شیر افضل مروت نے تحریکِ انصاف اور علیمہ خان پر مالی بےضابطگیوں کے سنگین الزامات عائد کر دیئے؛ پی ٹی آئی نے 26 نومبر کے نام پر 38 کروڑ روپے اکٹھے کیے جس کا باقاعدہ کوئی حساب نہیں، فنڈز علیمہ خان اور خدیجہ شاہ کے زیرِ انتظام تھے، وکلاء کو 1 ارب سے زائد روپے دیئے جا چکے، علیمہ خان بشریٰ بی بی کیلئے ایک دن کی مار ہیں۔
پی ٹی آئی نے 12 افراد کا ذکر کیا، ابھی تک شناختی کارڈز، قبریں، ورثاء سامنے نہیں آئے۔ گنڈاپور کے گارڈز نے ورکرز پر فائرنگ کی، ویڈیو سے پتہ لگے گا گولی کس نے چلائی۔ پی ٹی آئی صوبائیت کارڈ کھیل رہی کیونکہ انکے DNA میں آمریت کے جراثیم ہیں۔
عمران خان نے 2014 میں سول نافرمانی کا اعلان کرتے ہوئے عوام کے سامنے بجلی کا بل جلایا اور بجلی کے بل نہ دینے کا کہا، جبکہ ان کے اپنے بنی گالہ گھر میں سولر پینلز لگے ہوئے تھے۔ وہ سیاسی فائدے کے لیے خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ دوسروں کی بیٹیوں اور بیگمات پر اعتراض کرنیوالوں کو اپنی باری آنے پر موروثیت پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔
Imran Khan has declared the launch of a civil disobedience campaign starting 14 December. He calls for the establishment of a judicial commission to investigate the events of 9 May and 26 November, alongside the immediate release of under-trial political prisoners.
عمران خان کا 14 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان۔ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام اور انڈر ٹرائل سیاسی قیدیوں رہائی کا مطالبہ۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔