افغان طالبان رجیم پاکستان اور دہشتگردی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے، پوری دنیا نے افواجِ پاکستان کا فوری، مؤثر اور منہ توڑ ردعمل دیکھا۔ پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارتی کردار ہے۔ افواجِ پاکستان ہر محاذ پر چوکس ہیں۔
There is a certain discipline in Ahmed Sharif’s choice of words as of late. Melodrama is avoided, but denial is not indulged either. If Pakistan is to argue its case internationally, he suggests that it must first lay out its qualms.
Pakistan’s military has described terrorism as the country’s most serious threat, pointing to significant gains in 2025 and warning that any future aggression from India or Afghanistan would trigger a decisive response.
دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے، دہشت گردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ پاکستان سے، اور ریاستی پالیسی واضح، غیر مبہم اور غیر متزلزل ہے۔ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور مستقبل پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور معرکہِ حق میں بھارت کو دیا گیا فیصلہ کن سبق اس عزم کا واضح ثبوت ہے۔
سلطان بشیر الدین محمود پاکستانی نیوکلیئر پروگرام کے اُن معماروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ وہ پاکستان کے پلوٹونیئم پیدوار، ری ایکٹر ڈیزائن اور تھرمل ہائیڈرولک سسٹمز کے ماہرین میں سے ایک اور کنٹرول سسٹم انجینئرز و فزکس دانوں کیلئے راہنما ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.