ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات نے خطہ میں سیاسی و سفارتی منظر نامہ بدل کر رکھ دیا، اثرات جنوبی ایشیاء و مشرقِ وسطیٰ میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، امریکا اور پاکستان باہمی تعاون و مشاورت کے نئے باب میں داخل ہو رہے ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ہمارے پاس ترکیہ اور آذربائجان جیسے دوست موجود ہیں۔ ترکیہ اور آذربائیجان حالیہ بھارتی جارحیت کے خلاف کسی ہچکچاہٹ کے بغیر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ بھارت پاکستان کا پانی روکنا چاہتا ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہو گا۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔