اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دھوکہ دیا ہے، میں آج سے اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی بھی فریق سے مذاکرات کے دروازے بند کر رہا ہوں، اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر 22 اگست کا جلسہ منسوخ کیا، اجازت ملے یا نہ ملے 21 ستمبر کو لاہور میں جلسہ کریں گے، گنڈاپور کے بیان کر معافی مانگنے والا پارٹی چھوڑ دے۔
پنجاب پر لشکر کشی کی دھمکیاں دینے والوں کا ہم اٹک پل پر انتظار کریں گے، پرسوں پی ٹی آئی نے پاکستان کا وجود چیلنج کیا، کل کا عمل پرسوں کا ری ایکشن تھا، پی ٹی آئی والے ضمیر فروش اور رنگ باز ہیں، عمران خان ڈگی میں بیٹھ کر جنرل باجوہ سے ملنے جاتا تھا۔
عمران خان کو 2 ہفتوں میں رہا نہ کیا تو خدا کی قسم ہم خود رہا کریں گے، کوئی رکاوٹ بنا تو ہتھکڑیاں لگا کر گھسیٹوں گا، فیض حمید کیا ہمیں وراثت یا جہیز میں ملا؟ تمہارا جنرل تھا، اپنا ادارہ ٹھیک کرو ورنہ ہم ٹھیک کریں گے۔
ہم جب بھی نکلتے پیں سر پر کفن پہن کر نکلتے ہیں، عمران خان کے صبر اور ظرف کی وجہ سے یہ لوگ ایوانوں میں بیٹھے ہیں ورنہ ہم ان کا وہ حال کرتے کہ ان کی نسلیں یاد رکھتیں، اب اسلام آباد میں 8 ستمبر کو جلسہ ہو گا۔
ادارے نیوٹرل ہو جائیں کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اِس حکومت کو ادارے لائے ہیں، اداروں کے خلاف نفرت پھیل رہی ہے، حکومت میں نااہل و نکمے اور پنوتی اعظم بیٹھے ہیں، یہ لوگ جس چیز پر ہاتھ ڈالتے ہیں وہ تباہ ہو جاتی ہے۔
وزیرِ اعلٰی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.
فرانس نے بھارت کو رافیل کے بنیادی سوفٹ ویئر و حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، موجودہ شرائط کے مطابق الیکٹرونک و سوفٹ وئیر ساخت پر حتمی کنٹرول فرانس کا رہے گا۔ بھارتی فضائیہ میں سکواڈرنز کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔
The Guardian was entitled to publish Mahrang Baloch’s testimony. But readers should read it for what it is: a partisan account, sharply written and emotionally potent, not a settled version of events.