جنرل فیض حمید جوڈی جی سی تھے میرے پاس آئے اورمجھ سے پوچھا کہ اگر میاں نواز شریف اور انکی بیٹی مریم نواز کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ آپکے پاس آئے گا تو آپ کیا کرینگے میں نے کہا ابھی تو وہاں فیصلہ نہیں ہوا تو جنرل فیض نے کہا کہ اسے چھوڑیں سزا تو ہونی ہی ہے ہم آپ سے ملکی مفاد میں فیصلہ چاہتے ہیں۔
اس ملک کے عوام کے لیے نہ یہ فیصلہ نیا ہے نہ عدالت کی یہ بے انصافی۔ بھٹو کے قتل سے لیکر ہر آمر کے حق میں فیصلے دینے والے آج بھی زندہ ہیں۔ آج بھی ترازو کے پلڑے برابر نہیں۔ آج بھی میزان طاقتوروں کی جانب جھکا ہوا ہے۔
عمران خان کے دورِ حکومت میں بیشتر حکومتی معاملات اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور چلاتے تھے، عمران خان انھی دو لوگوں پر انحصار کرتے تھے کیونکہ یہ عمران خان کیلئے آنکھ اور کان تھے۔
Geo had unfortunately succumbed to pressure from now-retired Generals Faiz and Bajwa to silence Talat Hussain's voice on the network effective-immediately
نواز شریف نے جنرل باجوہ اور فیض حمید کو اسوقت للکارا جب وہ طاقت کے نشے میں چور تھے کوئی نام لینے کی جرات نہیں کرتا تھا جبکہ عمران خان اسوقت للکار رہا ہے جب انکی طاقت ختم ہوچکی ہے جو ایک بزدل کی نشانی ہے۔
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔