پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں غیر متوقع بہتری آئی ہے، بھارت کیلئے صورتحال پریشان کن ہے، وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کیلئے کھانے کی دعوت پر ہونے والی ملاقات اہم ثابت ہوئی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات نے خطہ میں سیاسی و سفارتی منظر نامہ بدل کر رکھ دیا، اثرات جنوبی ایشیاء و مشرقِ وسطیٰ میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، امریکا اور پاکستان باہمی تعاون و مشاورت کے نئے باب میں داخل ہو رہے ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ہمارے پاس ترکیہ اور آذربائجان جیسے دوست موجود ہیں۔ ترکیہ اور آذربائیجان حالیہ بھارتی جارحیت کے خلاف کسی ہچکچاہٹ کے بغیر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ بھارت پاکستان کا پانی روکنا چاہتا ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہو گا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.