پاکستان پر تارکینِ وطن کا بوجھ برطانیہ کی نسبت زیادہ ہے جبکہ ان کی تعداد آئرلینڈ کی کل آبادی کے قریب ہے، پاکستان یہ بوجھ اتارنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کا مکمل حق رکھتا ہے، نگران وزیراعظم کی ”دی ٹیلی گراف“ میں شائع ہونے والی تحریر۔
پتہ لگنا چاہیے کہ مجھے 93 اور 99 میں کیوں نکالا گیا، ہمیں نکال کر مُلک اناڑی کے حوالہ کیا گیا، معاشی بدنظمی 2019 میں شروع ہوئی اور 2022 تک ہر چیز کا بھٹا بیٹھ گیا، ملک کے ساتھ یہ سلوک کرنے والوں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔
غزہ میں مارے گئے بچوں و خواتین کی تعداد روسی حملوں میں یوکرینی اموات سے دوگنی ہو چکی ہے۔ غزہ کے شہریوں کی اموات کی رفتار عراق، شام، افغانستان میں امریکی فوجی مہمات سے زیادہ ہے۔
کابل جا کر فوٹو سیشن کروانے والوں اور طالبان حکومت کے ساتھ انگیج کرنے والوں نے ملک کی تقدیر کے ساتھ کھلواڑ کیا، پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر بڑے دہشتگردوں کو کیوں رہا کروایا گیا؟
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکا ایران امن معاہدے کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں نیچے گِر گئیں، اِس پیش رفت کی وجہ آبنائے ہرمز دوبارہ کُھلنے کی امید ہے۔
پاکستان کا سفارتی اثر و رسوخ توانائی کی عالمی منڈیوں میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔
Oil prices dropped after Shehbaz Sharif announced a US-Iran peace deal, as markets priced in lower risk around the Strait of Hormuz and wider regional supply disruption.
Per a new purchasing managers’ survey released by HBL and S&P, Pakistan’s manufacturing PMI rose to 50.9 in May, returning to expansion as new orders recovered and export orders posted their strongest rise since February 2025.