واشنگٹن میں انڈیا فرسٹ پالیسی کا خاتمہ، سال 2025 انقلابی ثابت ہوا جس میں پاکستان امریکا کا اہم شراکت دار بن گیا۔ جس پاکستان کو واشنگٹن میں مشتبہ اور تزویراتی طور پر محدود سمجھا جاتا تھا، مئی میں بھارت سے جھڑپ کے بعد خطہ کا اہم کھلاڑی سمجھا جانے لگا ہے۔
Pakistan’s top military commander Field Marshal Asim Munir says declarations of jihad belong to the state, alleges attacks are enabled from across the border, and urges Afghanistan to choose between Pakistan and “Fitna al-Khawarij”.
آپریشن بنيان مّرصوص میں اللّٰه کی مدد کو دیکھا گیا جو حق پر قائم رہنے کا ثبوت ہے۔ افغانستان کو فتنہ الخوارج یا پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ علماء انتہا پسندی و گمراہی کے خلاف قوم کی فکری راہنمائی جاری رکھیں۔
Pakistan says no finality exists on a reported US visit by Field Marshal Asim Munir and no decision has been taken on sending troops to Gaza, The Thursday Times confirms.
دہشتگردی ہندوستان کا وطیرہ ہے، ہم دشمن کو چھپ کر نہیں بلکہ للکار کر مارتے ہیں۔ معرکہِ حق میں اللّٰه کی مدد و نصرت سے فتح ملی۔ تمام مسلم ممالک میں سے حفاظتِ حرمین کا شرف پاکستان کو حاصل ہوا، دفاعی معاہدہ تاریخی ہے۔
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔