بلاول بھٹو عمران خان ثانی بننے میں مصروفِ عمل ہیں، ان کی تقاریر میں عمران خان کے روایتی انداز کی جھلک دکھائی دیتی ہے، وہ برق رفتاری سے تُو تَڑاق والی زبان بولتے نظر آ رہے ہیں، عمران خان کی پھیلائی پولرائزیشن کے باعث منقسم معاشرہ مزید نفرتوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
مسلم لیگ (ن) سمجھتی ہے کہ انہوں نے میچ فکس کر لیا ہے لیکن 8 فروری کو تیروں کی بارش ہو گی، ہم شیر کا شکار کریں گے اور اشرافیہ سے وسائل لے غریبوں پر خرچ کریں گے، ہم مسلم لیگ (ن) کے ساتھ نہیں چل سکتے۔
نواز شریف کا منشور انکی خدمات اور منصوبے ہیں، مسلم لیگ (ن) صرف اپنی کارکردگی کی بناء پر ووٹ مانگ رہی ہے، مجھے 2018 میں نااہل کیا گیا کیونکہ میں اپنے والد کے ساتھ کھڑی تھی، میں نے نواز شریف کا ساتھ دینا تھا چاہے میری جان چلی جاتی۔
نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم بنے تو ایسا انتقام لیں گے جس کا کسی کو اندازہ نہیں ہے، سیاسی کارکنان اور ادارہ کے لوگوں تک سب سے انتقام لینا نواز شریف کی عادت ہے، مجھے صرف ایک موقع دیں، میں نفرت اور تقسیم کی سیاست ختم کر دوں گا، بلاول بھٹو زرداری۔
نواز شریف نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ملکی معیشت کو سنبھالنے میں بہترین کردار ادا کیا، مسلم لیگ (ن) کے ادوارِ حکومت میں شہریوں کو کم از کم معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، نئی حکومت کو مشکل ترین معاشی چیلنجز کا سامنا ہو گا۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔