پاکستان نے طاقت کے مظاہرے کے بعد سفارتکاری سے اپنا مؤقف منوایا اور خطے کا نیا نارمل اپنی شرائط پر قائم کر دیا۔ دوحہ میں اسلام آباد کا واحد مطالبہ تھا کہ افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشت گردوں کی حمایت بند کی جائے، اور اگر وہاں سے حملے ہوئے تو ذمہ دار کیمپ جائز ہدف سمجھے جائیں گے۔
Pakistan came with one demand and departed with verification, guarantors and a timetable; Kabul kept its face, Islamabad kept the substance. A new regional normal now bears Pakistan’s imprint.
Pakistan and Afghanistan agreed to an immediate ceasefire during Qatar and Türkiye-mediated talks in Doha, pledging to end cross-border violence and respect each other’s sovereignty, with follow-up meetings in Istanbul aimed at building a framework for lasting regional peace.
پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری سیز فائر معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کی باضابطہ تصدیق قطر کی وزارتِ خارجہ نے کر دی ہے۔ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں قطر اور ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
پاکستانی سر زمین پر مقیم تمام افغانیوں کو اب اپنے وطن جانا ہوگا، اب احتجاجی مراسلات اور امن کی اپیلیں نہیں ہونگی۔ اور کابل نمائندہ وفد بھی نہیں بھیجا جائے گا۔ جہاں بھی دہشت گردی کا منبع ہو گا، اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک افغان طالبان کی تعداد 332 تک پہنچ گئی، زخمیوں کی تعداد 553 سے زائد ہے۔ ٹی ٹی اے کی 130 پوسٹس تباہ جبکہ 26 پر پاکستانی فورسز کا قبضہ ہو چکا، ژوب سیکٹر میں 32 مربع کیلومیٹرز علاقہ پاکستانی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔
Israeli officials claim Khamenei was killed in US-Israeli strikes on Tehran, a claim not confirmed by Iran, as retaliatory missile attacks ripple across Gulf states hosting US assets.
Pakistani security forces have taken control of the 32 sq km Ghudwana Enclave in the Zhob sector, security sources say, after alleged Afghan Taliban raids and unprovoked firing on Pakistani positions triggered a hard and effective response.
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ژوب سیکٹر میں 32 مربع کلومیٹرز کے افغان علاقے ’’گھڈوانہ اِنکلیو‘‘ کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی پوزیشنز پر چھاپوں اور بلا اشتعال فائرنگ کے بعد پاکستانی فورسز نے سخت، فیصلہ کن اور مؤثر ردِعمل ظاہر کیا۔
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور اردن کے خلاف ایرانی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اِن ریاستوں کیلئے یکجہتی و حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب نے عالمی برادری سے ایرانی جارحیت کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔