پاکستان کی افغانستان کے اندر ٹی پی و حقانی نیٹ ورک کے دہشتگرد عناصر اور اُن کے سہولت کاروں کے کیپمس اور محفوظ پناہ گاہوں پر انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں؛ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی حملوں میں مارے جانے والے 40 سے زائد دہشتگردوں کے نام سامنے آ گئے۔
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
پاک فوج پوری قوم کی فوج ہے، ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں روزانہ قربانیاں دے رہے ہیں، فوجیوں کی گردنیں تن سے جدا کر دی جاتی ہیں، فوج اپنے خون سے حلف کی تائید کر رہی ہے، افغانستان سے کوئی محبت نہیں، شہداء کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیں گے۔
There is a certain discipline in Ahmed Sharif’s choice of words as of late. Melodrama is avoided, but denial is not indulged either. If Pakistan is to argue its case internationally, he suggests that it must first lay out its qualms.
امریکا نے اقوامِ متحدہ کے تحت جاری کیے جانے والے 2 ارب ڈالرز کے امدادی پیکیج سے افغانستان کا نام خارج کر دیا جس کی وجہ ماضی میں افغانستان پہنچنے والی کچھ انسانی امداد کی طالبان تک منتقلی یا طالبان کی مداخلت کے واقعات ہیں۔
پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے تحت کِنگ عبدالعزیز ایئربیس پر فوجی دستہ تعینات کر دیا جس میں لڑاکا و معاون طیارے بھی شامل ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسلام آباد امریکا ایران تنازع کے پُرامن حل کیلئے مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔
Saudi Arabia said a Pakistani military force, including fighter and support aircraft, has arrived at King Abdulaziz Air Base under a bilateral defence pact, a deployment that underscores expanding security coordination between the two countries.
With JD Vance, Steve Witkoff and Jared Kushner now in Islamabad, Pakistan has become the venue for a diplomatic push that could decide whether a fragile U.S.-Iran ceasefire survives or collapses.
While New Delhi continues to sell Pakistan internally as a terrorist state, Islamabad is increasingly positioning itself as a mediator, a bridge-builder and a country whose real strategic mission is peace.
Seven foreign leaders phoned Prime Minister Shehbaz Sharif within 24 hours, publicly praising Pakistan’s role in securing the U.S.-Iran ceasefire and signalling a rare burst of direct diplomatic recognition for Islamabad.