پاکستان کو افغانستان میں اپنی فوجی کارروائی ختم کرنے کی کوئی جلدی نہیں اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک سرحد پار سے پاکستان کو نشانہ بنانے والے گروہ قابلِ تصدیق طور پر غیر مؤثر ثابت نہ ہو جائیں۔
The European Union is moving to freeze progress on a US trade deal following renewed tariff threats, signalling growing political resistance to advancing transatlantic economic cooperation
فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان کے سب سے زیادہ بااختیار آرمی چیف ہیں جنہوں نے مئی میں بھارت کے خلاف جنگ اور وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی روابط کے ذریعہ پاکستان کو دوبارہ جیو پولیٹیکل مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، امریکا پاکستان سے تعلقات مضبوط بنا کر خطہ میں طاقت کا توازن از سرِ نو ترتیب دے رہا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نیا دفاعی معاہدہ بعد از امریکہ دور میں خطے میں ایک نئے عالمی نظام کی شروعات کا عندیہ دے رہا ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف تاریخی سنگِ میل ہے بلکہ مسلم دنیا کی قیادت میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے آنے والے دور کی واضح جھلک بھی پیش کر رہا ہے۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ نے 2024 میں 22 برس کی نسبت بہترین سالانہ منافع کیساتھ تقریباً تمام مارکیٹس کو پیچھے چھوڑ دیا۔ آئندہ برس معاشی حالات میں مزید بہتری، شرح سود و افراطِ زر میں کمی اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔
At a moment when Asia has been pulled towards confrontation and uncertainty, Ishaq Dar has helped place Pakistan at the centre of the diplomatic effort for peace. In the past month, his steady, coalition-building approach has turned Islamabad into a credible channel for dialogue, resulting in the Islamabad Accords.
امریکا ایران موجودہ مذاکرات میں پاکستان واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے فوری جنگ بندی کیلئے دو مراحل پر مشتمل فریم ورک تیار کر لیا جو فریقین کے سامنے پیش کیا جا چکا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر، سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیلئے ڈیڈ لائن میں توسیع اور فریقین کے درمیان براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ امریکی صدر نے منگل تک معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے پاور پلانٹس اور پُلوں کو اڑا دیں گے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔