Pakistan’s economic recovery has gained credibility after the IMF praised stronger than expected growth, improved external balances and the country’s first current account surplus in fourteen years. The Fund notes that reserves are rising and inflation is contained, though climate risks and reform challenges persist.
کوپ 27 و کوپ 28 میں کیے گئے وعدے پورا کرنا ہونگے، پاکستان نے 2022 میں تباہ کن سیلاب کا سامنا کیا جس میں 30 ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا، محفوظ مستقبل کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا، بروقت اقدامات نہ کیے تو آنیوالی نسلیں معاف نہ کریں گی۔
UAE President Sheikh Mohamed bin Zayed at COP29 calls for urgent, unified climate action to drive sustainable growth, while advocating for a balanced energy transition; global leaders are gathering at Baku to reinforce commitments made at COP28, strengthening climate resilience worldwide.
پاکستان معاشی اصلاحات اور مؤثر اقتصادی پالیسیز کی بدولت استحکام کی راہ پر گامزن ہے، آئی ایم ایف پروگرام سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور افراطِ زر میں کمی ہوئی ہے، پاکستان قرضوں کے بھنور سے نجات حاصل کر رہا ہے، آئندہ 5 سالوں کے دوران جی ڈی پی میں ترقی کی شرح 5 فیصد تک پہنچ جائے گی، آئی ایم ایف رپورٹ۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ غزہ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تنازعات تک وسعت کی تجویز بھارت کیلئے کشمیر کے حوالہ سے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔