The PML(N) and PPP have agreed to form a coalition government at both the federal and Punjab levels, following talks between Shehbaz Sharif and PPP leaders Bilawal Bhutto Zardari and Asif Ali Zardari, aiming to tackle Pakistan's political and economic challenges through unity and collaboration.
اگر آپ سے پتنگ (ایم کیو ایم) کو ووٹ دینے کا کہا جائے تو آپ نے جواب دینا ہے کہ ہم ’را‘ سے پیسے لے کر پاکستان میں سیاست کرنے والوں کو ووٹ نہیں دیتے، وفاق میں ایک جماعت سیاسی انتقام کیلئے نفرت اور تقسیم کی سیاست کر رہی ہے۔
نواز شریف اور عمران خان پرانی سیاست کرنا چاہتے ہیں، میں مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف میں سے کسی کا ساتھ نہیں دینا چاہتا، میاں صاحب کے کردار سے سخت مایوس ہوں، اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کو روکنے کیلئے جدوجہد کرنا پڑے گی۔
ایک شخص کو غلط فہمی ہے کہ وہ چوتھی بار وزیراعظم بن جائے گا، ہم ووٹ کی طاقت سے چوتھی بار والی سازش ناکام بنائیں گے، عمران خان اب کسی صورت وزیراعظم نہیں بن سکے گا، پاکستان کو صرف اور صرف پیپلز پارٹی بچا سکتی ہے۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔