتی تو ملک دیوالیہ ہو جاتا، اللّٰه نے ہمیں موقع دیا اور ڈیفالٹ کا تصور دفن ہوا، چائے کے کپ کیلئے کابل جا کر ملک دوبارہ دہشتگردی کی دلدل میں دھکیلا گیا، بھارت خود کو خطہ کا چودھری سمجھتا تھا، اُس کا تکبر خاک میں مل گیا۔
فوج، فرنٹیئر کور اور پاکستان کوسٹ گارڈ کی مربوط کارروائیوں کے نتیجے میں مغربی سرحد سے ایرانی ایندھن کی اسمگلنگ میں واضح کمی آئی ہے۔ روزانہ 16 ملین لیٹر کی اسمگلنگ اب گھٹ کر 2 ملین لیٹر رہ گئی ہے۔ حکومت کی نئی بارڈر مینجمنٹ حکمتِ عملی اس پیش رفت کی بنیاد بن رہی ہے، جبکہ مقامی آبادی کے لیے متبادل روزگار کی فراہمی کا منصوبہ بھی زیر عمل ہے۔
واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ پاکستان اور امریکہ ایک اہم تجارتی معاہدے کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، جو متوقع طور پر "دنوں میں" طے پا سکتا ہے۔ معاہدے میں ٹیکسٹائل، ڈیجیٹل تجارت، زراعت اور معدنیات جیسے شعبے شامل ہیں۔ پاکستان برآمدات پر محصولات میں کمی اور امریکی سرمایہ کاری کے فروغ کا خواہاں ہے، جبکہ امریکی حکام نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترکیہ کے آرمی چیف سے ٹیلیفونک گفتگو؛ دونوں ممالک کے باہمی دفاعی تعلقات، خطہ میں بڑھتی کشیدگی اور بدلتی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات کے بعد یہ رابطہ اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہِ سعودی عرب اور پاکستانی سفارتکاری کے مثبت اثرات؛ ایران نے پڑوسی ممالک پر حملے روکنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستانی فوجی سربراہ اور سعودی وزیرِ دفاع کی ملاقات کو طاقت کے توازن و ردعمل کے امکانات میں ڈیٹرینس سگنل کے طور پر دیکھا گیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پڑوسی ممالک سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ایران کی عبوری قیادت کونسل نے اِس بات کی منظوری دی ہے کہ ہمسایہ ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل سٹرائیک نہیں ہو گا جب تک کہ اُن ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف کوئی حملہ نہیں کیا جاتا۔
التقى وزيرُ الدفاع السعودي الأمير خالد بن سلمان بباكستانيّ قائد الجيش ورئيس هيئة الدفاع الفريق أول (المشير) عاصم منير، حيث جرى بحث تطورات الأوضاع المتوترة في المنطقة على خلفية الهجمات الإيرانية، إلى جانب استعراض إطار التعاون الدفاعي السعودي الباكستاني. وأعرب الجانبان عن أملهما في أن تتعامل إيران بحكمة، بما يجنّب المنطقة أي تصعيد غير ضروري ويحدّ من مخاطر الانزلاق نحو مواجهة أوسع.
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی ملاقات؛ ایرانی حملوں کے باعث خطہ کی کشیدہ صورتحال اور پاک سعودی دفاعی فریم ورک پر تبادلہِ خیال کرتے ہوئے امید ظاہر کی گئی کہ ایران دانشمندی سے کام لیتے ہوئے غیر ضروری تصادم سے گریز کرے گا۔
Looking to advertise?
With our team of industry-leading experts with decades of experience in the fields of marketing, design, and journalism, we've got a person for any niche your business deals in.