الیکشن کمیشن کی جانب سے وضاحت کی درخواست تاخیری حربہ ہے، الیکشن کمیشن نے فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا تو اسکے سنگین نتائج ہوں گے، واضح معاملہ کو پیچیدہ بنانے کی کوشش مسترد کی جاتی ہے۔
تحریکِ انصاف مخصوص نشستوں کے حصول کی مستحق ہے، تحریکِ انصاف 15 روز میں مخصوص نشستوں کے افراد کی فہرست دے، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن 2024 میں حصہ نہیں لیا، سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی مستحق نہیں۔
آپ کے لاجک کے مطابق آپ کو صفر مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں، الیکشن 2018 کی بات کریں گے تو پورا الیکشن 2018 کھولنا ہو گا، آپ کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا، کیا 2018 کے انتخابات درست تھے؟
آئین میں کیا نہیں اور کیوں نہیں ہے یہ دیکھنا ہمارا کام نہیں، یہاں سے اپنا ویژن قوم پر مسلط کیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ آئین بنانے والوں نے ٹھیک نہیں سمجھا لہذا ہم اپنا ویژن پارلیمنٹ پر مسلط کر رہے ہیں، پاکستان کو ایک بار آئینی راستے پر چلنے دو۔
سپریم کورٹ کا فرض ہے کہ آئین کو مدنظر رکھے، ہم مفروضوں پر نہیں چل سکتے۔ الیکشن کمیشن ایک خودمختار آئینی ادارہ ہے، جو نہ سپریم کورٹ کے ماتحت ہے اور نہ ہی کسی اور کے۔ مداخلت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب الیکشن کمیشن کا کوئی اقدام غیر آئینی ثابت ہو۔ الیکشن کمیشن کی تقرری حکومت اور اپوزیشن کی باہمی رضامندی سے ہوتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ غزہ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تنازعات تک وسعت کی تجویز بھارت کیلئے کشمیر کے حوالہ سے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔