عمران خان نے برطانیہ کے قومی نشریاتی ادارہ ”بی بی سی“ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطہ سے گرفتار کیا گیا تو اس کا ردعمل آنا ہی تھا، جب میرے حامیوں نے دیکھا کہ مجھے گرفتار کر کے لے جایا جا رہا ہے تو کیا میرے حامی کوئی ردعمل ظاہر نہ کرتے؟
احتساب کرنا اور گرفتار کرنا میرا کام نہیں بلکہ اداروں کا کام ہے اور اداروں کو درست معلومات فراہم کرنا ہمارا فرض تھا جو ہم نے ادا کیا، ہماری حکومت نے کسی کو بھی ناجائز تنگ نہیں کیا۔
تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کو فی الحال ڈیڑھ سو سے زائد مقدمات کا سامنا ہے جن میں متعدد مقدمات ایسے بھی ہیں جو نہ صرف انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا سکتے ہیں بلکہ ان کے سیاسی مستقبل کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں یعنی سابق وزیراعظم ہمیشہ کیلئے سیاسی میدان سے باہر بھی ہو سکتے ہیں۔
جو کچھ 9 مئی کو ہوا اس کی وجہ اسٹیبلشمنٹ ہے کیونکہ اسی کا لگایا ہوا اور اسی کا پانی دیا ہوا پودا نکلا اور پھر اس کو بڑا کیا گیا اور درخت بنا دیا گیا، جنہوں نے لوگوں کے ذہن میں یہ زہر بھرا وہ اس وقت کے مسلسل ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر تھے جن کو ہم ڈائریکٹر نیوز کہتے تھے جو ساری خبروں اور کرنٹ افیئرز کے پروگرام کو ہدایات جاری کرتے تھے۔
میری جماعت کی تمام قیادت روپوش ہے اور قریباً 10 ہزار کارکنان جیلوں میں ہیں، جلد یا بدیر مجھے بھی جیل میں ڈال دیا جائے گا، کیا ایسے حالات میں میری پارٹی کو الیکشن لڑنے دیا جائے گا؟
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔