پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
پاک فوج پوری قوم کی فوج ہے، ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں روزانہ قربانیاں دے رہے ہیں، فوجیوں کی گردنیں تن سے جدا کر دی جاتی ہیں، فوج اپنے خون سے حلف کی تائید کر رہی ہے، افغانستان سے کوئی محبت نہیں، شہداء کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیں گے۔
There is a certain discipline in Ahmed Sharif’s choice of words as of late. Melodrama is avoided, but denial is not indulged either. If Pakistan is to argue its case internationally, he suggests that it must first lay out its qualms.
امریکا نے اقوامِ متحدہ کے تحت جاری کیے جانے والے 2 ارب ڈالرز کے امدادی پیکیج سے افغانستان کا نام خارج کر دیا جس کی وجہ ماضی میں افغانستان پہنچنے والی کچھ انسانی امداد کی طالبان تک منتقلی یا طالبان کی مداخلت کے واقعات ہیں۔
The United States has excluded Afghanistan from a $2 billion United Nations humanitarian aid package, saying it has evidence that some previous assistance in the country was diverted to the Taliban.
انتهت الثقة في إيران بالكامل. السعودية لا تخشى المواجهة، وتحتفظ بحقها في الرد العسكري عند الضرورة. وإذا كانت طهران تعتقد أن دول الخليج لا تملك القدرة على الرد، فهي واهمة. وإيران لن تتوقف ما لم تواجه رداً قوياً وحازماً
ایران پر اعتبار ختم ہو چکا۔ سعودی عرب تصادم سے نہیں ڈرتا، ضرورت پڑنے پر فوجی جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ ایران اگر سمجھتا ہے کہ خلیجی ممالک جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ غلطی پر ہے۔ ایران مضبوط مقابلہ کا سامنا کیے بغیر نہ رُکے گا۔
Joe Kent, Director of the National Counterterrorism Center, has resigned with immediate effect, stating that he cannot support the US war in Iran, arguing that Tehran posed no imminent threat, and questioning the basis on which the conflict has been pursued.
Israel says a targeted strike killed Ali Larijani, one of Iran’s most senior security figures, but Tehran had not confirmed the claim at the time of reporting. If verified, it would mark one of the biggest direct blows yet to Iran’s leadership in the current conflict.
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان سے متعلق پابندیوں کی فہرست اپڈیٹ کر دی۔ عبدالغنی برادر، سراج الدین حقانی، امیر خان متقی سمیت 22 اہم ناموں سے متعلق معلومات میں ترامیم کی گئیں۔ یہ اقدام واضح کرتا ہے کہ عالمی برادری نے طالبان کا ماضی فراموش نہیں کیا۔