حقیقت یہ ہے کہ اپنے چار سالہ دور میں عمران خان نے اصل حکومت ہی فوجی قیادت کو سونپرکھی تھی اور یہ چار سالہ دور وہ بدترین دور تھا جس کے دوران تمام سویلین اداروں میں اہمعہدوں پر کوئی ریٹائرڈ فوجی اپائنٹ کر کے مستحق سویلینز کی حق تلفی کی گئی۔
ایک دہائی تک سیاسی طور پر حزبِ اختلاف میں رہنے کے بعد عمران خان نے قوم پرست ایجنڈا اپنانا شروع کیا اور اسلام پسند اور مغرب مخالف بیانیہ اپناتے ہوئے خود کو ایک متقی مسلمان کے طور پر پیش کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ مغرب زدہ شخص اور ایک پلے بوائے کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔
مریم نواز، صحافی حامد میر، ابصار عالم اور صحافی اسد طور ان لوگوں میں شامل ہیں جو عمران خان اور جنرل (ر) فیض حمید کی جانب سے قاتلانہ سازشوں میں محفوظ رہے۔
کیا اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے پوچھا جائے گا کہ ان کی سرپرستی میں اور انھی کی ناک کے نیچے جنرل (ر) فیض حمید کیسے ان جرائم میں ملوث رہا؟
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔