میری جنرل باجوہ سے دو ملاقاتیں ہوئیں جن میں جنرل باجوہ نے کہا حکومتیں توڑ دو میں الیکشن کروا دونگا۔ جنرل باجوہ نے ہمیں لال بتی کے پیچھے لگا دیا اور ہم نے اس کی بات پر یقین کر لیا۔
تحرک عدم اعتماد کے موقع پر جنرل باجوہ نے ہمیں بلایا اور کہا کہ اگرآپ تحریک عدم اعتماد واپس لے لیں تو میں عمران خان کو استعفی دینے پر راضی کرلونگا جس پر ہم نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا تو اس پر جنرل باجوہ نے کہا کہ پھر میں پانچ منٹ میں مارشل لا لگا سکتا ہوں۔
وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا ریکارڈ کابینہ ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ پر اپلوڈ کردیا ہے۔توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا 466 صفحات پر مشتمل ریکارڈ اپلوڈ کیا گیا،توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور،سابق وزرا اعظم،وفاقی وزرا اور سرکاری افسران کے نام شامل ہیں جن میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز مشرف، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سابق صدر آصف زرداری، صدر ممنون حسین کے نام شامل ہیں۔
پلان اے اور بی کی ناکامی کے بعد مجھے مروانے کیلئے آصف زرداری نے طاقتور ایجنسیوں کے ساتھ مل پلان بنایا ہے اور اس کام کیلئے دہشتگرد تنظیم کو پیسے دیے گئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.